یورپی ملک موناکو دنیا کی مہنگی ترین رہائش گاہوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور حال ہی میں اس یورپی ریاست میں انتہائی مہنگا اپارٹمنٹ فروخت کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا گیا ہے۔
سسٹم کیپیٹل منیجمنٹ (جو یوکرین کے امیر ترین شخص ریناٹ اخمیٹوف کی ملکیت ہے) نے لے رینزو عمارت میں موجود ایک شاندار 21 کمروں پر مشتمل پینٹ ہاؤس کو 55 کروڑ 40 لاکھ ڈالر میں خرید لیا۔
دنیا کا یہ مہنگا ترین اپارٹمنٹ پانچ منزلوں پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا رقبہ 26 ہزار 900 مربع فٹ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ خصوصی عمارت موناکو کے ساحلِ سمندر کے بالکل کنارے پر واقع ہے، جہاں سے بحیرۂ روم کے دلکش مناظر صاف دکھائی دیتے ہیں۔
اس پینٹ ہاؤس میں 21 عالی شان کمرے، 8 خصوصی پارکنگ اسپیس، بحیرۂ روم کے براہِ راست نظاروں والی کئی وسیع ٹیرس، نجی سوئمنگ پول اور جکوزی، پریمیم فرنیچر اور جدید ترین اسمارٹ ہوم آٹومیشن ٹیکنالوجی جیسی پُر تعیش سہولیات موجود ہیں۔
واضح رہے موناکو (جو ویٹیکن کے بعد یورپ کی سب سے چھوٹی خودمختار ریاست ہے) پہلے ہی دنیا کی مہنگی ترین رئیل اسٹیٹ مارکیٹس میں شمار ہوتا ہے، جہاں گزشتہ سال فی مربع میٹر قیمت 82 ہزار 300 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔

سنگاپور ائیر لائن کی اپ اینڈ ڈاؤن کی پرواز دنیا کی سب سے طویل تجارتی پرواز کے طور پر شناخت بنا چکی ہے۔
پرواز ایس کیو 22 سنگاپور سے جان ایف کینڈی ائیر پورٹ نیویارک اور پرواز ایس کیو 23 نیویارک سے سنگاپور پہنچنے کے لیے لگ بھگ 15349 کلومیٹر کا سفر 19 گھنٹے میں طے کرنے کیلئے معروف ہے۔
اس پرواز نے سنگاپور ائیر لائن کی طویل ترین نان اسٹاپ آپریٹنگ پرواز کا ٹائٹل اپنے نام کیا ہے، دنیا کے دو بڑے عالمی مراکز کو جوڑنے کے لیے یہ پرواز شمالی بحرالکاہل سے گزر کر شمالی امریکا سے نیویارک پہنچتی ہے۔
سنگاپور ائیر اس روٹ پر A350-900ULR الٹرا لانگ رینج طیارے استعمال کرتی ہے، جس میں 67 بزنس کلاس اور 94 پریمیئم اکانومی نشستوں کی ایک بہترین ترتیب ہے۔
19 گھنٹے کے لیے معروف یہ پرواز بعد ازاں اوسطاً 18:26 گھنٹے سے 18:50 میں بھی سفر طے کرتی ہے اور موسم کے تناسب سے اب یہ طویل ترین 15349 کلومیٹر کا نان اسٹاپ سفر 18 گھنٹے سے بھی کم میں طے ہو رہا ہے۔

اگر آپ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی انٹرنیٹ سروس استعمال کرتے ہیں تو اس کی رفتار میں سست روی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
جی ہاں ملک بھر میں پی ٹی سی ایل صارفین کو انٹرنیٹ سروس میں سست روی کا سامنا متوقع ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس کی وجہ سب میرین کیبل کی مرمت ہوگی۔
بیان کے مطابق 11 سے 18 مئی تک سب میرین کیبل کی مرمت کا کام جاری رہے گا۔
اس مرمت کے دوران شام کے اوقات میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا امکان ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ بین الاقوامی کیبل کنسورشیم کی جانب سے سب میرین کیبل کی مرمت کے لیے کام کیا جائے گا۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ کیبل کی مرمت ضروری ہے جس سے انٹرنیٹ معیار اور سروسز میں طویل المعیاد بنیادوں پر استحکام آئے گا۔

