امریکی شہر نیویارک میں ہونے والے میٹ گالا میں دنیا بھر سے مختلف آرٹسٹوں نے شرکت کی جس میں ایک تھیم کے تحت اپنےلباس کے آرٹ کی نمائش کی گئی۔
میٹ گالا میں بھارت سے تعلق رکھنے والی مختلف شوبز اور کاروباری شخصیات نے اپنے کلچر اور آرٹ کا مظاہرہ کیا۔
بھارتی ارب پتی تاجر مکیش امبانی کی صاحبزادی ایشا امبانی بھی ان ہی میں سے ایک تھیں جنہوں نے سونے کی تار، 1800 ہیروں اور قیمتی پتھروں سے سجی ساڑھی کا انتخاب کیا۔
صرف اتنا ہی نہیں ایشا امبانی کے سفید رنگ کے پھولوں کے گجرے اور20 سال پرا اسٹیل سے بنا آم بھی توجہ طلب رہا جسے کریشیے میں بُنا گیا تھا، آم مشہور بھارتی فنکار سبودھ گپتا کا ایک مجسمہ ہے جو روزمرہ کی چیزوں کو اعلیٰ فن میں تبدیل کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
اسی حوالے سے ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے جس میں ایشا امبانی نے بتایا کہ ان کی ساڑھی کا بلاؤز والدہ کی جیولری سے بنایا گیا ہے جب کہ انہوں نے تمام تر زیورات اپنی والدہ کے پہنے۔
ایشا امبانی نے مزید بتایا کہ یہ ساڑھی ڈیزائنر گورو گپتا کی تیار کردہ ہے اور یہ ساڑھی سودیش کے کاریگروں کے ذریعے تیار کروائی گئی ہے۔

حال ہی میں سید نور کے ایک انٹرویو کا کلپ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے جس میں ان سے سوال کیا گیا کہ ‘بہت سے افراد انسٹاگرام کے ذریعے مشہور ہوتے ہیں اور انہیں ان کے فالوورز دیکھ کر کاسٹ کیا جاتا ہے، وہ اسٹار بن جاتے ہیں، آپ نے بھی ایک تجربہ ایسا کیا تھا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکا’۔
جواب میں سید نور نے کہا ‘جنت مرزا کو اپنی فلم میں لینا تباہی کے سوا کچھ نہیں تھا، وہ فلم اتنی محنت سے بنائی گئی تھی لیکن لوگ اسے دیکھنے سنیما گھروں میں آئے ہی نہیں ‘۔
ہدایتکار نے کہا ‘لوگوں کا یہ نظریہ ہوگا کہ یہ (جنت مرزا) ہمیں ٹک ٹاک پر دیکھنے کو مل جاتی ہے تو جاکر کیا کریں گے‘۔
سید نور کا کہنا تھا کہ ‘پہلے جو فلمیں ہوتی تھیں ان کی اپنی آڈئینس ہوتی تھیں، لوگ انتظار کرتے تھے کہ فلاں کی فلم آئے گی تو جاکر دیکھیں گے لیکن اب وہ بات نہیں ہے کہ لوگ انتظار کریں کہ کسی اداکار کی فلم آئے تو جاکر دیکھیں’

رجب بٹ اس سے قبل بھی جوئے سمیت متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں پاکستان کے متنازع یوٹیوبر رجب بٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اہم قانونی ریلیف مل گیا، جہاں عدالت نے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے فوری طور پر نکالنے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس اعظم خان نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں برقرار رکھنا غیر قانونی، غیر ضروری اور ان کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔سماعت کے دوران رجب بٹ کی جانب سے بیرسٹر زاہد کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی کارروائی میں بتایا گیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی درخواست پر رجب بٹ کا نام پی سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ این سی سی آئی اے حکام کو رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ چونکہ رجب بٹ متعلقہ ادارے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، اس لیے ان کا نام فہرست میں برقرار رکھنے کا مزید کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے حذف کرنے کی ہدایت جاری کر دی

