نامور اداکارہ و میزبان حنا الطاف نے ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے خوفناک اور غیر محفوظ تجربے سے متعلق انکشاف کیا ہے۔اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے بتایا کہ شوٹنگ کے سیٹ پر موجود ایک شخص نے مجھے شدید غیر محفوظ اور بے حد غیر آرام دہ محسوس کروایا۔حنا الطاف کے مطابق جیسے ہی اس شخص نے مجھ سے بات کی، مجھے فوراً اندازہ ہو گیا کہ صورتحال محفوظ نہیں ہے، میں نے فوری طور پر خود کو اس ماحول سے الگ کیا اور متعلقہ پروڈکشن ہاؤس کو اس رویے کے بارے میں رپورٹ بھی کی۔اداکارہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان کے حوصلے اور بہادری کو سراہا اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔حنا الطاف کی جانب سے اس حساس معاملے پر کھل کر بات کرنے کو سوشل میڈیا پر اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ ورک پلیس یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کانز فلم فیسٹیول میں فوٹوگرافرز کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو ہیں۔فرانس میں کانز فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں دنیا بھر کے مختلف ستاروں نے شرکت کی، ریڈ کارپٹ پر عالیہ بھٹ نے آسٹریلوی فیشن ڈیزائنر تمارا رالف کا ڈیزائن کردہ ہلکے گلابی رنگ کا لباس زیب تن کیا۔ تاہم اس بار اداکارہ کا کانز لُک اتنا وائرل نہ ہوا جتنا وہ فوٹوگرافرز کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر وائرل ہوئیں۔سوشل میڈیا پرایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ادکارہ کو پراعتمادی کے ساتھ ریڈ کارپٹ پر واک کرتے اور پھر فوٹوگرافرز کے سامنے پوز کرتے دیکھا جاسکتا ہے جب کہ ویڈیو میں فوٹوگرافرز ریڈ کارپٹ پر موجود دیگر مشہور شخصیات کی تصاویر لیتے رہے، بہت کم ہی کیمرے ایسے تھے جن سے اداکارہ کی تصویر لی گئی۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس کے کیپشن میں لکھا کہ یہ ایک افسوس کا مقام ہے۔ عالیہ بھٹ فیسٹیول میں دوسری مرتبہ جلوہ گر ہورہی ہیں ارو کوئی انہیں جانتا بھی نہیں ہے، کسی نے تصویر نہیں لی۔ایک صارف نے مذاق کرتے ہوئے لکھا کہ اداکارہ اس طرح سے ہاتھ ہلا رہی ہے جیسے وہ سرخیوں میں شامل ہوں گیں جب کہ اس دوران کیمرے ہوائی جہاز کے موڈ پر ہیں
اسلام آباد میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا کیس حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔سرکاری وکیل راجہ نوید حسین اور سردار قدیر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور استغاثہ کے تمام گواہان پر جرح مکمل کرلی۔ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس ختمی مرحلے میں داخل ہو گیا، اگلی سماعت میں ملزم 342 کا بیان ریکارڈ کروائے گا جبکہ ملزم کیجانب سے 342 کا بیان ریکارڈ کروانے پر حتمی جرح ہوگی۔کیس کے دوران مجموعی طور پر استغاثہ کے 28 گواہان پر جرح مکمل کر لئی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سُراج پر مونی کے پیسے استعمال کرنے اور انہیں شہرت کے لیے دھوکہ دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم، ابھی تک ان دعووں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مونی یا سُراج نے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
مونی رائےکی طلاق کی خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کررہی ہیں۔ ان افواہوں کو اس وقت تقویت ملی جب مداحوں نے غور کیا کہ دونوں نے انسٹاگرام پرایک دوسرے کو ان فالو کر دیا ہے اور اپنی پروفائلز سے شادی کی کچھ تصاویر بھی ہٹا دی ہیں۔