خلا میں روس کے دو فوجی سیٹلائٹس پُر اسرار انداز میں حرکت کرتے پائے گئے۔
ماہرینِ فلکیات نے روس کے دو فوجی سیٹلائٹس کو خلا میں ایک دوسرے کے انتہائی قریب آتے دیکھا، جہاں دونوں کے درمیان فاصلہ صرف 3 میٹر رہ گیا اور یہ پراسرار حرکت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
کوس موس 2581 اور کوس موس 2583 نامی یہ سیٹلائٹس (جنہیں فروری 2025 میں روسی خلائی ادارے روس کوس موس نے خلا میں بھیجا تھا) گزشتہ ہفتے تقریباً 585 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں گردش کرتے ہوئے آمنے سامنے آ گئے۔
اس واقعے پر امریکا کی خلائی نگرانی کی کمپنی کومسپوک (COMSPOC) نے نظر رکھی، جس کے بعد خلائی جاسوسی اور مدار میں ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کومسپوک نے سوشل پلیٹ فارم ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اس ہفتے نے روسی سیٹلائٹس کے درمیان ایک نہایت پیچیدہ اور غیرمعمولی قربت والا واقعہ رونما ہوا۔
کمپنی کے مطابق یہ محض اتفاقیہ گزر نہیں تھا کوسموس 2583 نے کئی بار نہایت باریک اور درست انداز میں حرکتیں کیں تاکہ دونوں سیٹلائٹس ایک دوسرے کے اتنے قریب رہ سکیں۔ روس جو بھی آزما رہا ہے، وہ انتہائی جدید اور پیچیدہ ٹیکنالوجی معلوم ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ایران کے ساتھ امن مذاکرات آگے نہ بڑھے تو امریکا آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ آپریشن شروع کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا اگر بات چیت کامیاب نہیں ہوتی تو ہم پراجیکٹ فریڈم پر واپس جا سکتے ہیں، لیکن یہ ‘پروجیکٹ فریڈم پلس’ ہوگا۔ تاہم ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ پراجیکٹ فریڈم میں کن عناصر کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آپریشن پراجیکٹ فریڈم کو موقوف کر دیں گے۔
این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے آپریشن کو روکنے کے فیصلے میں سعودی عرب کے دباؤ نے بھی کردار ادا کیا ہے

امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت آبنائے ہرمز کا انتظام کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، امریکی بحریہ نے ایران کے 70 ٹینکرز کا راستہ روکا ہوا ہے۔اٹلی کے دورے پر گئے مارکو روبیو نے میڈیا سے رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوپ لیو کے ساتھ ملاقات بہت تعمیری اور خوشگوار ماحول میں ہوئی اور کئی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کیوبا انسانی امداد قبول نہیں کر رہا جبکہ امریکہ مزید امداد دینے کے لیے بھی تیار ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کو آبنائے ہرمز کا انتظام کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دے گا جبکہ ہم معاہدے کے حوالے سے ایران کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں جو آج موصول ہوجانا چاہیے تھا تاہم اب تک تہران کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا تاہم امید ہے جواب سنجیدہ ہوگا اور مذاکرات کا راستہ کھل جائے گا۔مارکو روبیو نے کہا کہ امید ہے کہ ایران سنجیدہ مذاکرات کے عمل کی طرف جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز کی جانے والی کارروائی پر کہا کہ کل جو کارروائی کی گئی اُس کا ایپک فیوری آپریشن سے کوئی تعلق نہیں، جو بھی امریکا یا ہماری فورسز پر حملہ کرے گا اُسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ پر ایران کی طرف سے بین الاقوامی پانیوں میں فائرنگ کی گئی جس کا ہم نے جواب دیا، امریکہ ایران کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو بھی امریکہ کو خطرہ پہنچائے گا، اس کے خلاف سخت ردعمل دیا جائے گا۔

