بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی پہلی فلم میں شامل بولڈ مناظر نے ان کے والدین کو خاصی پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔اداکارہ کے مطابق ان کے قدامت پسند خاندان کے لیے فلمی دنیا کو قبول کرنا آسان نہیں تھا اور ابتدا میں ان کے کام کو شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ایک حالیہ انٹرویو میں کنگنا رناوت نے اپنی ڈیبیو فلم ’’گینگسٹر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2006 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں ان کے چند جرات مندانہ مناظر بھی شامل تھے۔ فلم دیکھنے کے بعد ان کے والد کا ردعمل غیر متوقع تھا کیونکہ انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا اور مکمل خاموشی اختیار کرلی۔کنگنا کے مطابق جب انہوں نے اپنی والدہ سے فلم کے بارے میں رائے پوچھی تو والدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر ابھی بہت کم تھی اور فلم میں ان سے ایسے مناظر کروائے گئے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس جواب نے انہیں مایوس کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی والدہ پوری فلم اور ان کی اداکاری کو دیکھیں گی، لیکن ان کی توجہ صرف انہی مناظر پر مرکوز رہی۔اداکارہ نے کہا کہ اس وقت ان کے والدین کو فلم کی کہانی یا ان کی فنی صلاحیتوں سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ معاشرہ اور برادری کے لوگ اس بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ ان کے بقول وہ ایک تعلیم یافتہ اور سرکاری افسران کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں فلمی دنیا کو زیادہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔کنگنا رناوت نے مزید بتایا کہ ان کے گھر میں فلمی شخصیات سے متعلق خبروں کو بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کبھی رنگین اخبار گھر آتا تو والدین فلمی ستاروں کی تصاویر والے صفحات الگ کر دیتے اور صرف باقی اخبار پڑھتے تھے۔اداکارہ کے مطابق 1990 اور 2000 کی ابتدائی دہائی میں فلم انڈسٹری کے بارے میں کئی منفی تصورات پائے جاتے تھے۔ اس دور میں انڈر ورلڈ سے مبینہ روابط اور دیگر تنازعات کی خبریں عام تھیں، جس کے باعث ان کے والدین بھی فلمی دنیا کے حوالے سے اچھا تاثر نہیں رکھتے تھے۔کنگنا نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ان کے مطابق جب انہیں حکومت کی جانب سے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا تو ان کے والدین کو پہلی بار ان کے انتخاب پر فخر محسوس ہوا۔ بعد ازاں پدما شری جیسے بڑے سول اعزاز کے حصول نے ان کا نظریہ مکمل طور پر بدل دیا۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان اعزازات کے بعد ان کے والدین کو احساس ہوا کہ فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی عزت، وقار اور ملک کی خدمت کے اعتراف میں بڑے اعزازات حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور یہی وہ مرحلہ تھا جب انہوں نے ان کے کیریئر کو دل سے قبول کیا۔
