شدید گرمی میں قدرتی ٹھنڈک کا حل: خس کے پردے ایک بار پھر مقبول
شدید گرمی اور لو کے موسم میں جہاں اے سی کا بڑھتا ہوا استعمال بجلی کے بلوں کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے، وہیں قدرتی اور روایتی طریقہ ’’خس کے پردے‘‘ ایک بار پھر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف کم خرچ حل ہے بلکہ گھروں کے ماحول کو قدرتی طور پر ٹھنڈا اور خوشگوار بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔خس ایک خوشبودار گھاس کی جڑوں سے تیار کیے جانے والے یہ پردے اب صرف دیہی یا روایتی گھروں تک محدود نہیں رہے بلکہ جدید طرزِ رہائش میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ ان جڑوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ پانی کو جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث یہ قدرتی ایئر کولنگ سسٹم کے طور پر کام کرتی ہیں۔جب ان پردوں کو گیلا کیا جاتا ہے تو یہ گرم ہوا کو جذب کر کے اسے بخارات میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے کمرے کا درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خس کے گیلے پردے کمرے کا درجہ حرارت تقریباً 5 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے شدید گرمی میں بھی سکون میسر آتا ہے۔توانائی کے ماہرین کے مطابق ان پردوں کے استعمال سے اے سی پر انحصار کم ہو جاتا ہے اور بجلی کے بلوں میں 30 سے 40 فیصد تک کمی ممکن ہے، جو انہیں معاشی طور پر بھی ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔خس کے پردوں کی ایک اور نمایاں خوبی ان کی قدرتی خوشبو ہے۔ پانی کے رابطے میں آنے کے بعد ان کی جڑوں سے ہلکی، مٹی جیسی خوشبو خارج ہوتی ہے جو ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں قدرتی ’’اروما تھراپی‘‘ کا حصہ بھی سمجھا جاتا ہے، جو ذہنی دباؤ اور بے چینی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!