پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے، پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد واشنگٹن میں فوجی آپشن دوبارہ سنجیدگی سے زیر غور آ گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے امریکی مطالبات مسترد کیے جانے اور جوہری پروگرام پر بامعنی رعایت نہ دینے کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
زیر غور آپشنز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنا بھی شامل ہے، جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی اور حفاظت کرتی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک آپشن ایران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کرنا ہے، جس کے تحت پہلے سے نشان زد تقریباً 25 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن پر اب تک حملہ نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی حکومت بھی امریکا پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز آپریشن کیا جائے، تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس آپریشن کے خطرناک نتائج کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق آئندہ فیصلوں میں صدر ٹرمپ کا متوقع دورۂ چین بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ ایران، تجارت اور خطے کی صورتحال پر بات کریں گے۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا اسکول پر حملے میں طالب علم سمیت 2 فلسطینی شہید ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے ایک گاؤں المغیر میں یہودی آبادکاروں نے اسکول پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود لوگوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
اس سفاکانہ حملے میں 14 سالہ طالب علم اوس حمدی النعسان اور 32 سالہ جہاد مرزوق ابو نعیم شہید ہوگئے جب کہ مزید دو افراد زخمی ہوگئے۔
اسکول کے پرنسپل بسام ابو عصف نے بتایا کہ حملے کے وقت طلبا ماہانہ امتحانات دے رہے تھے کہ مسلح یہودی آبادکار زبردستی اسکول میں گھس آئے۔
یاد رہے کہ مغربی کنارے میں اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے حملے میں 1000 کے قریب فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ان میں بڑی تعداد عام شہریوں اور کم عمر افراد کی ہے جب کہ سیکڑوں گھروں، زرعی اراضی اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا

کیلا ایک عام مگر نہایت مقبول پھل ہے جسے بچے ہوں یا بڑے، سب شوق سے کھاتے ہیں۔ غذائیت سے بھرپور ہونے کے باعث اسے صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ماہرینِ غذائیت خبردار کرتے ہیں کہ اسے خالی پیٹ کھانا ہر کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا اور بعض صورتوں میں یہ الٹا نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کیلا فوری توانائی فراہم کرتا ہے کیونکہ اس میں قدرتی شکر جیسے گلوکوز، فریکٹوز اور سوکروز وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کھاتے ہی جسم کو توانائی ملتی ہے، مگر یہ شوگر لیول کو تیزی سے بڑھا کر کچھ ہی دیر بعد اچانک گرا بھی سکتا ہے، جس سے کمزوری، بھوک اور چڑچڑاپن جیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ کیلا عمومی طور پر الکلائن سمجھا جاتا ہے، لیکن اس میں موجود کچھ تیزابی اجزا خالی معدے پر تیزابیت اور بدہضمی کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی معدے کے مسائل کا شکار ہوں۔ بعض افراد کو خالی پیٹ کیلا کھانے کے بعد گیس، اپھارہ یا متلی جیسی شکایات بھی محسوس ہوتی ہیں، جو عموماً کچے یا نیم پکے کیلے کی وجہ سے بڑھ جاتی ہیں۔طبی ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم اور میگنیشیم کی مقدار اگر اچانک بڑھ جائے تو یہ دل اور گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر اُن لوگوں میں جنہیں پہلے سے گردوں کے مسائل درپیش ہوں۔ اسی طرح زیادہ مقدار میں کیلا کھانے سے شوگر لیول بھی غیر متوازن ہو سکتا ہے۔

ایک نئی تحقیق معلوم ہوا ہے کہ انسان کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا سے اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کیا جِلد کے کینسر کے علاج کے بعد اس بیماری کے دوبارہ ہونے کا کتنا خطرہ ہے۔نیو یارک یونیورسٹی لینگون ہیلتھ نے جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ماضی کے مطالعوں میں میلینوما سے متعلق معلوم ہوا ہے کہ 25 سے 40 فی صد مریضوں میں سرجری اور امیونوتھراپی کے بعد بیماری دوبارہ لوٹ آتی ہے۔میلانوما جِلد کے کینسر کی ایک قسم ہے جو عموماً سورج کی شعاعوں کی زیادہ نمائش سے منسلک ہوتی ہے۔ اس کا علاج سرجری یا امیونوتھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ نئی تحقیق نیو یارک یونیورسٹی لینگون ہیلتھ اور اس کے پرلمٹر کینسر سینٹر کے محققین کی سربراہی میں کی گئی جو سائنسی جرنل سیل میں شائع ہوئی۔تحقیق مین میں عالمی کلینیکل ٹرائل میں شامل 674 میلانوما مریضوں کے اسٹول کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔محققین نے دریافت کیا کہ آنتوں میں موجود مخصوص بیکٹیریا کی مقدار میں فرق، کینسر کے دوبارہ ہونے کی پیش گوئی 94 فی صد تک درستگی کے ساتھ کر سکتا ہے

میتھی کے بیج صدیوں سے روایتی طب میں استعمال ہوتے آ رہے ہیں، مگر اب جدید تحقیق بھی ان کی افادیت کی تصدیق کر رہی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق اگر میتھی کے بیج رات بھر پانی میں بھگو کر صبح خالی پیٹ استعمال کیے جائیں تو ان کے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں اور یہ جسم کے لیے قدرتی توانائی کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔غذائیت سے بھرپور یہ بیج فائبر، آئرن، پروٹین اور اہم وٹامنز جیسے اے، بی، سی اور کے سے مالا مال ہوتے ہیں، جبکہ ان میں میگنیشیم، مینگنیج اور پوٹاشیم جیسے معدنیات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی اجزاء مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بھیگی ہوئی میتھی خاص طور پر خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو سست کرتا ہے، جس سے کاربوہائیڈریٹس اور گلوکوز کے جذب ہونے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پائے جانے والے بعض اجزاء انسولین کی پیداوار کو بڑھانے میں بھی مددگار ہوتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔نظامِ ہاضمہ کے حوالے سے بھی میتھی کے بیج اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں موجود فائبر آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش کو فروغ دیتا ہے، جس سے قبض، گیس، تیزابیت اور اپھارے جیسے مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے ہاضمے کے لیے ایک قدرتی معاون غذا قرار دیا جاتا ہے۔وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بھی میتھی مفید ہو سکتی ہے کیونکہ اس کا فائبر معدے کو دیر تک بھرا محسوس کرواتا ہے، جس سے غیر ضروری کھانے کی عادت میں کمی آتی ہے۔ مزید یہ کہ اس میں موجود پروٹین اور معدنیات پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی تھکن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر ورزش کے بعد۔دل کی صحت کے لیے بھی میتھی کے بیج فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ یہ خراب کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی ممکن ہے۔دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بھی میتھی کا استعمال مفید بتایا جاتا ہے، کیونکہ اس سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حاملہ خواتین اور ذیابیطس کے مریض میتھی کو باقاعدہ خوراک کا حصہ بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے

موبائل فون میں موجود ایک بظاہر معمولی سیٹنگ اب صارفین کے لیے بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے، جہاں ہیکرز صرف ایک کوڈ کے ذریعے آپ کی کالز اور بینک سے متعلق حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت احتیاط نہ کی جائے تو یہ طریقہ کار آپ کی جمع پونجی تک کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔حالیہ عرصے میں سامنے آنے والے اس نئے فراڈ میں ہیکرز کو نہ تو آپ کے پاس ورڈ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ براہِ راست او ٹی پی مانگتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ ایک چالاک طریقہ اختیار کرتے ہیں جسے ’’کال فارورڈنگ اسکیم‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے صارف کو لاعلمی میں ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس فراڈ میں دھوکے باز خود کو بینک اہلکار، کسٹمر سروس نمائندہ یا ڈیلیوری بوائے ظاہر کرتے ہیں اور کسی مسئلے کا بہانہ بنا کر صارف کو فون کرتے ہیں۔ وہ نہایت مہارت سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے فون سے ایک مخصوص کوڈ ڈائل کرنا ضروری ہے۔ یہ کوڈ عام طور پر 21# یا 401# ہوتا ہے۔ اکثر لوگ ان کی باتوں میں آ کر یہ کوڈز ڈائل کر دیتے ہیں، جو دراصل خطرے کی گھنٹی ثابت ہوتا ہے۔جیسے ہی یہ کوڈ ڈائل کیا جاتا ہے، صارف کی کالز، میسجز اور او ٹی پی خفیہ طور پر کسی اور نمبر پر منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں ہیکر باآسانی بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اس کے نشانے پر آسکتے ہیں۔اس طریقہ واردات کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں کسی ایپ کو انسٹال کرنے یا او ٹی پی شیئر کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، یعنی سارا عمل خاموشی سے مکمل ہو جاتا ہے اور صارف کو اس وقت تک کچھ پتہ نہیں چلتا جب تک نقصان ہو نہ جائے۔اپنے موبائل کی کال فارورڈنگ خود چیک کریںماہرین کے مطابق صارفین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے فون کی کال فارورڈنگ سیٹنگز چیک کریں۔ اس کے لیے مخصوص کوڈز #62# یا #21# ڈائل کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا کالز کسی اور نمبر پر منتقل ہو رہی ہیں یا نہیں۔ اگر اسکرین پر کوئی نامعلوم نمبر ظاہر ہو تو فوراً اسے ہٹا دیں۔اگر شک ہو کہ فون میں کال فارورڈنگ فعال ہو چکی ہے تو ایک مخصوص کوڈ ##002# کے ذریعے تمام فارورڈنگ سیٹنگز بند کی جا سکتی ہیں، جس سے ممکنہ نقصان سے بچاؤ ممکن ہے۔حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین سختی سے تاکید کرتے ہیں کہ کسی بھی نامعلوم کال پر کوئی کوڈ ڈائل نہ کیا جائے، نہ ہی اپنا او ٹی پی یا پن کسی کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ اگر کوئی شخص کسی بہانے سے ایسا کرنے کو کہے تو فوراً کال ختم کر دیں۔یاد رکھیں، معمولی سی لاپرواہی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے بروقت احتیاط ہی آپ کی مالی سلامتی کی ضمانت ہے

ایل پی جی کی قیمت اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 550 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں ایل پی جی سرکاری طور پر مقررہ نرخ سے بھی 200 روپے زائد قیمت پر مل رہی ہے۔دریں اثنا ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالہادی خان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں سپلائی کی کمی اور ڈسٹری بیوٹرز کو مہنگا مال ملنا زائد قیمت پر فروخت کی بنیادی وجوہات ہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا اور متعلقہ امپورٹرز ایل پی جی کی زائد قیمتوں پر ہونے والی فروخت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکے ہیں جس سے بحران بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی معروف ٹی وی اداکارہ علیزے شاہ نے نوجوان اداکارہ عینا آصف کے حق میں کھل کر حمایت کا اظہار کردیا۔علیزے شاہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر عینا آصف کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں بعض سینئر فنکار نئے یا کم تجربہ کار اداکاروں کو وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں نیچا دکھانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عینا آصف اپنی نسل کی بہترین اداکاراؤں میں شامل ہیں اور غیر معمولی جذباتی ذہانت رکھتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کے رویے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں، خاص طور پر ان کے ساتھ جو شوبز کے پس منظر سے تعلق نہیں رکھتیں۔ علیزے شاہ نے عینا آصف پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمت کے ساتھ اپنے تجربات سب کے سامنے رکھے۔یاد رہے کہ عینا آصف نے حال ہی میں ایک پروگرام میں سینئر اداکاروں کے رویے سے متعلق بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ بعض مواقع پر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے یا طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی۔علیزے شاہ نے نوجوان اداکارہ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کھل کر بات کرنا دیگر نوجوان فنکاروں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب میں ایران، عالمی سیاست اور داخلی معاملات پر سخت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیک نیوز ایسا تاثر دے رہی ہے جیسے امریکا جنگ ہار رہا ہو حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے دنیا میں 8 جنگیں ختم کرائیں جبکہ ایک جنگ جیتنے کے قریب ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب مذاکرات چاہتا ہے اور بےتابی سے ڈیل کی کوشش کر رہا ہے تاہم کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی قیادت نے ڈیل سے انکار کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے جبکہ ڈیل کی صورت میں بھی داخلی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی نیوی اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تاہم فیک نیوز اس کے برعکس تصویر پیش کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے 100 میزائلوں کو ناکام بنایا جو اہم اہداف کی طرف بڑھ رہے تھے۔
خطاب میں انہوں نے سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی پالیسیوں نے امریکا کو نقصان پہنچایا۔
امریکی صدر نے کہا کہ بی 2 بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایرانی فوجی قیادت کو شدید دھچکا پہنچا۔
داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایئرپورٹس پر امیگریشن حکام کی تعیناتی سے پروازوں میں تاخیر کا مسئلہ حل کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر نیشنل گارڈز بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے ڈیموکریٹ پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شٹ ڈاؤن کے باعث ایئرپورٹس متاثر ہوئے اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو فنڈنگ نہ ملنے سے ٹی ایس اے عملہ چھٹیوں پر چلا گیا۔
اختتام پر انہوں نے آئندہ مڈٹرم انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کا دعویٰ بھی کیا۔