عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پہلا عظیم الشان مظاہرہ فلسطین کے حق میں بنام ’’نکبہ ڈے مارچ‘‘ کیا گیا۔ جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں اسرائیلی بمباری کی مذمت اور فلسطینیوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے مطالبے درج تھے۔
خیال رہے کہ یہ مظاہرہ “نکبہ ڈے” کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا جو ہر سال فلسطینیوں کی 1948 میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
اس موقع پر نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھی اپنی اینٹی فاشسٹ ریلی کو فلسطین مارچ کے ساتھ ملا دیا۔
فلسطین حامی مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی ریاست کے قیام اور برطانوی حکومت سے اسرائیل کی حمایت ختم کرنے کے مطالبات کیے۔
ایک مظاہرہ کرنے والی شیرون ڈی وِٹ نے کہا کہ اسرائیل کا رویہ ناقابلِ یقین حد تک غیرمنصفانہ ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی ریاست بنانے کا حق ملنا چاہیے۔
ایک اور شریک علی حیدر نے کہا کہ برطانوی معاشرہ تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق “ہم نفرت نہیں بلکہ محبت، امید اور یکجہتی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔
میٹروپولیٹن پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے تھے جن میں لندن سے باہر سے بلائے گئے اضافی پولیس افسران بھی شامل تھے۔
پولیس نے بکتر بند گاڑیاں، گھڑ سوار دستے، ڈرونز، کتوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا۔ یہ حالیہ برسوں میں لندن کی سب سے بڑی پبلک آرڈر کارروائی تھی۔
پولیس نے پہلی بار احتجاجی مظاہروں میں “لائیو فیشل ریکگنیشن” ٹیکنالوجی بھی استعمال کی، جبکہ منتظمین کو قانونی طور پر اس بات کا پابند بنایا گیا کہ مدعو مقررین نفرت انگیز تقاریر نہ کریں۔
یاد رہے کہ ان مظاہروں سے ایک روز قبل برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا تھا کہ سڑکوں پر بدامنی یا دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

برطانوی عدالت نے 54 سالہ عبدالحلیم خان کو 2004 سے 2015 کے درمیان 7 لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں عمر قید سنادی گئی جس میں کم از کم 20 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے جن 7 لڑکیوں اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اُن میں ایک 12 سالہ بچی بھی شامل تھی۔
عبد الحلیم خان اہلِ خانہ کو یقین دلاتا تھا کہ متاثرہ لڑکیاں جن، بدروحوں یا کالے جادو کے اثر میں ہیں اور انھیں روحانی علاج کی اشد ضرورت ہے۔
استغاثہ نے مزید بتایا کہ ملزم اپنے مذہبی اثر و رسوخ، خوف اور جھوٹے روحانی دعوؤں کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین کو خاموش رکھتا تھا۔
وہ یہ دعویٰ بھی کرتا تھا کہ اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو متاثرہ افراد اور ان کے خاندان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق متاثرین میں سے کئی لڑکیاں برسوں خوف اور سماجی دباؤ کی وجہ سے خاموش رہیں۔
پولیس کو 2018 میں پہلے کیس کا علم ہوا جس کے بعد تحقیقات کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے مذہبی اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کم عمر اور کمزور لڑکیوں کو نشانہ بنایا، جس کے ان کی زندگیاں تباہ ہوگئیں۔
واضح رہے کہ ملزم عبدالحلیم خان مشرقی لندن کی ایک مسجد میں امام کے فرائض بھی انجام دیتا تھا۔

افریقہ کی صحت عامہ کی ایجنسی نے کانگو میں نئے ایبولا وائرس کی وبا پھیلنے کی تصدیق کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگو کے صوبے ایتوری میں اب تک 65 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 246 مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق صحت کے اہلکار اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس وبا میں ایبولا زائر کے اثرات زیادہ شامل ہیں کہ نہیں جو کہ وائرس کا سب سے مہلک ورژن ہے۔ہمسایہ ملک یوگینڈا نے بھی ایبولا سے متعلق ایک موت کی تصدیق کی ہے۔ یہ وبا مشرقی کانگو کے مونگوالو اور روامپارا ہیلتھ زونز میں مرتکز ہے۔یہ علاقہ یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے قریب ہے جس کے بارے میں حکام نے متنبہ کیا ہے کہ وبا سرحد پار بھی پھیل سکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر ہیں، جبکہ سمندری گزرگاہ صرف اُن ممالک اور قوتوں کے لیے بند ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیانات میں کہا کہ ایران سفارتکاری اور مذاکرات کا حامی ہے، لیکن مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب امریکا سنجیدگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا فوجی کارروائی کو مسترد کرتا ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے پر مکمل عمل بھی کر رہا تھا، تاہم امریکا پر اب بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا۔ ان کے مطابق جوہری افزودگی سے متعلق معاملات پر آئندہ مذاکرات کے مرحلے میں بات کی جائے گی۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جو کچھ عسکری کارروائیوں سے حاصل نہیں کیا جا سکا، وہ مذاکرات کے ذریعے بھی زبردستی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران عزت اور برابری کی بنیاد پر بات چیت چاہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ بندی برقرار رکھنے اور سفارتکاری کو موقع دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ موجودہ مذاکرات اعتماد کے فقدان کا شکار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کے صدر ژی جن پنگ نے خلیج میں بحری آمد و رفت کے لیے انتہائی حساس آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی باقاعدہ پیشکش کر دی ہے۔امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ صدر شی جن پنگ ایران کے ساتھ جاری تناؤ کو ختم کرانے کے خواہشمند ہیں۔ٹرمپ کے مطابق چین اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنا چاہتا ہے اسی لیے وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے حق میں نہیں اور چاہتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جلد کوئی پائیدار معاہدہ طے پا جائے۔امریکی صدر نے مزید واضح کیا کہ چین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا۔اس دورے کے دوران صرف سفارتی ہی نہیں بلکہ بڑے معاشی فیصلے بھی سامنے آئے ہیں۔ چین نے امریکا سے 200 بوئنگ طیاروں کی خریداری پر اتفاق کر لیا ہے جسے امریکی صنعت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ کے اعزاز میں دیے گئے پروقار عشائیے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا لہجہ انتہائی دوستانہ رہا۔انہوں نے دونوں ممالک کو حریف کے بجائے شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کا امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کا نعرہ خود چین کی ترقی کے اہداف سے مماثلت رکھتا ہے۔

کرناٹک حکومت نے بدھ کے روز سالوں تک جاری رہنے والے احتجاج اور عدالتی کشمکش کے بعد کلاس رومز میں حجاب پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔
کانگریس کی قیادت میں موجود حکومت نے سابقہ بی جے پی حکومت کے اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے، نئی پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں طلبہ کو محدود دائرے میں رہتے ہوئے روایتی اور ذاتی مذہبی علامتیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق یہ فیصلہ 2022 میں نافذ کی گئی اس پابندی کے خاتمے کی علامت ہے جس کے تحت کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
حجاب پر پابندی فروری 2022 میں اس وقت لگائی گئی تھی جب کرناٹک میں کئی مسلم طالبات کو ہیڈ اسکارف (حجاب) پہننے کی وجہ سے کلاسوں میں جانے سے روک دیا گیا تھا، جو کہ مقررہ یونیفارم کا حصہ نہیں تھے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر کھل کر گفتگو کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلیٰ وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے اپنے ہم منصب شی جنپنگ سے ملاقات کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرا کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔اسی دوران امریکی وزیر خزانہ نے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تیل کی ترسیل میں تعطل ہوتا رہتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش بھی عارضی معاملہ ہے جس سے قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔امریکی وزیر خزانہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ چین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے کردار ادا کرے گا کیونکہ چینی معیشت بڑی حد تک خلیجی تیل پر انحصار کرتی ہے۔تاہم انھوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی کے ساتھ نیچے آ جائیں گی کیوں کہ ترسیل میں یہ بگاڑ بھی عارضی ہے۔اسکاٹ بیسنٹ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ریکارڈ سطح پر تیل پیدا کر رہا ہے اور ہم مسلسل پمپنگ جاری رکھیں گے جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی دونوں میں کمی آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں موجود بے یقینی عارضی ہے اور جیسے ہی سپلائی کے راستے معمول پر آئیں گے۔ قیمتوں میں دباؤ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ خیال رہے کہ اس وقت بھی عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زائد پر برقرار ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر ژی جن پنگ کے درمیان بیجنگ کے گریٹ ہال میں اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، عالمی استحکام اور تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی صدر ژی جن پنگ نے امریکی صدر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ سے بیجنگ میں ملاقات پر خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات کا استحکام نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے مثبت اہمیت رکھتا ہے۔ژی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں اور عالمی امن و استحکام کا فروغ دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہونا چاہیے۔چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر اور چینی صدر کے درمیان ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، یوکرین تنازع اور جزیرہ نما کوریا سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں سربراہانِ مملکت نے اہم بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر خیالات کا تبادلہ کیا جن میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا شامل ہیںاس موقع پر صدر ٹرمپ نے چین میں پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ژی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیا اور کہا کہ ان کے چینی صدر کے ساتھ تعلقات ہمیشہ شاندار رہے ہیں۔ٹرمپ نے ملاقات میں اقتصادی ترقی پر بھی زور دیا اور کہا کہ امریکا چین کے ساتھ تجارتی روابط مزید بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وفد کے ارکان بشمول ممتاز کاروباری ایگزیکٹوز چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے خواہشمند ہیں

خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مبینہ دورۂ یو اے ای یا کسی اسرائیلی فوجی وفد کی ملک میں آمد سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
اماراتی وزارت خارجہ نے اسرائیلی فوجی وفد کے استقبال کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اعلانیہ اور واضح فریم ورک کے تحت ہیں۔
ابوظبی سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو کھلے اور واضح انداز میں برقرار رکھتا ہے، جو معروف اور سرکاری طور پر اعلان کردہ ’’ابراہم معاہدوں‘‘ کے دائرہ کار میں ہیں، اور یہ تعلقات کسی خفیہ یا غیر شفاف انتظامات پر مبنی نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ خفیہ ملاقاتوں یا غیر اعلانیہ انتظامات سے متعلق دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے، کسی بھی دورے یا سرکاری سرگرمی کی تصدیق صرف متعلقہ حکام ہی کر سکتے ہیں۔
یو اے ای نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری، درستگی اور پیشہ ورانہ اصولوں کا مظاہرہ کریں اور غیر مصدقہ معلومات یا گمراہ کن سیاسی بیانیے پھیلانے سے گریز کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شاید خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے، اسی لیے وہ اکثر ایسی حرکات اور گفتگو کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں موضوع بحث بن جاتے ہیں۔
گزشتہ روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک گھنٹے میں دو چار نہیں بلکہ 50 پیغامات شیئر کر دیے، جن میں اکثر اے آئی سے بنائے گئے تھے، ساتھ ہی انہوں نے اپنے روایتی انداز میں ’’بنگ بنگ بونگ‘‘ بھی لکھا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان پوسٹس میں امریکی صدر نے سیاسی مخالفین سے متعلق مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ایسی تصاویر شیئر کی، جن میں سیاسی مخالفین کی تضحیک کے پہلو نکلتے تھے۔
اہوں نے سابق امریکی صدور اوبامہ اور جو بائیڈن کو گندے جوہڑ میں نہاتے ہوئے، ڈالر پر اپنی تصویر اور ایران کی کشتیاں اور جہازوں کو نشانہ بنانے جیسی تصاویر شامل تھیں۔ جب کہ ٹرمپ نے تصاویر کے ساتھ ذو معنی جملے بھی لکھے۔
یہ پیغامات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے تو صارفین نے ٹرمپ کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے پاگل پن قرار دیا۔ کچھ نے کہا کہ ٹرمپ دورہ چین پر جانے سے قبل پاگل پن کے بیانات شیئر کر رہے ہیں، جب کہ کئی نے امریکی صدر کی عمر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے بے وقوفانہ پوسٹس ان کی عمر کا تقاضہ ہیں۔