اگرچہ مونی رائے کے اکاؤنٹ پر اب بھی سورج کے ساتھ چند تصاویر موجود ہیں، لیکن سورج نمبیار نے اپنی شادی سے متعلق پوسٹس حذف کر دی ہیں اور حال ہی میں اپنا اکاؤنٹ بھی پرائیویٹ کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مونی کی سب سے اچھی دوست، اداکارہ دِشا پٹانی نے بھی سُراج کے اکاؤنٹ کے ڈی ایکٹیویٹ ہونے سے پہلے انہیں انسٹاگرام پر ان فالو کر دیا تھا۔
سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ان کے اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس گردش کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر مداح جوڑے کے درمیان ممکنہ علیحدگی کے بارے میں چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔
امریکا کی ریاست ٹیکساس نے مشہور فلمی اسٹریمنگ سروس ”نیٹ فلکس“ کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں کمپنی پر صارفین کی جاسوسی کرنے اور ان کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دی گارجین کے مطابق ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پکسٹن کے دفتر سے دائر کی گئی اس شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیٹ فلکس اپنے صارفین، بالخصوص بچوں اور خاندانوں کو اسکرین سے چپکائے رکھنے کے لیے ایسی خفیہ تکنیکیں استعمال کرتا ہے جنہیں عام زبان میں ”ڈارک پیٹرنز“ کہا جاتا ہے۔
ان خفیہ طریقوں کا مقصد صارفین کو ایپ کا عادی بنانا ہے تاکہ وہ مسلسل فلمیں اور ڈرامے دیکھتے رہیں اور اسی دوران کمپنی ان کی نجی معلومات جمع کر کے بھاری منافع کما سکے۔
مقدمے میں سب سے دلچسپ اور چونکا دینے والا جملہ یہ استعمال کیا گیا ہے کہ ’جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس دراصل آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمپنی آپ کے کمرے میں موجود کیمرے سے آپ کی ویڈیو بنا رہی ہے، بلکہ اس سے مراد صارف کے رویے کی مکمل نگرانی ہے۔ نیٹ فلکس یہ نوٹ کرتا ہے کہ آپ نے فلم کب روکی، کون سا حصہ دوبارہ دیکھا، کتنی دیر تک ایپ استعمال کی اور آپ کی پسند ناپسند کیا ہے۔ اس تمام ڈیٹا کی بنیاد پر ہر صارف کے لیے ایک علیحدہ پروفائل تیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر انسان کو اپنی ایپ کی ہوم اسکرین پر مختلف فلمیں نظر آتی ہیں۔
یہ مقدمہ 8 مئی کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا ہے، مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ دعا لیپا کی ایک بیک اسٹیج تصویر، جو 2024 کے ”آسٹن سٹی لِمٹس“ کے دوران لی گئی تھی، سامسنگ نے امریکا بھر میں فروخت ہونے والے ٹی وی باکسز پر نمایاں انداز میں شائع کی۔
آسٹن سٹی لمٹس ایک بڑا سالانہ میوزک فیسٹیول ہے جو امریکہ کے شہر آسٹن (ٹیکساس) میں ہوتا ہے۔ اسے مختصراً اے سی ایل فیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس مقدمے میں کہا گیا کہ تصویر اس انداز میں استعمال کی گئی جس سے خریداروں کو محسوس ہوا کہ دعا لیپا اس پروڈکٹ کی سفیر یا سپورٹر ہیں۔ گلوکارہ کے وکلا کے مطابق نہ صرف یہ کہ تصویر کے استعمال کی اجازت نہیں لی گئی بلکہ کمپنی نے کسی قسم کا معاوضہ یا مشاورت بھی نہیں کی۔
قانونی دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا کہ ”دعا لیپا نے اس استعمال کی اجازت کبھی نہیں دی اور اگر ان سے پوچھا جاتا تو وہ اس کی منظوری بھی نہ دیتیں۔“
