انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش این چندرابابو نائیڈو نے ریاست میں آبادی کی گرتی ہوئی شرح کو روکنے کیلیے بچوں کی پیدائش پر انعامی رقم دینے کا اعلان کیا۔
ایک جلسے سے خطاب میں این چندرابابو نائیڈو نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معاشرہ شرح پیدائش بڑھانے کیلیے مل کر کام کرے، حکومت ایک ماہ کے اندر مزید تفصیلات کا اعلان کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے ایک نیا فیصلہ کیا ہے، ہم تیسرے بچے کی پیدائش پر 30 ہزار اور چوتھے کے جنم 40 ہزار روپے والدین کو دیں گے، کیا یہ صحیح فیصلہ نہیں ہے؟
این چندرابابو نائیڈو کا مذکورہ اعلان دوسرے بچے کی پیدائش پر 25 ہزار روپے دینے کی اس سے پہلے کی تجویز کے بعد سامنے آیا۔ 5 مارچ 2026 کو انہوں نے اسمبلی کو آگاہ کیا تھا کہ ریاستی حکومت دوسرے بچے کی پیدائش پر جوڑوں کو انعامی رقم دینے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم، ریاستی وزیر صحت ستیا کمار یادو نے بعد میں بتایا تھا کہ حکومت نے اس کا دائرہ کار تیسرے اور اس سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
این چندرابابو نائیڈو کا مزید کہنا تھا کہ آمدنی میں اضافے کے ساتھ کچھ جوڑے صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ دیگر جوڑے دوسرا بچہ صرف اسی صورت میں پیدا کرتے ہیں جب ان کی پہلی اولاد لڑکا نہ ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست میں آبادی کے بڑھنے کی شرح کم ہو رہی ہے، آبادی صرف اسی صورت میں مستحکم رہتی ہے جب فی عورت اوسط شرح پیدائش 2.1 بچے ہو۔

سائنس دانوں نے پہلی بار ایک بلیک ہول سے نکلنے والے طاقتور جیٹس کی ریئل ٹائم حیرت انگیز طاقت کی پیمائش کرلی۔
بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اس بلیک ہول سے خارج ہونے والے جیٹس کی توانائی10 ہزار سورج کے برابر ہے۔ جبکہ ان جیٹس کی رفتار تقریباً 54 کروڑ کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی روشنی کی رفتار کے نصف کے برابر ہے۔
زمین سے تقریباً 7200 نوری سال کے فاصلے پر موجود سائگنس ایکس-1 سسٹم نہ صرف ایک بلیک ہول پر مشتمل ہے (جو نصف صدی پہلے دریافت ہونے والا دنیا کا پہلا شناخت شدہ بلیک ہول تھا) بلکہ اس کے ساتھ ایک دیوقامت نیلا ستارہ بھی مسلسل موجود ہے۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے سائنس دان اسٹیو پرابو اور ان کی ٹیم نے یہ نتائج دنیا بھر میں موجود طاقتور دوربینوں کے نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی 18 سالہ ہائی ریزولوشن ریڈیو امیجنگ کی بنیاد پر اخذ کیے۔
اسٹیو کی سربراہی میں یہ تحقیق اس وقت کی گئی جب وہ آسٹریلیا کی کرٹِن یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے۔

امریکی محکمہ جنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلائی مخلوق سے متعلق دہائیوں پرانے خفیہ دستاویزات اور تصاویر عوام کے لیے جاری کر دی گئی ہیں۔ ہم نے سچ سامنے رکھ دیا ہے، اب عوام خود جو چاہیں فیصلہ کر لیں۔ یہ مواد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایک سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے آسمان میں نظر آنے والے پراسرار مناظر سے متعلق نئی فائلوں کا اجرا کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ریکارڈز کے ذریعے عوام کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ خود اس حوالے سے دستیاب معلومات کا جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کریں۔
اس عمل میں صرف محکمہ دفاع ہی نہیں بل کہ وائٹ ہاؤس، قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر، محکمہ توانائی، خلائی تحقیق کا ادارہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی شامل ہیں۔
محکمہ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بعض معلومات کو کم اہم ظاہر کرنے یا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم موجودہ انتظامیہ عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ شفافیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بیان کے مطابق مزید دستاویزات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا عندیہ فروری سے دینا شروع کیا تھا۔ وہ اس سے قبل بھی اہم شخصیات کے قتل سے متعلق ریکارڈز جاری کر چکے ہیں، جن میں سابق صدر جان ایف کینیڈی، سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی اور شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے متعلق دستاویزات شامل ہیں، تاہم ان میں زیادہ تر وہی معلومات سامنے آئیں جو پہلے سے معلوم تھیں۔