بالی وڈ اداکارہ بھومی پڈنیکر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بچپن میں اداکار عمران خان کو بہت پسند کرتی تھیں۔ایک دہائی تک اداکاری سے دور رہنے کے بعد عمران خان نیٹ فلکس کی آنے والی فلم ’ادھورے ہم، ادھورے تم‘ کے ذریعے کم بیک کر رہے ہیں جس میں ان کے مقابل بھومی پڈنیکر جلوہ گر ہوں گی۔بھارتی میڈیا کو ایک انٹرویو میں 37 سالہ بھومی پڈنیکر نے عمران خان کے ساتھ کام کرنے کے تجربے پر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ ان کی بہت پہلے سے مداح رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں عمران خان میرے کرش تھے۔اداکارہ نے عمران خان کے ساتھ اپنی نئی فلم کے بارے میں بتایا کہ آج کل ویسی رومانوی کامیڈی فلمیں کم ہی بنتی ہیں، جب میں نے اس فلم کی کہانی پڑھی تو مجھے فوراً پسند آگئی، یہ ایک نفیس اور نہایت دلکش محبت کی کہانی ہے۔اداکارہ بھومی اس سے قبل بھی کئی بار عمران کی اداکاری کی تعریف کر چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جن اداکاروں کو وہ نوجوانی میں پسند کرتی تھیں، آج ان کے ساتھ اسکرین شیئر کرنا ایک خوشگوار اور یادگار تجربہ ہے
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی شادی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ’دعائے خیر‘ کی پروقار تقریب سے ہو گیا ہے، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز منعقد ہونے والی اس نجی تقریب میں صرف قریبی رشتے داروں اور خاص دوستوں کو مدعو کیا گیا تھا۔
اس موقع پر مومنہ اقبال نے سنہرے اور ہلکے گلابی (ٹی پنک) رنگ کا نہایت خوبصورت غرارہ زیب تن کیا جس پر دبکے کا نفیس کام کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ان کے شوہر حمزہ حبیب بھی اہلیہ کے لباس کی مناسبت سے ہلکے گلابی رنگ کے شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ میں انتہائی وجیہہ دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر اس تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ تصاویرمیں اس نوبیاہتا جوڑے کو اپنی نئی زندگی کے آغاز پر خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ہالی وڈ کی نئی فلم ”بیک رومز“ سینما گھروں میں تہلکہ مچا رہی ہے۔ اس فلم کی کہانی ہمیں ایک ایسے نامعلوم اور پراسرار سفر پر لے جاتی ہے جہاں خالی اور ویران جگہیں انسان کے لیے سب سے بڑا خوف بن جاتی ہیں۔ اس فلم نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈرانے کے لیے کسی بھوت یا چڑیل کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک عام سی خالی عمارت بھی سب سے بڑی ولن بن سکتی ہے۔
کہانی کلارک نامی ایک شخص کے گرد گھومتی ہے جو پہلے ماہر تعمیرات ہوتا ہے اور اب فرنیچر کے ایک اسٹور کا مالک ہے۔ ایک دن اسے اپنے شو روم کے تہہ خانے میں ایک پراسرار اور نہ ختم ہونے والے کمروں کی دنیا کا راستہ مل جاتا ہے۔
جب وہ یہ بات اپنی ماہر نفسیات ڈاکٹر میری کلائن کو بتاتا ہے، تو اس کی زبانی ایک سادہ مگر خوفناک جملہ ادا ہوتا ہے کہ مجھے ایک جگہ ملی ہے۔
یہ عام سا جملہ فلم میں یہ ایک خوفناک تعمیراتی دہشت کا خلاصہ بن جاتا ہے۔ یہ فلم ہمیں دفاتر، بند پڑے شاپنگ مالز اور ایسی عجیب و غریب جگہوں پر لے جاتی ہے جو انسان کو ایک عجیب سی الجھن میں ڈال دیتی ہیں۔
فلم کے ڈائریکٹر کین پارسنز کہتے ہیں کہ ہم صدیوں سے صنعت کاری کے ایک ایسے چکر میں پھنس رہے ہیں جہاں ہر چیز ایک جیسی لگنے لگی ہے، اور ہم اس ایک جیسے ماحول میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ اس یکسانیت کو دکھانے کے لیے دفاتر میں استعمال ہونے والی عام چھتوں (ڈراپ سیلنگ) سے بہتر شاید کوئی اور علامت نہیں ہو سکتی۔
فلم میں کلارک اور اس کی ڈاکٹر ان کمروں کی بھول بھلیوں میں پھنس جاتے ہیں اور مزید گہرائی میں چلے جاتے ہیں۔ فلم کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا ان کمروں کو کون چلا رہا ہے، دروازوں کے پیچھے کیا ہے، اور یہ سب کس قانون کے تحت چل رہا ہے۔ کلارک ان کمروں کا نقشہ بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔
اس روزمرہ کی بوریت اور ڈر پر بات کرتے ہوئے ماہر تعمیرات دیمجان جووانووک کہتے ہیں کہ یہ اس احساس کا نام ہے جو فائلوں اور کاغذی کارروائیوں سے بنی دنیا میں رہنے سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کہانیوں سے۔
آخر میں، ماہر تعمیرات یوہانی پالاسما کی بات اس فلم پر بالکل سچ ثابت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فن تعمیر کے تخلیقی مراحل بنیادی طور پر انسان کے دماغ میں بننے والی جگہیں ہیں۔ عمارتوں کا ڈیزائن بھی ہمارے تصورات کو ایک اور ہی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔
بیک رومز اسکرین پر ایک ایسی ہی عمارت کھڑی کرتی ہے جو دیکھنے والوں کو ایک پراسرار اور خوفناک دنیا میں لے جاتی ہے۔
بولی وڈ کے مشہور فلم ساز کرن جوہر نے سوشل میڈیا پر شاہ رخ خان، عالیہ بھٹ اورکرینہ کپور سمیت کئی قریبی دوستوں اور اداکاروں کو ان فالو کر دیا ہے۔ ان کے اس قدم نے مداحوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا لیکن اب انہوں نے خود اس کی وجہ بتا دی ہے۔
کرن جوہر نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کی اور اپنی حالیہ انسٹاگرام سرگرمی کے حوالے سے تمام افواہوں کو ختم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس پلیٹ فارم پر خرچ ہونے والے اپنے وقت اور توانائی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسٹوری میں واضح کرتے ہوئے کرن نے لکھا کہ یہ ایک ڈیجیٹل ڈیٹوکس ہے۔ میں انسٹاگرام پر اپنا وقت اور توانائی کم کرنے کے لیے سب کو ان فالو کر رہا ہوں۔ خدا کے واسطے یہ کوئی قومی خبر نہیں ہو سکتی، براہ کرم خبروں کے لیے کسی اور چیز کا انتخاب کریں۔ یہ بالکل غیر اہم بات ہے۔
جمعرات کو انٹرنیٹ صارفین نے یہ بات محسوس کی کہ انسٹاگرام پر کرن جوہر کے فالوورز کی تعداد تو ایک کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ ہے لیکن اب ان کی فالونگ لسٹ میں صرف 78 لوگ باقی رہ گئے ہیں۔
مداحوں نے فوراً اس بات پر غور کیا کہ فلم ساز نے کئی قریبی دوستوں اور بولی وڈ اداکاروں کو ان فالو کر دیا ہے جن میں شاہ رخ خان، عالیہ بھٹ، کرینہ کپور خان اور منیش ملہوترا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ورون دھون، سدھارتھ ملہوترا، ملائکہ اروڑا اور اننیا پانڈے بھی اب ان کی فالونگ لسٹ میں نظر نہیں آ رہے۔
کرن نے اداکار کارتک آریان کو بھی ان فالو کر دیا ہے، حالانکہ کارتک ان کی آنے والی فلم ’ناگ زیلا‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ہیں۔
صارفین نے بعد میں یہ بھی دیکھا کہ کرن جوہر اب انسٹاگرام پر کسی بھی بولی وڈ اداکار کو فالو نہیں کر رہے۔ ان کی فہرست میں اب جو بڑے نام شامل ہیں ان میں دھرما کے سی ای او اپوروا مہتا اور ان کے کاروباری شراکت دار ادار پونا والا شامل ہیں اور یہ دونوں ان کے کام سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ معروف اداکارہ پریانکا چوپڑا کو فالو کر رہے ہیں۔
صارفین نے بعد میں یہ بھی دیکھا کہ کرن جوہر اب انسٹاگرام پر کسی بھی بولی وڈ اداکار کو فالو نہیں کر رہے۔ ان کی فہرست میں اب جو بڑے نام شامل ہیں ان میں دھرما کے سی ای او اپوروا مہتا اور ان کے کاروباری شراکت دار ادار پونا والا شامل ہیں اور یہ دونوں ان کے کام سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ معروف اداکارہ پریانکا چوپڑا کو فالو کر رہے ہیں۔
کرن جوہر طویل عرصے سے سوشل میڈیا پر بولی ووڈ کی سب سے متحرک شخصیات میں سے ایک رہے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی، خاص طور پر اپنے بچوں یش اور روہی کے بارے میں مداحوں کو آگاہ رکھتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2022 میں بھی کرن نے ایکس چھوڑ دیا تھا اور اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف مثبت توانائیوں کے لیے جگہ بنا رہے ہیں اور یہ اس سمت میں ان کا پہلا قدم ہے۔
