سندھ کے مختلف اضلاع میں کراچی سمیت منگل کی شب آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔کئی شہروں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ درخت گرنے، سولر پلیٹیں اڑنے اور بجلی کی تاریں ٹوٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔کراچی کے بھی مختلف علاقے مٹی کے طوفان سے متاثر ہوئے جن میں اسکیم 33 شادمان ٹاؤن ملیر اورنگی ٹاؤن بلدیہ گلشن معمار گلشن اقبال شاہ فیصل کالونی بحریہ ٹاؤن بفر زون ناظم اباد اور فیڈرل بی ایریا شامل ہیں لیکن طوفان کی شدت میں کمی کی وجہ سے نقصانات نہ ہونے کے برابر تھے۔نوابشاہ، شاہ پور چاکر اور گرد و نواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ مٹی کا طوفان اور بارش ہوئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور کئی روز سے جاری شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔شہریوں نے بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کا خیرمقدم کیا تاہم بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔حیدرآباد اور اس کے اطراف میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ آندھی نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا۔ آندھی کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی تاہم بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا
ملک میں جعلی ادویات کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے وزارت صحت نے اہم اقدام کرتے ہوئے ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری حاصل کر لی ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے اور اس مقصد کے لیے ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال اور قیمت سے متعلق مستند معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔مصطفیٰ کمال کے مطابق نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔ یہ اہم فیصلہ پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور اس سے ملک میں ادویات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی اور پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والے نمایاں ممالک میں شامل ہو سکے گا۔مصطفی کمال نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا، جس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔وزیر صحت نے مزید بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں
حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی
پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ناراض اراکین اسمبلی کی پشاور میں ہونے والی اہم بیٹھک تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہی، جس میں 22اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔اجلاس میں شریک ایک ممبر نے جنگ کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کا گروپ سے کوئی تعلق نہیں، ہمیں جان بوجھ کر ان کے ساتھ جوڑا جارہا ہے، اجلاس میں صوبے کی سیاسی صورتحال، حکومتی کارکردگی، پارٹی معاملات اور اراکین کے تحفظات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے اختتام پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو باقاعدہ خط کے ذریعے صوبے میں گورننس کی خراب صورتحال، بدعنوانی کے الزامات، امن و امان کے مسائل اور عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک نہ چلانے جیسے معاملات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس میں شریک اراکین نے اسد قیصر کی سربراہی میں قائم چھ رکنی کمیٹی سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ وزیراعلیٰ کے پی ناراض ایم پی ایز کو منانے کیلئے متحرک، ارکان سے رابطے تیز کردیے،پی ٹی آئی کے متعدد ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سے ناخوش، ناراض ارکان کا جلد اجلاس بلائے جانےکا امکان ہے شرکاء نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے معاملات اور تحفظات کے حوالے سے صرف بیرسٹر گوہر علی خان سے براہِ راست ملاقات اور بات چیت کریں گے اور کسی دوسری کمیٹی یا فورم کے ذریعے مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں۔اجلاس میں شریک اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پارٹی کے اندر موجود مسائل اور اختلافات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بھی متعدد سوالات اور تحفظات موجود ہیں جنہیں مرکزی قیادت کے سامنے رکھا جائے گا۔دو روز بعد ناراض اراکین کا ایک اور اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں میں مزید اراکینِ اسمبلی بھی شریک ہوں گے۔ایک ناراض رکن نے جنگ کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کا اس گروپ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ علی امین اس اجلاس میں شریک تھے ۔ انھوں نے کہاکہ گروپ کے اراکین کو جان بوجھ کر علی امین کے ساتھ جوڑا جارہا ہے
بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی نادرا کا ایس ایم ایس سسٹم فعال ہوگیا، والدین کو فوری برتھ نوٹیفکیشن موصول ہوگا۔
نادرا نے بچوں کی پیدائش کے فوری اندراج اور قانونی شناخت کے عمل کو تیز اور آسان بنانے کے لیے “برتھ نوٹیفکیشن ٹول” متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اسپتال میں بچے کی پیدائش ہوتے ہی والدین کو ایک ایس ایم ایس موصول ہوگا۔
نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں قانونی شناخت کا عمل پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ماضی میں یہ عمل تاخیر سے شروع ہوتا تھا۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے نادرا نے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے تعاون سے برتھ نوٹیفکیشن سسٹم متعارف کروایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال یا طبی مرکز میں بچے کی پیدائش کے فوری بعد والدین کے موبائل فون پر ایک ایس ایم ایس بھیجا جاتا ہے جو بعد ازاں یونین کونسل میں پیدائش کے اندراج کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے۔
ترجمان نادرا کے مطابق بچے کی رجسٹریشن کا پہلا مرحلہ یونین کونسل میں برتھ سرٹیفکیٹ کا اجرا ہے، جو بعد کی تمام سرکاری رجسٹریشنز کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