لاہور ہائیکورٹ میں گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر ہتکِ عزت دعوے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے میشا شفیع کی اپیل پر سیشن کورٹ کے 50 لاکھ روپے ہرجانے کے فیصلے کو مشروط طور پر معطل کر دیا۔جسٹس احمد ندیم ارشد نے میشا شفیع کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک جرمانے کی رقم فوری طور پر نافذ نہیں ہوگی، تاہم میشا شفیع کو جرمانے کی نصف رقم عدالت میں جمع کروانا ہوگی جبکہ باقی رقم کے لیے شیورٹی فراہم کرنا لازم ہوگا۔سماعت کے دوران عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے مکمل ٹرائل کورٹ فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ نچلی عدالت کی جانب سے دوبارہ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے پر پابندی برقرار رہے گی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی کو بغیر ثبوت ایسے سنگین الزامات دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی عدالت میں پیش ہوئے، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن کورٹ نے حقائق کا مکمل اور درست جائزہ نہیں لیا۔ اپیل میں کہا گیا کہ اگر میشا شفیع اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکیں تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ علی ظفر خود کو مکمل طور پر بری الذمہ ثابت کر چکے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ میشا شفیع نے اسی معاملے پر صوبائی محتسب سے بھی رجوع کیا تھا، جبکہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ابھی زیر التوا ہے، لہٰذا سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے قبل ہتکِ عزت دعوے کو مکمل طور پر ڈگری نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔عدالت نے علی ظفر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ وہ اپنے جنسی ہراسانی کے الزامات عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ اس فیصلے کے بعد یہ مقدمہ شوبز انڈسٹری کے اہم ترین قانونی تنازعات میں شامل ہو چکا ہے

بھارتی کامیڈین و اداکار کپل شرما کے کینیڈا میں قائم کیفے کے قریب مبینہ فائرنگ اور قتل کی دھمکیوں کی اطلاعات نے سوشل میڈیا پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں واقع ایک قریبی آؤٹ لیٹ کے نزدیک فائرنگ کا واقعہ رپورٹ ہوا، جبکہ بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کپل شرما اور کیفے انتظامیہ کو سنگین دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں اس معاملے کو مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اب تک ان دعووں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس کے مطابق دھمکی آمیز پیغامات میں کپل شرما کو خبردار کیا گیا کہ اگر انہوں نے مخصوص ہدایات پر عمل نہ کیا تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاحال حکام یا کپل شرما کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