وہ آن لائن تنقید اور ٹرولنگ کے حوالے سے کئی بار کھل کر بات کر چکے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کا بھی ذکر کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب اگر کرن جوہر کے کام کی بات کی جائے تو ان کی پروڈکشن میں بننے والی نئی فلم ’چاند میرا دل‘ حال ہی میں سینما گھروں کی زینت بنی ہے۔
لکشیا اور اننیا پانڈے کی اس فلم کو ملے جلے تبصرے ملے ہیں اور باکس آفس پر اس کی کارکردگی خاصی سست رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک یہ فلم بھارت میں بمشکل 20 کروڑ روپے ہی کما سکی ہے۔
پنجاب کے ضلع سمبڑیال میں معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر عیدالاضحیٰ کے موقع پر تھانہ بیگووالہ کے علاقے موضع کوٹلی کھوکھراں آئے تھے، جہاں مبینہ طور پر سرور چوڑ اور صفدر نے انہیں شربت پلایا، جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔
حکیم بابر کو علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سمبڑیال منتقل کیا گیا، پولیس کے مطابق صفدر اور سرور چوڑ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ متاثرہ شخص کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
حکیم بابر نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں ملزمان نے ٹک ٹاک پر ان کی شہرت سے حسد کی وجہ سے یہ اقدام کیا۔ تاہم ایم ایس ٹی ایچ کیو سمبڑیال کے مطابق ابتدائی طبی معائنے میں زہر کے شواہد نہیں ملے۔
ایم ایس کے مطابق حکیم بابر کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کے رہائشی حکیم بابر کوٹلی کھوکھراں میں دعوت پر آئے تھے، جبکہ صفدر اور علی کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی مقبول اداکارہ ہانیہ عامر نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔ ہانیہ عامر کو معروف کاروباری اور عالمی جریدے فوربس کی ’’30 انڈر 30 ایشیا 2026‘‘ فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے، جہاں انہیں انٹرٹینمنٹ اور اسپورٹس کیٹیگری میں نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔
فوربز کی جانب سے ہر سال جاری کی جانے والی یہ فہرست ایشیا بھر کے اُن نوجوان افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جن کی عمر 30 برس سے کم ہو اور جنہوں نے اپنے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہوں۔ اس سال کی فہرست میں ہانیہ عامر کے ساتھ پاکستانی فلم ساز سمن کامران کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔
ہانیہ عامر گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ حال ہی میں وہ 2 کروڑ سے زائد فالوورز کے ساتھ انسٹاگرام پر پاکستان کی سب سے زیادہ فالو کی جانے والی خاتون شخصیت بن گئی ہیں، جو ان کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری جانب فلم ساز سمن کامران کو بھی فوربس کی اس باوقار فہرست میں جگہ ملی ہے۔ ان کے کام کا محور عموماً سماجی اور ماحولیاتی مسائل ہوتے ہیں۔ ان کی مختصر فلم The Bed She Made پاکستان کی واحد فلم تھی جسے بوسن انٹرنیشنل شارٹ فلم فیسٹیول کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں فلم میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور تولیدی صحت سے متعلق مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔ سمن اس سے قبل فلم ’’عمرو عیار: ایک نئی شروعات‘‘ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