سعودی عرب میں حج 2026 کے انتظامات اور سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے جاری کارروائیوں کے دوران مکہ مکرمہ پولیس نے جعلی حج پرمٹ بنانے والے 18 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق گرفتار افراد میں پاکستانی اور افغان شہری شامل ہیں، جن پر جعلی حج پرمٹ، نسک کارڈ اور رسٹ بینڈ (برسلٹ) تیار کرنے کا الزام ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی حج 2026 کے دوران حجاج کرام کی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جاری وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کے تحت غیر قانونی نیٹ ورکس اور جعلسازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور انہیں مزید تفتیش کے لیے پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ حج کے انتظامات میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا جعلسازی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور توانائی خود کفالت کی جانب اہم اقدامات جاری ہیں۔ حکومت نے سندھ میں کیینجھر جھیل پر 500 میگاواٹ فلوٹنگ سولر پاور پروجیکٹ کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔منصوبے کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینا اور درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم کرنا ہے، 243 ملین ڈالر کے اس منصوبے سے سالانہ 861.91 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہونے کی متوقع ہے۔منصوبہ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن ماڈل کے تحت مسابقتی بولی کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔کینجھر جھیل پر فلوٹنگ سولر سسٹم زمین کے استعمال کے بغیر توانائی پیدا کرنے کا جدید حل فراہم کرے گا۔ توانائی کے اس منصوبے سے صنعتی اور شہری علاقوں کو بجلی کی مؤثر ترسیل اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔یہ پیش رفت پاکستان کے 2030 کے ماحولیاتی اہداف اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی بدولت پاکستان توانائی بحران پر قابو پانے اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے اہم اہداف طے کرنے سے متعلق پاکستان کی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ابتدائی ورچوئل مشاورت شروع ہوگئی۔ذرائع وزارتِ خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ حکومتِ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری نہ رکھے بلکہ مالی بوجھ سے بچنے کے لیے توانائی کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کرے۔آئی ایم ایف نے تجویز دی کہ مالی بوجھ سے بچنے کے لیے توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، توانائی اور بجلی کے نرخوں سے متعلق ریگولیٹر اداروں کی تجاویز پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔حکومت کو توانائی، بجلی کے نرخوں سے متعلق ریگولیٹر اداروں کی تجاویز پر عمل کرنے، آئندہ بجٹ میں ٹیکس استثنیٰ، چھوٹ اور رعایتیں کم کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔آئندہ بجٹ کے لیے ٹیکس نیٹ میں توسیع اور اخراجات مزید کم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں سالانہ کم از کم ایک فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ذرائع نے کہا کہ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کر دی گئی۔

درحقیقت یہ مقابلہ دوپہر کو سونے کا ہے۔
جی ہاں واقعی جنوبی کوریا میں 2 مئی کو سیکڑوں افراد سیئول میں اکٹھے ہوئے تاکہ پاور نیپ کانٹیسٹ کا حصہ بن سکیں جس کا مقصد اس ملک میں نیند کی کمی کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرانا ہے۔
دریائے ہان کے کنارے پر واقع پارک میں اس مقابلے کا انعقاد ہوا جس میں ایسے افراد کو شرکت کی دعوت دی گئی جو بہت زیادہ کام کرنے کے عادی تھے اور انہیں سونے کا موقع فراہم کیا گیا۔
سیئول کی مقامی حکومت کی جانب سے تیسرے سال اس دلچسپ مقابلے کا انعقاد کرایا گیا۔
اس مقابلے کا آغاز سیئول کے وقت مطابق دوپہر 3 بجے ہوا اور اس میں شریک افراد کو ہر طرح کے ملبوسات پہن کر آنے کی دعوت دی گئی۔
مقابلے میں شریک ایک 20 سالہ طالبعلم پارک جون سیوک نے بتایا کہ امتحانات کی تیاری اور جزوقتی ملازمتوں کے دوران ہمیں رات میں محض 3 یا 4 گھنٹے سونے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘میں یہاں اپنی قیلولے کی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے آیا ہوں اور دکھانا چاہتا ہوں کہ ایک بادشاہ کیسے سوتا ہے’۔
مقابلے میں شریک 24 سالہ ٹیچر یو می یون نے بتایا کہ ‘میں ہمیشہ بے خوابی کا شکار رہتی ہوں، مجھے سونے اور آسانی سے جاگنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے’۔
مقابلے کے آغاز میں لوگ پارک میں مختلف مقامات پر آنکھوں پر ماسکس یا چشمے پہن کر لیٹ گئے جبکہ آفیشلز کی جانب سے دل کی دھڑکن کی رفتار کا تجزیہ کیا گیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون افراد گہری نیند کے مزے لوٹنے میں کامیاب ہوئے۔
اس مقابلے کے ذریعے جنوبی کوریا کے ایک بڑے سماجی مسئلے پر روشنی ڈالی گئی کیونکہ جنوبی کوریا کو دنیا میں نیند کی کمی کے شکار بڑے ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔
اس سال یہ مقابلہ ایک ایسے شخص نے جیتا جس کی عمر 80 سال سے زائد تھی۔
ایک 37 سالہ آفس ورکر ہوانگ ڈو سیونگ دوسرے نمبر پر آیا جس کا کہنا تھا کہ وہ یہاں نائٹ شفٹ کے بعد تھکا ہوا آیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ انہوں نے آخرکار ہماری کہکشاں مِلکی وے کے کنارے کا تعین کر لیا ہے اور یہ سب ایک لاکھ ستاروں کے حیران کن تجزیے کے بعد ممکن ہوا۔
یونیورسٹی آف مالٹا کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق یہ حد کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 40 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے محققین نے ایک لاکھ سے زائد ستاروں کی عمر اور مقام کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جس سے کہکشاں کی ارتقائی تاریخ کا ایک دلچسپ پیٹرن سامنے آیا۔
مرکز کے قریب موجود ستارے زیادہ قدیم ہیں، جبکہ باہر کی جانب جاتے ہوئے ستارے نسبتاً کم عمر ہوتے جاتے ہیں لیکن ایسا صرف ایک خاص حد تک ہوتا ہے اس کے بعد یہ رجحان الٹ جاتا ہے۔
یہی ’خاص نقطہ‘ دراصل اس علاقے کی حد ہے جہاں تک نئی ستاروں کی تخلیق فعال رہتی ہے اور اس کو ہی ملکی وے کا حقیقی کنارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ ستاروں کی پیدائش کے عمل میں چھپی ہے۔ مرکز کے قریب گیس اور گرد کے گھنے بادلوں نے ابتدائی دور میں تیزی سے ستارے بنائے، جس سے وہاں پرانے ستاروں کی کثرت ہے۔ جبکہ دور دراز علاقوں میں یہی مواد کم مقدار میں پایا جاتا ہے، جس کے باعث ستاروں کی تشکیل سست پڑ جاتی ہے اور وہاں نسبتاً کم عمر ستارے موجود ہیں۔

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے، شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ درپیش ہے، اس سلسلے میں محکمہ موسمیات کی جانب سے الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق 3 مئی 2026 سے ایک معتدل مغربی لہر پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے کی توقع ہے۔
اس دوران گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر بارش، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں اچانک اضافے کے بعد اس نوعیت کی بارشیں معمول کا حصہ ہوتی ہیں، تاہم یہ صورتحال گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ، ملبے کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔ خاص طور پر ہوپر، غلکین، ششپر، یاسین، پھنڈر، بڈسوات، لوئر ہنزہ، نگر، گھانچے، دیر اور دیر بالا جیسے علاقے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔
حکام نے برفانی وادیوں میں رہنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران ندی نالوں اور دریا کے کناروں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ مقامی ندیوں میں پانی کے رنگ میں اچانک تبدیلی یا غیر معمولی آوازوں جیسے پتھروں کے ٹکرانے کی صورت میں فوری احتیاط برتی جائے اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔
مزید ہدایت کی گئی ہے کہ مویشیوں اور ضروری اشیا کو بلند اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کمیٹیوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام 24 گھنٹے چوکس ہیں اور دور دراز علاقوں میں تکنیکی فوکل پرسنز کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ جانی و مالی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔

دبئی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے پراپرٹی ویزا قوانین میں اہم نرمی کا اعلان کرتے ہوئے جائیداد خریدنے پر 2 سالہ رہائشی ویزا حاصل کرنا مزید آسان بنا دیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت اب سنگل مالک کیلئے مقررہ کم از کم قیمت کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکام کے مطابق اب مشترکہ پراپرٹی کی صورت میں بھی رہائشی ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ہر سرمایہ کار کا حصہ کم از کم 4 لاکھ درہم ہونا ضروری ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور پراپرٹی مارکیٹ کو مزید متحرک کرنا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 2 سالہ انویسٹر ویزا کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور قابل رسائی بنایا گیا ہے، جبکہ دیگر طویل مدتی ویزوں کی شرائط بدستور برقرار ہیں۔ 5 سالہ ریٹائرمنٹ ویزا کیلئے کم از کم 10 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری اور عمر کی حد 55 سال مقرر ہے۔
اسی طرح 10 سالہ گولڈن ویزا کے حصول کیلئے 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری لازمی قرار دی گئی ہے۔ گولڈن ویزا ہولڈرز کو فیملی اور گھریلو ملازمین کی اسپانسرشپ کی سہولت بھی حاصل ہوگی، جبکہ وہ متحدہ عرب امارات سے باہر رہ کر بھی اپنے ویزا کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نئی پالیسی سے دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں مزید تیزی آئے گی اور عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