مقدمے کے مطابق یہ معاملہ صرف تصویر کے غیر قانونی استعمال تک محدود نہیں بلکہ اس سے دعا لیپا کی برانڈ ویلیو اور عوامی شناخت کو بھی نقصان پہنچا۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ سامسنگ نے جان بوجھ کر ان کی شہرت، مقبولیت اور عالمی پہچان کو اپنے ٹی وی سیٹس کی فروخت بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مقدمے میں سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے بھی بطور ثبوت شامل کیے گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ”میں اصل میں ٹی وی خریدنے کا سوچ بھی نہیں رہا تھا، لیکن باکس پر دعا لیپا کی تصویر دیکھی تو خرید لیا۔“ جبکہ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ”اگر آپ کو کچھ بیچنا ہو تو بس دعا لیپا کی تصویر لگا دیں۔“ وکلا کے مطابق ایسے تبصرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ تصویر نے صارفین کے خریداری کے فیصلوں پر اثر ڈالا۔
قانونی دستاویزات کے مطابق دعا لیپا کی ٹیم کو جون 2025 میں اس مبینہ خلاف ورزی کا علم ہوا، جس کے بعد سامسنگ کو باضابطہ طور پر ’سیز اینڈ ڈِسِسٹس نوٹس‘ بھیجے گئے۔ ایسے نوٹس عام طور پر کسی کمپنی یا فرد کو متنبہ کرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں تاکہ وہ فوری طور پر متنازع سرگرمی بند کرے۔ تاہم شکایت میں الزام لگایا گیا کہ سامسنگ نے ان انتباہات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور تصویر کا استعمال جاری رکھا۔
مقدمے میں کمپنی کے رویے کو ”ڈس مسِو اینڈ کیلَس“ یعنی لاپرواہ اور بے حس قرار دیا گیا ہے۔
شیکھر سمن نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ جب ان کا سامنا ڈاکو سے سیاستدان بننے والی پھولن دیوی سے ہوا، تو منظر کچھ عجیب ہی تھا۔ شیکھر نے بتایا کہ جب پھولن دیوی کرسی پر بیٹھیں تو ان کے پاؤں زمین تک نہیں پہنچ رہے تھے۔ شیکھر نے اسی بات پر چھیڑتے ہوئے ان سے پوچھ لیا، ”آپ کے پاؤں تو زمین تک نہیں پہنچ رہے، پھر آپ ایک ہاتھ میں رائفل تھامے گھوڑے پر کیسے سوار ہوتی تھیں؟“
اس پر پھولن دیوی نے صرف انہیں گھور کر دیکھا، لیکن شیکھر سمن کہاں رکنے والے تھے۔ انہوں نے اگلا تیکھا سوال داغ دیا، ”آپ نے اتنے لوگوں پر گولیاں چلائیں، کیا آپ کو کسی سے ڈر لگتا ہے؟“
پھولن دیوی کا جواب انتہائی غیر متوقع اور دلچسپ تھا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے شیکھر سے کہا، ”تم سے ڈر لگتا ہے، تم مجھ پر سوالات کی گولیاں چلاتے ہو!“
شیکھر سمن نے اُس لمحے کو اپنی زندگی کے سب سے دلچسپ ٹی وی لمحات میں سے ایک قرار دیا۔
بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف سابق اداکار جوزف وجے نے بھارتی ریاست تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حلف برداری کی تقریب چنئی کے نہرو اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جہاں نومنتخب وزیراعلیٰ اپنے عہدے کا باضابطہ حلف اٹھایا۔
جوزف وجے کی جماعت ٹی وی کے نے ریاستی انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستیں جیتیں اور سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔
اگرچہ حکومت بنانے کے لیے 118 نشستیں درکار تھیں، تاہم کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، انڈین یونین مسلم لیگ اور دیگر اتحادی جماعتوں کی حمایت سے وجے کو اکثریت حاصل ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق وجے نے ہفتے کے روز گورنر راجند وشواناتھ سے ملاقات کی، جس کے بعد انہیں حکومت بنانے کی باضابطہ دعوت دی گئی۔ گورنر نے نو منتخب وزیراعلیٰ کو 13 مئی تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
یہ کامیابی اس لیے بھی غیرمعمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ جوزف وجے نے اپنی سیاسی جماعت صرف فروری 2024 میں قائم کی تھی۔ ان کی جماعت نے اپنے پہلے ہی الیکشن میں بڑی کامیابی حاصل کرکے ریاست کی روایتی سیاست میں ہلچل مچا دی۔
