امریکی میڈیارپورٹس کےمطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اوراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان لبنان کی صورتحال پر ایک انتہائی کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی،جس میں ٹرمپ نےاسرائیلی اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
امریکی نیوزویب سائٹ نےدعویٰ کیاہےکہ ٹرمپ نے نیتن یاہوکو “پاگل” اور “ناشکرا” قرار دیا اور سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئےکہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں خطےمیں جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios کےحوالے سے بتایا گیا کہ ٹرمپ نےنیتن یاہو کو خبردارکیا کہ اگر اسرائیل نے بیروت پرحملوں میں مزید شدت لائی تو عالمی سطح پر اسرائیل کی تنہائی بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گفتگو کےدوران ٹرمپ نےنیتن یاہو سےکہاکہ “اگرمیں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے” اور “میں تمہاری مدد کر رہا ہوں”ہرشخص اب تم سےنفرت کرتاہے،ہرشخص اسرائیل سےنفرت کرتاہے،تم کیا احمقانہ کام کررہےہو۔۔
عرب امارات میں جون 2026 کیلئے پیٹرول مہنگا جبکہ ڈیزل سستا ہو گیا۔
متحدہ عرب امارات میں جون 2026 کے لئے فیول کی نئی قیمتیں جاری کر دی ہیں۔ پیٹرول کی تمام اقسام مہنگی کر دی گئی ہیں جبکہ ڈیزل کی قیمت کم کی گئی ہے۔
یو اے ای کی فیول پرائس کمیٹی کی جانب سے پیٹرول کی تمام اقسام میں تقریباً 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7.67 فیصد کمی کی گئی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو امریکا سے بھارت واپس آ کر نئی دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے کیا جائے گا۔
سی جے پی کے قیام کے بعد یہ دپکے کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا، جبکہ ان کی جماعت کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ملک واپس آ کر ان طلبہ کے حق میں آواز اٹھانا چاہتے ہیں جو مختلف امتحانات سے متعلق تنازعات اور مسائل سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ”نِیٹ“ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے لاکھوں طلبہ کی محنت متاثر ہوئی اور کئی طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔ اس بڑے بحران کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں۔ ان کے مطابق اگر شہری متحد ہو کر اپنی بات رکھیں تو حکومت کو ان کی آواز سننی پڑے گی۔
پاکستانی نوجوان نے سوشل میڈیا پر ہونے والی محبت کی خاطر آزاد اور مقبوضہ کشمیر کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرلی، جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب اڑی سیکٹر کے سلیکوٹ علاقے میں تعینات بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کے پار سے ایک نوجوان کو اپنی طرف آتے دیکھا، جسے مقبوضۃ کشمیر کی حدود میں داخل ہوتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی تفتیش کے دوران اس نوجوان نے اپنی شناخت ذیشان احمد میر ولد لال دین میر بتائی، جو مظفرآباد کے علاقے پائن کڈی کا رہائشی ہے، اور اس کے پاس سے ملنے والے پاکستانی شناختی کارڈ سے بھی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔
نوجوان نے اڑی سیکٹر جیسے دنیا کے حساس ترین اور سخت پہرے والے سرحدی علاقے کو پار کرنے کی جو وجہ بتائی، اس نے سب کو حیران کر دیا۔
ذیشان نے بھارتی تفتیشی حکام کو بتایا کہ اس نے یہ خطرناک قدم اڑی کی رہنے والی اپنی محبوبہ ارم بانو سے ملنے کے لیے اٹھایا۔
ذیشان کے بیان کے مطابق، ان دونوں کی پہلی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل رابطے میں رہے اور اسی آن لائن دوستی کے بعد اس نے سرحد پار کرنے کا فیصلہ کیا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ذیشان اور ارم بانو دونوں سے مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان کے دعوؤں کی حقیقت کا پتہ لگایا جا سکے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، ایجنسیاں اس وقت دونوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل پیغامات کی جانچ کر رہی ہیں تاکہ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کی نوعیت کو سمجھا جا سکے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی مبینہ خبروں نے ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایران انٹرنیشنل‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدر نے اتوار کے روز رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کو اپنا استعفا بھجوا دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر پزشکیان نے اپنے استعفے میں ملک کے اہم فیصلوں میں حکومت کے کم ہوتے کردار اور اقتدار کے ڈھانچے میں پاسدارانِ انقلاب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر نے اپنے خط میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ صدر اور حکومت کو بڑے قومی فیصلوں سے عملی طور پر الگ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پاسدارانِ انقلاب یعنی آئی آر جی سی نے ریاستی معاملات پر اپنا کنٹرول بڑھا لیا ہے۔
ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، مسعود پزشکیان نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ان موجودہ حالات کے تحت وہ حکومت کو مؤثر طریقے سے چلانے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں، اسی لیے انہوں نے فوری طور پر اپنے عہدے سے الگ ہونے کی اجازت مانگی ہے۔ دوسری جانب، ایران کے صدارتی دفتر نے ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے۔
ایران کے سرکاری حکام نے استعفے کی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے غیر ملکی میڈیا پر من گھڑت خبریں پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔
میکسیکو میں قائم ایرانی سفارت خانے ایک پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ ”پزشکیان کا استعفا محض ایک افواہ ہے۔“
آئی آر جی سی سے وابستہ نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے ایک باخبر حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور اپنی صدارتی ذمہ داریاں معمول کے مطابق نبھا رہے ہیں۔
غزہ: نئی سیٹلائٹ تصاویر میں جنوبی غزہ کے وسیع علاقوں میں ہونے والی تباہی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں متعدد رہائشی علاقے، زرعی زمینیں، تعلیمی ادارے اور قبرستان شدید نقصان کا شکار نظر آتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اپ ڈیٹ ہونے والی فضائی اور سیٹلائٹ تصاویر میں جنوبی غزہ کے شہروں رفح اور خان یونس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی رہائشی بستیاں اور اہم عوامی مقامات اب نقشے پر اپنی سابقہ شکل میں موجود نہیں رہے۔رپورٹ کے مطابق خان یونس کے علاقے معن میں واقع شیخ محمد قبرستان بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کے بعد اس علاقے کی جغرافیائی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔سیٹلائٹ تصاویر میں رفح کے مختلف محلوں، رہائشی منصوبوں اور سرحدی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے۔ بعض علاقوں میں صرف ملبے کے ڈھیر اور تباہ شدہ عمارتوں کے آثار باقی رہ گئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ کے تعلیمی شعبے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ متعدد اسکولوں اور جامعات کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہزاروں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں طویل عرصے سے معطل ہیں۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کے اعداد و شمار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ کی زرعی زمینوں کا بڑا حصہ بھی تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے، جس کے باعث خوراک کی فراہمی اور انسانی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد عارضی کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ساحلی علاقوں میں قائم خیمہ بستیوں میں آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد مسلح گروہوں کے خلاف آپریشنز اور سیکیورٹی اہداف کا حصول ہے۔ تاہم فلسطینی حکام اور متعدد بین الاقوامی ادارے غزہ میں انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ میں جاری تنازع کے اثرات کو ایک نئی جہت سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جبکہ خطے میں مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے
ایرانی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے جزیرے سِرک پر ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر حملہ کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اس اڈے کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا جہاں سے امریکی افواج نے مواصلاتی سہولت کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ یہ حملہ امریکی حملے کی اطلاع کے چند گھنٹے بعد کیا گیا اور پہلے سے طے شدہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے گوروک اور قشیم جزیرہ میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ہیں۔
سینٹکام کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ کو کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے تین ماہ سے جاری ایران جنگ کو عارضی طور پر روکنے کا معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔
جمعہ کی سہ پہر ایک امریکی انتظامی اہلکار نے نشریاتی ادارے ’سی این بی سی‘ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے سامنے معاہدے کے لیے کڑی شرائط رکھنے کے بعد سچویشن روم میں ایک میٹنگ کی لیکن تاحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔
آج عالمی امن کے لیے کوشاں اقوام متحدہ کے امن دستوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔پاکستان عالمی امن مشن میں خدمات سرانجام دینے والے بہادر افسران، جوانوں اور خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں اپنی افواج کے ذریعے سب سے زیادہ تعاون کرنے والا ملک ہے۔یہ امن دستے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ، قبرص، مغربی صحارا اور صومالیہ کے امن مشنز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔1960 سے لے کر اب تک پاکستان نے دنیا کے تقریباَ تمام براعظموں سمیت 29 ممالک میں اقوامِ متحدہ کے 48 امن مشنز میں 2 لاکھ 37 ہزار فوجیوں کو تعینات کیا۔ اس دن کا مقصد عالمی امن کے لیے ان دستوں کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔پاکستان واحد ملک جس نے پسماندہ ملکوں میں مشکل حالات سےنمٹنے کے لئے امن کےقیام کے حوالے سے جاری آپریشنز میں خواتین کی نمائندگی اور درجہ بندی پرخصوصی توجہ دی ہے۔پاکستانی امن فوجی دستے اقوامِ متحدہ کے مشنوں کو مہارت اور لگن کے ساتھ مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشنوں کے دوران 183 افسران و جوانوں نے عالمی امن کی بحالی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں جبکہ عالی سطح پر امن کی بحالی کے لیے پاکستانی پیس کیپرز نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا جو مستقبل میں بھی بھر پور انداز سے جاری رہے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روک دی تھی جبکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ اب بھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوسکا۔امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے اور امریکا ابھی تک مجوزہ معاہدے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی معاہدہ مکمل طور پر طے نہیں پایا۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ وہی کچھ کرسکتا تھا جو اس نے وینزویلا کے ساتھ کیا، تاہم پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روک دی گئی۔ انہوں نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف بہترین شخصیات ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب زیادہ آپشنز موجود نہیں، یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا کام مکمل کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم ترک کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی دینے پر بات نہیں ہورہی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو روس یا چین کے حوالے کیے جانے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران مکمل طور پر بین الاقوامی اصولوں کے مطابق رویہ اختیار کرے۔آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ عالمی بحری راستہ سب کے لیے کھلا رہے گا اور کوئی ایک ملک اس پر کنٹرول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ فریم ورک معاہدہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی اور کشتیوں کی نقل و حرکت بحال کردی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق دعویٰ کیا کہ اس تنازع میں امریکا کی صرف 13 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ افغانستان، عراق اور دیگر جنگوں میں ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے تھے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار پر بھی عالمی سطح پر توجہ دی جارہی ہے