بولی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی رہائش گاہ ’گلیکسی اپارٹمنٹس‘ پر ہونے والے حملے کے کیس میں ایک سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کی ایک خصوصی عدالت میں جاری ٹرائل کے دوران سلمان خان کے ذاتی باڈی گارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حملہ صرف دھمکانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں قتل کرنے کی نیت سے کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران باڈی گارڈ نے بطور گواہ اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ 14 اپریل 2024 کی صبح ہونے والی فائرنگ کا واقعہ محض دھمکی دینے یا خوف پھیلانے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ یہ براہِ راست سلمان خان کو نشانہ بنانے کے لیے ایک قاتلانہ حملہ تھا۔
گواہ نے زور دے کر کہا کہ حملہ آوروں نے جس زاویے سے فائرنگ کی، اس کا مقصد اداکار کی جان لینا تھا۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے باڈی گارڈ نے واقعہ کی صبح کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ 13 اپریل کی شام سے اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ صبح تقریباً 4:55 بجے جب تمام لوگ سو رہے تھے، اچانک پٹاخوں جیسی زوردار آوازیں سنی گئیں۔
جب سی سی کیمرے چیک کیے گئے تو دیکھا گیا کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد، جنہوں نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے، عمارت کی پہلی منزل کی جانب مسلسل فائرنگ کر رہے تھے۔ اسی منزل پر سلمان خان کا بیڈروم واقع ہے۔
حملہ آوروں نے 5 راؤنڈ فائر کیے، جن میں سے ایک گولی سلمان خان کے گھر کی بالکونی کے نیٹ کو چیرتی ہوئی اندر جا لگی۔
باڈی گارڈ نے عدالت میں واضح طور پر کہا کہ یہ واقعہ ایک منصوبہ بند قتل کی کوشش تھی۔ تاہم، اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے پہلے سے ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔
واضح رہے کہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کی جانب سے ملنے والی مسلسل دھمکیوں کے باعث سلمان خان کی سیکیورٹی پہلے ہی ’ہائی الرٹ‘ پر تھی۔
اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مہیش مولے نے عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی، جس کی مدد سے گواہ نے ملزمان وکی گپتا اور ساگر پال کی شناخت کی۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس حملے سے دو دن قبل محمد رفیق سردار چوہدری نامی شخص نے علاقے کی مکمل ریکی کی تھی اور ویڈیو ریکارڈنگ انمول بشنوئی کو بھیجی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا آپریشن جیل میں بند گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ایما پر اس کے بھائی انمول بشنوئی نے کینیڈا اور امریکہ سے آپریٹ کیا۔
ہفتے کے روز ہونے والی سماعت میں ایک اور پولیس گارڈ نے بھی گواہی دی جس نے حملے کے فوراً بعد زمین سے گولیوں کے خالی خول برآمد کیے تھے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ باڈی گارڈ کی جانب سے اس حملے کو ”اقدامِ قتل“ قرار دیے جانے کے بعد اب ملزمان کے خلاف دفعہ 307 کے تحت الزامات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
کیس کی مزید سماعت آنے والے دنوں میں جاری رہے گی جس میں مزید اہم گواہان کے بیانات متوقع ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویارک ایئرپورٹ پر روس سے تعلق رکھنے والے آسکر ایوارڈ کے فاتح اداکار اور ہدایت کار پیول تالانکن کو ایوارڈ کی تلاشی پر مجبور کیا گیا، جس کے بعد ان کا آسکر غائب ہوگیا۔
پیول تالانکن نے بتایا کہ وہ بدھ کو امریکا سے جرمنی جانے والی پرواز میں آسکر ایوارڈ اپنےکیری آن بیگ میں رکھا تھا لیکن جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی نے انہیں روک لیا اور انہیں بتایا کہ یہ ایوارڈ بطور ہتھیار استعمال ہو سکتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ جرمنی پہنچے تو ان کی دستاویزی فلم مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوٹن کے لیے ملنے والا آسکر ایوارڈ غائب تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایئرلائن نے تکلیف پہنچنے پر مالک سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ آسکر کا مجسمہ اب مل گیا ہے اور فرینکفرٹ میں ہماری تحویل میں محفوظ ہے اور بتایا کہ ایئرلائن اپنے مہمان کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے تاکہ مجسمہ جلد از جلد واپس کیا جا سکے اور ہمارے مہمانوں کے سامان کی محفوظ دیکھ بھال ہمارے لیے انتہائی اہم ہے اور مذکورہ واقعے کے حوالے سے محکمہ جاتی چھان بین کی جا رہی ہے۔
دستاویزی فلم کے شریک ہدایتکار ڈیوڈ بورینسٹین نے بتایا کہ وہ ہنگامہ خیزی کے بعد آسکر ایوارڈ کا مجسمہ مل جانے پر مطمئن ہیں اور کہا کہ انہوں نے بس ایک کمزور سا ڈبہ ڈھونڈا اور اسے کہا کہ اس میں رکھ دو حالانکہ سب لوگ کہہ رہے تھے یہ آسکر ہے، آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ خاصا بگڑ گیا تھا کیونکہ فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر روبین ہیسمن فون پر تھیں اور ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن پر چلا رہی تھیں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔
روبین ہیسمن نے بتایا کہ پیول تالانکن اس سال ملنے والے اپنے آسکر اور برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن دونوں ایوارڈز کے ساتھ امریکا اور بین الاقوامی پروازوں میں کئی بار سفر کر چکے ہیں لیکن کبھی بھی آسکر جہاز میں ساتھ لے جانے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا۔
واضح رہے کہ 35 سالہ پیول تالانکن بہترین فیچر ڈاکیومنٹری جیتنے والی فلم کے شریک ہدایت کاراور مرکزی کردار بھی ہیں اور وہ اس ایوارڈ کو اکثر تقریبات اور اسکریننگز میں دکھانے کے لیے اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور نیویارک کے حالیہ دورے میں انہوں نے ایک یونیورسٹی میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران طلبہ کے درمیان بھی اسے گھمایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک اکیڈمی ایوارڈ کی لمبائی 13.5 انچ (34 سینٹی میٹر) اور وزن 3.9 کلوگرام ہوتا ہے، اور اس کی تیاری کی لاگت تقریباً 400 ڈالر سے 1000 ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔
پیول تالانکن نے آسکر جیتنے والی دستاویزی فلم مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوٹن ایک روسی اسکول میں جنگی پروپیگنڈے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ریکارڈ کرتے ہوئے بنایا ہے، جہاں وہ روس کی یوکرین کے خلاف فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی کام کرتے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس میں اسکول استاد کے طور پر کام کرنے والے 35 سالہ اداکار اب سیکیورٹی خدشات کے باعث روس سے جلاوطنی اختیار کر کے یورپ میں مقیم ہیں۔
روس نے مذکورہ دستاویزی فلم کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی حامل قرار دے کر تین اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کردی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹِک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کا ٹرائل دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے جج پر جانبداری اور بدتمیزی کے الزامات بےبنیاد قرار دے کر درخواست خارج کی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بار بار التواء مانگنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے، کیس کا ٹرائل ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کی عدالت میں ہی جاری رہے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق سرکاری خرچ پر وکیل کی فراہمی ملزم کا آئینی حق ہے تاکہ ٹرائل مکمل ہو سکے، ملزم کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے خلاف استعمال کی گئی زبان غیرمناسب ہے۔
مزید کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے جج کے خلاف استعمال کی گئی سخت زبان عدلیہ کے وقار کے خلاف ہے۔
یاد رہے کہ ملزم عمر حیات کی جانب سے ٹرائل دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی، ملزم کی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج پر جانبدار ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

بھارتی اداکارہ ریم شیخ کا کہنا ہے وہ کسی بھی غیر مسلم کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ نے ایک انٹرویو میں بین المذاہب تعلقات کے بارے میں اپنے تاثرات شیئر کرتے ہوئے کچھ انکشافات بھی کیے۔ریم شیخ سے میزبان نے سوال کیا کہ اگر آپ کو کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے آدمی سے محبت ہوگئی تو معاملات پیچیدہ ہو جائیں گے؟اداکارہ نے اس سوال کا بہت واضح انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایسا کر ہی نہیں پاؤں گی کیونکہ میں بہت مذہبی شخصیت کی مالک ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ میں 5 وقت کی نماز پڑھتی ہوں اور اب میں نے روزے بھی رکھنا شروع کر دیے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ میں کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے آدمی سے شادی کر سکوں گی۔محبت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ریم شیخ نے کہا کہ میرے پاس محبت پر یقین نہ کرنے کی وجوہات ہیں کیونکہ میں نے اپنے گھر میں طلاق دیکھی ہے، میں نے اپنے آس پاس رشتوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے، میرے پاس محبت پر یقین نہ کرنے کی ہر وجہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خدا سے جڑنے کے لیے بھی آپ کو محبت کی ضرورت ہے، اگر محبت نہیں ہے تو آپ خدا کے ساتھ یا اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ رشتہ نہیں بنا پائیں گے۔واضح رہے اداکارہ کا ایک ایسے خاندان سے تعلق ہے جہاں ان کی والدہ ہندو اور والد مسلمان ہیں۔

اداکارہ حنا طارق نے خواتین کے حقوق، فیمنزم اور مردوں کے کردار سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
ڈرامہ سیریلز نقاب، نہ تم جانو نہ ہم، نفرت اور حالیہ مقبول ڈرامہ رحمت میں اپنی اداکاری سے توجہ حاصل کرنے والی حنا طارق نے حال ہی میں ایک یوٹیوب شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے جدید تعلقات اور مرد و خواتین کے روایتی کرداروں پر کھل کر گفتگو کی۔
حنا طارق کا کہنا تھا کہ انہیں نرم مزاج، حد سے زیادہ حساس یا ’پوکی‘ مرد پسند نہیں۔ ان کے مطابق مرد کو مردانہ انداز میں مضبوط، فیصلہ کرنے والا اور خودمختار ہونا چاہیے۔
اداکارہ نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا شریکِ حیات ذمے دار ہو، منصوبہ بندی کرے، کرایہ ادا کرے، انہیں پھول دے اور زندگی کے معاملات سنبھالے کیونکہ وہ عورت ہونے کے ناتے ان روایتی محبت بھرے رویوں سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں۔
حنا کے مطابق وہ خود مالی طور پر خودمختار ضرور ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ چاہتی ہیں کہ مرد اپنی ذمے داریاں نبھائے کیونکہ عورت کے لیے یہی خوبصورتی ہے کہ وہ محبت، توجہ اور عزت پائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں وہ خواتین بھی پسند نہیں جو خود کو مردوں کے کردار میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ گاڑی میں پٹرول بھروانے، بھاری بیگ اٹھانے یا ہر عملی ذمے داری خود سنبھالنے کے بجائے چاہتی ہیں کہ مرد یہ کردار ادا کرے۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ عورت ایک خوبصورت اور نازک مخلوق ہے، جسے غصے کے بجائے محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ حنا طارق نے عورتوں کا ’فیمنسٹ‘ ہونا لعنت قرار دے دیا۔
حنا طارق کے ان بیانات نے سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں کچھ صارفین نے ان کے خیالات کو روایتی اقدار کے قریب قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے جدید فیمنزم کے خلاف سخت مؤقف سمجھا۔