پاکستان میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی اور شوبز شخصیات نے بھی اس تہوار کو خاص انداز میں منایا۔متعدد اداکاراؤں اور فنکاروں نے عید کے دوسرے دن اپنی خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں ان کے دلکش ڈیزائنر ملبوسات توجہ کا مرکز بنے رہے۔کچھ فنکار اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہم رنگ لباس میں نظر آئے جسے مداحوں نے بے حد پسند کیا۔سوشل میڈیا پر پاکستانی شوبز ستاروں کی عید سیلیبریشن کی تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور مداح ان کے انداز کو خوب سراہ رہے ہیں
اداکارہ مومنہ اقبال رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے ساتھ تنازع کا شکار اداکارہ مومنہ اقبال شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔اداکارہ مومنہ اقبال نے حمزہ حبیبی سے نکاح کیا ہے جس کی تصدیق حمزہ حبیبی نے لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے حمزہ حبیبی نے کہا کہ میں مومنہ کا ہونے والا شوہر نہیں بلکہ شوہر ہو چکا ہوں، ہم نے دو روز قبل نکاح کرلیا ہے، مومنہ میری ریڈ لائن میری عزت ہے۔انہوں نے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ مومنہ کو ہراساں کر رہے تھے، اور یہ اس لیے دخل دے رہے تھے کیونکہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مومنہ کی کہیں بھی شادی ہو، ثاقب اور ان کی اہلیہ کا یہی طریقہ رہا ہے جہاں بھی مومنہ کا رشتہ ہونے والا ہوتا تھا وہاں یہ فون کرکے اس کی کردار کشی کرتے تھے اور مومنہ کا رشتہ ختم کروا دیتے تھے۔حمزہ کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی فون کال کرکے اداکارہ کی کردار کشی کی گئی اور الزام لگائے گئے، جب ثاقب چدھڑ کو لگا کہ میں اس کی باتوں کو مسترد کروں گا اور کوئی رابطہ نہیں رکھوں گا تو میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔واضح رہے اداکارہ کے کیس کی پیروی ان کی بہن رمشا اقبال کر رہی ہیں جو کہ پیشے سے وکیل ہیں۔ رمشا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اداکارہ مومنہ کا 1 جون کو نکاح ہونے والا ہے، یہ شادی خاندان کی رضا مندی سے طے ہوئی ہے اور مومنہ کے ہونے والے شوہر ہمارے رشتے دار نہیں ہیں
پاکستانی اداکار بلال عباس خان اور اداکارہ درفشاں سلیم کی شادی کی افواہیں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جس سے مداحوں میں کافی جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔یہ افواہیں اس وقت زور پکڑ گئیں جب 30 سالہ بلال عباس نے مکہ مکرمہ سے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز شیئر کیں۔کئی انسٹاگرام پیجز نے دعویٰ کیا کہ دونوں اداکار حج کرنے کے لیے مکہ میں موجود ہیں اور ممکنہ طور پر پہلے ہی نکاح کر چکے ہیں۔ہفتے کے آخر میں یہ خبریں تیزی سے پھیلیں اور کئی فین پیجز سمیت دیگر اکاؤنٹس نے اس جوڑے کے سعودی عرب میں دیکھے جانے کی خبریں شیئر کیں۔کچھ پوسٹس میں تو یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بلال اور درفشاں پہلے ہی ’نکاح‘ کر چکے ہیں مگر نہ تو بلال عباس نے اور نہ ہی درفشان نے اس بارے میں کوئی ردعمل دیا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب دونوں اداکاروں کی شادی کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔اس سے قبل 2025 میں بھی دونوں کے بارے میں یہ افواہیں گردش کرتی رہی ہیں جن پر درفشاں سلیم نے رد عمل میں کہا تھا کہ میں ایسی افواہوں پر خاموش رہ کر جواب دیتی ہوں