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران مخالف امریکی قرارداد کو روس نے مسترد کرتے ہوئے اسے غیرمتوازن اور اشتعال انگیز اقدام قرار دے دیا۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکا نے بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت سے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تھی، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں حملے بند کرے اور جہازوں پر عائد ٹول ختم کرے۔روسی مندوب نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک بار پھر خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد متوازن نہیں بلکہ صرف ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار کی گئی۔ایران سے جنگ بندی برقرار ہے، امریکی حملوں کے بعد ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آگیاسلامتی کونسل میں روس کے مؤقف کے بعد قرارداد منظور نہ ہوسکی جسے امریکا کی سفارتی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے کیونکہ یہ گزرگاہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ خطے میں امریکی اقدامات اور پابندیوں کے باعث سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق روس کی جانب سے ایران کی حمایت خطے میں بدلتی ہوئی عالمی صف بندی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں روس اور چین ایران کے قریب دکھائی دے رہے ہیں

نابلس میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 26 سالہ فلسطینی نوجوان نایف سمارو اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فائرنگ میں شہید ہوگیا۔رپورٹس کے مطابق نایف سمارو اپنی اہلیہ کے لیے ضروری سامان لینے گھر سے نکلا تھا۔ ان کی اہلیہ اسپتال میں موجود تھیں اور ڈاکٹروں کے مطابق چند گھنٹوں بعد سیزیرین آپریشن کے ذریعے ان کے پہلے بچے کی پیدائش متوقع تھی۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نایف اپنے آنے والے بیٹے کو لے کر بے حد خوش اور پرجوش تھا حالانکہ اسی دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے نابلس میں چھاپہ مار کارروائیاں جاری تھیں۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے کارروائی کے دوران نایف سامرو کو سر میں گولی ماری، جس کے بعد وہ سڑک پر زخمی حالت میں پڑا رہا اور زیادہ خون بہنے کے باعث دم توڑ گیا۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نایف اپنے نومولود بیٹے کو کبھی دیکھ نہ سکا۔ واقعے کے چند گھنٹے بعد اس کے بیٹے کی پیدائش ہوئی، جبکہ خاندان کی خوشی غم میں تبدیل ہوگئی۔فلسطینی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور شہریوں پر اسرائیلی کارروائیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف کی۔امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کے کہنے پر پروجیکٹ فریڈم روکا۔امریکی صدر اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر ایران جنگ کے معاملے پر پاکستان کی قیادت کو سراہتے رہے ہیں اور انہوں نے پاکستان کی اپیل پر جنگ بندی میں توسیع کی اور ایران پر حملوں کو مؤخر کیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائر جنگی جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر گئے حالانکہ راستے میں انہیں ایرانی حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی فورسز نے امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے اور امریکی بحری جہاز مکمل طور پر محفوظ رہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے بھیجی گئی چھوٹی حملہ آور کشتیاں تباہ کر دی گئیں جبکہ کئی کشتیاں سمندر برد ہوگئیں۔ٹرمپ کے مطابق امریکی دفاعی نظام نے داغے گئے میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے جبکہ ڈرونز کو بھی ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا گیا۔امریکی صدر نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی معمول کا ملک عالمی بحری گزرگاہ میں اس قسم کی کارروائی نہیں کرتا جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت انتہا پسند سوچ رکھنے والے عناصر کے ہاتھ میں ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کا موقع ملا تو وہ اسے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا اسی لیے امریکا تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔اپنے بیان میں انہوں نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے آج ایران کو ناک آؤٹ کر دیا ہے تاہم اگر تہران نے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے