امریکی انٹیلی جنس کا ایران کے ارادوں پر شکوک کا اظہار، ٹرمپ کو آگاہ کردیا
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوز کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی معلومات ایران کی جانب سے مجوزہ جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے سنجیدہ شکوک پیدا کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بھی مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جب کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر معاہدے کے حامی ہیں۔ایکسیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں معاہدے کے اعلان سے قبل متعدد اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوئے جن میں انٹیلی جنس رپورٹس کا جائزہ لیا گیا اور رپورٹس کے مطابق ایران کی اندرونی گفتگو اور مذاکراتی مؤقف میں نمایاں فرق پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق سی آئی اے ڈائریکٹر ریٹکلف اور مارکو روبیو کاکہنا تھا کہ ان معلومات کی بنیاد پر انہیں شک ہے، خفیہ معلومات بتاتی ہیں کہ ایران کے اصل ارادے معاہدے والے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایکسیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس عہدیدار نے بتایا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکی حکومت کی تمام شرائط پوری کرتی ہیں یعنی ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا، ایران زیادہ افزودہ یورینیم اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا اور نہ دنیا کی توانائی کی فراہمی یرغمال بنا سکے گا۔رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس عہدیدار نےکہا کہ ٹرمپ مختلف آرا سنتے ہیں تاہم فیصلہ انہی کا ہوتا ہے اور ٹرمپ صرف اچھے حتمی معاہدے کو قبول کریں گے




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!