والدین اپنے شناختی کارڈ اور اسپتال کی پیدائشی پرچی یا برتھ نوٹیفکیشن ایس ایم ایس کے ذریعے یہ عمل مکمل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب کے شہری “پاک آئیڈینٹیٹی” ایپ کے ذریعے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں مرحلہ وار توسیع جاری ہے اور خیبرپختونخوا میں اجازت کا انتظار ہے۔
نادرا حکام کے مطابق یونین کونسل رجسٹریشن کے بعد بچے کا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی) یا عام زبان میں ’ب فارم‘ بنوانا ضروری ہے۔
تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے نادرا سینٹر آنے کی ضرورت نہیں، جبکہ تین سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تصویر اور بعد ازاں بائیومیٹرک معلومات بھی درکار ہوں گی۔
سید شباہت نے وضاحت کی کہ نادرا نے سی آر سی کو تین مختلف مراحل میں تقسیم کیا ہے 3سال سے کم عمر بچوں کے سی آر سی کی معیاد تین سال ہوگی، جبکہ دس سال کی عمر کے بعد بائیومیٹرک معلومات لازمی قرار دی جائیں گی۔ 18 سال کی عمر مکمل ہونے پر سی آر سی ختم ہوجائے گا اور قومی شناختی کارڈ بنوانا ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’جووینائل کارڈ‘ دراصل بے فارم کی کارڈ شکل ہے، جسے تعلیمی اداروں اور دیگر تنظیموں کی درخواست پر متعارف کروایا گیا، اس کی قانونی حیثیت وہی ہے جو سی آر سی یا بے فارم کی ہے۔
ب فارم (بچے کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ) بنوانے کے لیے یونین کونسل سے بچے کا پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کریں پھر والدین اپنے اصل شناختی کارڈز اور بچے کے ہمراہ قریبی نادرا سینٹر جائیں۔
اس کے علاوہ والدین نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی ب فارم یا رجسٹریشن کیلیے آن لائن بھی درخواست دے سکتے ہیں۔
بجلی صارفین کیلئے ایک اور مالی بوجھ کی تیاری کر لی گئی ہے،جہاں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی نے نیپرا میں درخواست پر سماعت آج ہوگی,بجلی کی قیمت میں 1 روپے 72 پیسے یونٹ کے بڑے اضافے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،
نیپرا،سی پی پی اے کی اپریل کیلئےفیول پرائس کی درخواست پر سماعت کرے گا،اضافے کی صورت میں اطلاق کےالیکٹرک سمیت تمام ڈسکوزکےصارفین پر ہوگا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔انہوں نے کہا کہ چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دیا جائے، اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا، طلبہ کو اسکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20، 0 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو میں ہر دوسرے، تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور چاہوں گا کہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں ان کی تکمیل ہوتے ہوئے دیکھوں۔انہوں نے کہا کہ یہاں کہا جا رہا ہے کہ ہمیں این ایف سی سے حصہ ملنا چاہیے، ہم نے اس سلسلے میں 2017 میں ایک کمیٹی بنائی تھی، اس کے بعد ہمیں نکال دیا گیا، اس وقت کمیٹی نے سفارشات مرتب کیں تھیں جنہیں ہم نے عملی جامہ پہنانا تھا، اس کا مطلب یہ کام اسوقت ہوگیا ہوتا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔انہوں نے پوچھا کہ مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہےکہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کے دورہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمن، کاظم پیرزادہ بھی نواز شریف کے ہمراہ ہیں۔گلگت پہنچنے پر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، سابق وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر پارٹی راہنمائوں نے پارٹی صدر کا استقبال کیامحمد نواز شریف پارٹی راہنمائوں اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے والے پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے
شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہو گئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے کے وقت کمرے کے ملبے تلے 7 بچے دب گئے تھے، جس کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ریسکیو آپریشن جاری رکھا
حکام کے مطابق فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام بچوں کو ملبے سے نکال لیا گیا، تاہم افسوسناک واقعے میں 6 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچی کو معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق بچی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 شانگلہ انجینئر ملک شیر دل خان کی زیر نگرانی امدادی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔ ٹیموں نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے آپریشن انجام دیا اور ملبے تلے دبے تمام بچوں کو نکالا۔
رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پاکستان میں محرم الحرام کے چاند سے متعلق پیشگوئی کردی۔
رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق نیا چاند 15 جون 2026 کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 54 منٹ پر پیدا ہوگا۔
تاہم اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 12 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی۔
خالد اعجاز مفتی نے کہا کہ ہلال کی رویت کے لیے عموماً چاند کی عمر 18گھنٹے سے زائد ہونا ضروری سمجھی جاتی ہے لہٰذایکم محرم الحرام بدھ 17 جون کو ہونے کا امکان ہے۔
ملک میں گدھوں کی تعداد مزید اضافہ ہوگیا۔ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد میں مزید ایک لاکھ 13 ہزار کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد گدھوں کی تعداد60 لاکھ47 ہزارسےبڑھ کر 61 لاکھ 60 ہزار ہوگئی ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہےکہ ایک سال میں بھینسوں کی تعداد میں14لاکھ17ہزارکا اضافہ ہوا جس کے بعد بھینسوں کی تعداد4 کروڑ 76 لاکھ 88 ہزارسے بڑھ کر 4کروڑ 91 لاکھ5 ہزار ہوگئی۔ ایک سال میں بھیڑوں کی تعداد میں 3لاکھ92 ہزار، بکریوں کی تعداد میں 24 لاکھ22 ہزار اور اونٹوں کی تعداد میں 16 ہزارکا اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ایک سال میں گھوڑوں کی تعداد میں 3 ہزار اور خچروں کی تعداد میں4 ہزارکااضافہ ہوا