یاد رہے کہ جوزف وجے نے اپنے فلمی کیریئر کے عروج پر سیاست میں آنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف فلم انڈسٹری کو خیرباد کہا بلکہ نوجوانوں، بے روزگاری، بدعنوانی اور سماجی مسائل پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے۔ 2019 میں انہوں نے بھارتی شہریت ترمیمی قانون پر بھی تنقید کی تھی۔
اداکارہ کنزہ ہاشمی نے انکشاف کیا ہےکہ وہ اور اداکار علی رضا ڈرامے سے پہلے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور دونوں دشمن تھے۔حال ہی میں کنزہ ہاشمی اور علی رضا نے ایک میگزین کو انٹرویو دیا جس دوران انہوں نے اپنے ڈرامے سمیت دوستی کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔اداکارہ نے قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ہم ڈرامے سے پہلے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ہم ایک دشمن تھے، ابتدائی طور پر ہم ایک کمرشل کے دوران ملے تھے، پروڈکشن نے ہمیں الگ الگ کمرے دیے ہوئے تھے لیکن میک اپ روم ایک ہی تھا۔انہوں نے کہا کہ میک اپ روم میں میرے برابر والی سیٹ علی رضا کی تھی، میں اپنی سیٹ پر بیٹھی میک اپ کروارہی تھی اور میرے پاس ایک چھوٹا اسپیکر تھا جس پر میں گانے سن رہی تھی، اتنی ہی دیر میں علی رضا آیا اور اس نے ماحول تبدیل کردیا، میرے علاوہ سب سے بات چیت ہنسی مذاق کیا اور اس کا ایک بڑا اسپیکر تھا جس پر علی نے گانے چلا دیے، میرے میک اپ آرٹسٹ سے بھی بات کی جس پر میں نے اس کی طرف دیکھا تو پھر مجھے سلام کیا۔ کنزہ ہاشمی نے مزید کہا کہ میں نے اسی دن سوچ لیا تھا یہ بہت اوور لڑکا ہے اور پھر وہیں سے لڑائی شروع ہوگئی، دوسرے دن میں اپنے کو اسٹار سے ایک ٹرینڈ پر ویڈیو بنانے کی بات کررہی تھی جس پر علی نے کہا کہ میں تم سے پہلے بنا لوں گا اور اس نے ویڈیو بنا کر اپ لوڈ بھی کردی اور ہم دیکھتے رہ گئے۔اسی حوالے سے اداکار علی رضا نے کہا کہ ہم دونوں کے درمیان پروڈکشن کی ٹیم کی جانب سے غلط فہمیاں ڈالی گئیں، وہ کنزہ کو کچھ اور، مجھے کچھ اور کہتے تھے اور پھر ایک موقع پر ہم ائیر پورٹ پر ملے تھے تو پھر ہم نے بیٹھ کر باتیں کی اور ساری غلط فہمیوں کو دور کیا۔
پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ نے بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان سے موازنہ کیے جانے پر ردعمل دے دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رجب بٹ نے حالیہ انٹرویو میں واضح کیا کہ انہیں کبھی یہ غلط فہمی نہیں رہی کہ ان کا مقابلہ سلمان خان جیسے بڑے اداکار سے کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نویں جماعت کے دوران وہ سلمان خان سے متاثر ضرور ہوئے تھے اور ان کی نقل کرتے ہوئے کان چھدوائے اور باڈی بلڈنگ کا شوق اپنایا، تاہم یہ محض ایک وقتی اثر تھا۔ رجب بٹ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو دراصل ایک سادہ میٹ اینڈ گریٹ کا حصہ تھی جہاں مداح ان کا نام پکار رہے تھے اور وہ صرف جواب میں ہاتھ ہلا رہے تھے لیکن لوگوں نے اسے سلمان خان کی نقل قرار دے کر مجھے ٹرول کرنا شروع کردیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سلمان خان کا ایک الگ مقام اور میرا ان کے ساتھ کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں تاہم اس کے باوجود مجھے سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا۔ لگتا ہے کہ لوگوں کے پاس کرنے کو اور کچھ نہیں ہے اسی لیے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔










