چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین خلا بازوں کو اپنے خلائی اسٹیشن ”تیانگونگ“ بھیج دیا ہے۔ اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک خلا باز ایک سال تک خلا میں قیام کرے گا، جو چین کی تاریخ کا سب سے طویل انسانی خلائی مشن ہوگا۔
اس اقدام کو چین کے 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کے منصوبے کی تیاری کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شین ژو-23 نامی خلائی جہاز اتوار کی رات شمال مغربی چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ اس مشن میں کمانڈر ژو یانگ ژو، پائلٹ ژانگ یوآن ژی اور پے لوڈ اسپیشلسٹ لی جیا ینگ شامل ہیں۔ لی جیا ینگ پہلے ہانگ کانگ پولیس افسر رہ چکے ہیں اور وہ کسی چینی خلائی مشن میں حصہ لینے والے ہانگ کانگ کے پہلے خلا باز بن گئے ہیں۔
چینی خلائی ادارے کے مطابق تینوں میں سے ایک خلا باز ایک سال تک تیانگونگ خلائی اسٹیشن میں رہے گا، تاہم یہ فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ طویل مدت تک خلا میں کون قیام کرے گا۔ اس مشن کا مقصد خلا میں انسانی جسم پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کا مطالعہ کرنا ہے، جن میں ہڈیوں کی کمزوری، تابکاری کے اثرات اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔
چین گزشتہ چند برسوں سے اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ 2021 سے اب تک کئی مشنز کے ذریعے خلا بازوں کو چھ ماہ کے قیام کے لیے تیانگونگ بھیجا جا چکا ہے۔ لیکن اس بار کا مشن اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا میں چاند تک رسائی کی نئی دوڑ تیز ہو چکی ہے، جس میں چین اور امریکا دونوں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکا کی خلائی ایجنسی ناسا 2028 تک انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ چین نے 2030 تک اپنا ہدف مقرر کیا ہے۔ امریکا مستقبل میں مریخ تک انسانی مشنز کی تیاری کے لیے چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب چین روس کے تعاون سے 2035 تک چاند پر مستقل اڈہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
چین پر بعض امریکی حکام کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ چاند کے وسائل اور زمین پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم بیجنگ ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔
رواں سال اپریل میں ناسا کے چار خلا باز آرٹیمس ٹو مشن کے تحت چاند کے گرد تاریخی سفر کر چکے ہیں۔ اسی دوران ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنی نئی اسٹارشپ راکٹ کا بغیر انسان کے کامیاب تجربہ بھی کیا، جسے مستقبل میں چاند اور مریخ کے مشنز کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
چین کے لیے اگلے چار سال انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ اسے چاند پر انسانی مشن کے لیے نئی ٹیکنالوجی، راکٹ، لینڈر اور سافٹ ویئر مکمل طور پر تیار کرنا ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حالیہ مہینوں میں لانگ مارچ-10 راکٹ، مینگ ژو خلائی کیپسول اور لانیو قمری لینڈر کے حفاظتی تجربات بھی کیے گئے ہیں۔
شین ژو-23 مشن میں پہلی بار تیانگونگ کے مرکزی حصے کے ساتھ تیز رفتار خودکار ڈاکنگ کا تجربہ بھی کیا جائے گا، جسے مستقبل کے قمری مشن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ چاند کے مدار میں خودکار نظام کے ذریعے خلائی کیپسول اور لینڈر کو آپس میں جوڑا جائے۔

ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان نہیں ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ مذاکرات کے بیشتر موضوعات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ فوری طور پر طے پا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ ہے جبکہ جوہری پروگرام کے تفصیلی معاملات پر فی الحال بات نہیں ہو رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بہترین حکمت عملی پر کام کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مناسب انداز میں جواب بھی دے گا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران امریکا معاہدے کے حوالے سے کوئی ضمانت موجود نہیں کہ امریکا اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا، تاہم تہران دباؤ یا دھمکیوں کی پروا نہیں کرتا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں پیش رفت پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کے باعث ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے سے متعلق شق بھی شامل ہے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی ترجمان نے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کا انتظام ساحلی ممالک کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بحری ٹول ٹیکس عائد نہیں کرے گا، تاہم فراہم کی جانے والی خدمات کی قیمت لینا ایک معمول کی بات ہے۔بقائی کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے ملحق ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے میں سکیورٹی اور تجارتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل موجودہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل معاہدے کو ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور ایران کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی اقدامات مذاکرات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ایرانی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال پاکستان کے کسی سرکاری دورے یا پاکستانی حکام کی تہران آمد کا کوئی باضابطہ منصوبہ موجود نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کے ساتھ ہی مسلم ممالک کو ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہورہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یا تو ایک بہترین معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جو پہلے سے زیادہ شدید ہوگی۔ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا، اسی لیے امریکا ایک جامع معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے تفصیلی بات چیت کی

فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکے بارے میں امریکی ٹی وی سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں امریکا اور ایران دونوں کی قیادت کا اعتماد حاصل ہے اور انہوں نے ایران امریکا مذاکرات کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران نے جاری سفارتی کوششوں میں کلیدی پیش رفت پیدا کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک اور لبنان بھی تنازع کا حصہ ہیں، تاہم صرف پاکستان ہی ایسا ملک ثابت ہوا جو مجوزہ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب رہا۔رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران سے واپسی کے بعد مجوزہ معاہدے کا مسودہ ایرانی اور امریکی قیادت کو جائزے کے لیے بھیجا گیا۔امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی اس ثالثی عمل کا سب سے اہم عنصر رہی۔سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’مائی فیورٹ فیلڈ مارشل‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت نے کشیدگی کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پاکستان ماضی میں بھی اہم عالمی سفارتی روابط قائم کروانے میں کردار ادا کرتا رہا ہے، خصوصاً امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں پاکستان کی سفارتی کوششیں تاریخی اہمیت رکھتی ہیں

مئی 2026 میں آسمان ایک نایاب فلکیاتی منظر پیش کرنے جا رہا ہے جب ماہِ مئی کے دوران دوسرا مکمل چاند نمودار ہوگا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق 31 مئی کو نظر آنے والا یہ مکمل چاند ”بلو مون“ کہلائے گا، جو ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
اس غیر معمولی واقعے کے حوالے سے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مئی 2026 کا پہلا مکمل چاند یکم مئی کو طلوع ہوا تھا، جبکہ دوسرا مکمل چاند 31 مئی کو آسمان پر دکھائی دے گا۔
چونکہ ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ مکمل چاند نمودار ہو رہا ہے، اسی لیے دوسرے چاند کو ”بلو مون“ کا نام دیا جاتا ہے۔
۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایک سال میں 12 مکمل چاند دیکھنے کو ملتے ہیں، تاہم قمری مہینوں اور گریگورین کیلنڈر کے دنوں میں فرق کی وجہ سے بعض اوقات ایک اضافی مکمل چاند بھی سامنے آجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2026 میں مجموعی طور پر 13 مکمل چاند دیکھے جائیں گے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق چاند زمین کے گرد تقریباً 29.5 دن میں اپنا چکر مکمل کرتا ہے، جبکہ کیلنڈر کے مہینے اس دورانیے سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی فرق کے باعث بعض برسوں میں ایک ہی مہینے کے دوران دو مکمل چاند دکھائی دیتے ہیں۔
مئی کے پہلے مکمل چاند کو ”فلاور مون“ کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران بہار اپنے عروج پر ہوتی ہے اور مختلف علاقوں میں پھول کھل رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ دو مکمل چاند کے درمیان تقریباً ساڑھے انتیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے، اس لیے مہینہ ختم ہونے سے پہلے ایک اور مکمل چاند طلوع ہوگا۔
اس حساب سے 31 مئی کو نظر آنے والے چاند کو باقاعدہ طور پر ماہانہ بلیو مون قرار دیا جائے گا۔
یہ چاند آسمان پر کہاں نظر آئے گا، اس حوالے سے ماہرین بتاتے ہیں کہ 31 مئی کو یہ نیلا چاند مشرق کی سمت سے طلوع ہوگا، تاہم یہ آسمان میں قدرے نیچے اور سنبلہ یعنی ورگو نامی ستاروں کے جھرمٹ کے بالکل دائیں جانب دکھائی دے گا۔ جس کے باعث فلکیات کے ماہرین اور دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ منظر خاص توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ممکنہ معاہدے پر بیشتر معاملات طے پاچکے ہیں جبکہ حتمی نکات پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد سامنے آسکتا ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدہ صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں کئی اہم مسلم ممالک بھی شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت متعدد مسلم ممالک کی قیادت سے رابطے کیے ہیں۔ان کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد، متحدہ عرب امارات کے صدر، قطر کے امیر، جبکہ ترکیہ، مصر، اردن اور بحرین کی قیادت سے بھی ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے

امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی بحالی اور ایران کو عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔امریکی خبر ایجنسی ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے قریب ہیں، جس کی مدت ابتدائی طور پر 60 روز ہوگی جبکہ باہمی رضامندی سے اس میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے دوران ایران آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھے گا۔ اس کے علاوہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر بھی آمادہ ہوگیا ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق اس دوران ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران یہ یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے پر بھی بات چیت ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بعض پابندیاں نرم کرے گا اور اقتصادی پابندیوں میں بھی نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی مارکیٹ میں آزادانہ طور پر تیل فروخت کر سکے۔ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی تیل مارکیٹ میں بھی استحکام آنے کی توقع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بحری راستے بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرے گا۔خبر ایجنسی کے مطابق ایران فوری طور پر اپنے منجمد فنڈز کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم امریکی مؤقف یہ ہے کہ مکمل ریلیف صرف عملی اقدامات کے بعد ہی دیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی مجوزہ معاہدے میں شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی فریق اس معاہدے میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ فیلڈ مارشل نے تہران میں مختلف سفارتی ملاقاتوں کے ذریعے معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی کوششیں کیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں طے پانے کی امید ہے اور معاہدے کا باضابطہ اعلان آج اتوار کو کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا ہے کہ ایران سے معاہدے کے لیے زیادہ تر معاملات طے پا گئے ہیں، اور معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات ہوئی ہے، معاہدے کی حتمی تفصیلات اور آخری نکات پر بات چیت جاری ہے، معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد، صدر یو اے ای اور امیر قطر سے بھی بات ہوئی، ترکیہ، مصر، اردن اور بحرین کے رہنماؤں سے بھی بات چیت ہوئی، معاہدہ امریکا، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے درمیان ہوگا۔
امریکی صدر نے لکھا ’’میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں موجود ہوں جہاں ابھی ہماری سعودی عرب کے صدر محمد بن سلمان آل سعود، متحدہ عرب امارات کے محمد بن زاید آل نہیان، قطر کے امیر تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی، وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم بن جابر آل ثانی، اور وزیر علی الثوادی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران اور امن سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے تمام امور پر بہت اچھی گفتگو ہوئی ہے۔‘

امریکی محکمہ شہریت و ہجرت (یو ایس سی آئی ایس) نے ایک نئی پالیسی جاری کی ہے جس کے تحت امریکا میں عارضی طور پر موجود غیر ملکی افراد کو گرین کارڈ یعنی مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے سے پہلے اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا اور وہاں کے امریکی سفارت خانے سے درخواست دینا ہوگی۔
یہ اعلان جمعہ کے روز ایک پالیسی میمو کے ذریعے کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ امیگریشن افسران ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لیں گے اور صرف غیر معمولی حالات میں امریکا میں رہتے ہوئے ریلیف یا استثنا دیا جا سکے گا۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد امیگریشن نظام کو اس طرح چلانا ہے جیسے قانون میں اصل طور پر تصور کیا گیا تھا، اور ان کے مطابق اس سے نظام میں موجود خامیوں یا غلط استعمال کے امکانات کم ہوں گے۔
یو اسی سی آئی ایس کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی سے ادارے کے وسائل بھی بچیں گے اور دیگر کیسز کو زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹایا جا سکے گا۔ نئی ہدایت کے مطابق عارضی ویزا پر آنے والے افراد، جیسے طلبہ، عارضی ورکرز یا سیاح، اگر گرین کارڈ کے خواہشمند ہوں تو انہیں اپنے ملک جا کر ہی درخواست دینی ہوگی، سوائے ان صورتوں کے جنہیں غیر معمولی سمجھا جائے۔
یہ پالیسی ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں قانونی حیثیت رکھنے والے افراد، بشمول امریکی شہریوں کے شریک حیات، طلبہ، ورکرز اور پناہ گزین، ملک کے اندر رہتے ہوئے ہی مستقل رہائش کی درخواست دیتے رہے ہیں۔
امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپس نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایسے افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو انسانی اسمگلنگ کا شکار رہے ہوں، تشدد سے بچ کر آئے ہوں یا ایسے بچے ہوں جن کے لیے واپس جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

آسٹریلیا میں پناہ حاصل کرنے والی افغان خاتون ذکیہ ریور احمد نے تاریخ رقم کردی، انہوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرلیا۔ذکیہ احمد 8848 میٹر بلند چوٹی سر کرنے والی افغانستان کی پہلی خاتون ہیں، ذکیہ کا تعلق افغانستان کے صوبے غزنی سے ہے۔ذکیہ ریور احمد آج صبح 7 بج کر 20 منٹ پر ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹاپ پر پہنچیں۔ذکیہ احمد کچھ عرصہ قبل افغانستان کے حالات کی وجہ سے آسٹریلیا منتقل ہوئی تھیں، انہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا اجازت نامہ آسٹریلوی دستاویزات کی بنیاد پر حاصل کیا تھا۔یاد رہے کہ پاکستانی کوہ پیما سلمان عتیق نے بھی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرلیا ہے، وہ آج صبح 11 بج کر 49 منٹ پر ایورسٹ کے سمٹ پر پہنچے۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سلمان عتیق ایورسٹ سر کرنے والے 14 ویں پاکستانی ہیں۔