عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹومی پگوٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر سفارتی راستے کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم امریکا صرف ایسا معاہدہ قبول کرے گا جو امریکی مفادات کے مطابق ہو۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی عوام کے لیے اچھی ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق مختلف سفارتی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں امریکی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک ممکنہ فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم امریکی حکام اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
امریکی اخبار نے انکشاف کیا کہ پراجیکٹ فریڈم کیلئے فضائی حدود دینے سے سعودی انکار نے ٹرمپ کو آپریشن روکنے پر مجبور کیا۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی فون پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو منانے کی کوشش ناکام رہی۔رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ فریڈم کی بروقت اطلاع نہ ملنے پر ناراض سعودی عرب نے ریاض کے فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں کی رسائی روک دی تھی، امریکا کو منع کردیا تھا کہ اس کے جہاز ریاض کے اڈے سے نہیں اڑ سکتے، ٹرمپ کو امریکی فوجیوں کی امریکی فوجی اڈے تک رسائی جاری رکھوانے کے لیے پراجیکٹ فریڈم روکنا پڑا۔سعودی عرب میں امریکی اڈے پر امریکی لڑاکا طیارے، ری فیولنگ ٹینکرز اور ائیر ڈیفنس سسٹمز تعینات ہیں۔پراجیکٹ فریڈم کے لیے امریکی بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہاں سے لڑاکا طیارے اڑانا ضروری تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ ڈیل میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اہم کردار ادا کیا اور یہ فریم ورک صدارتی منظوری کے بعد تیار کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت ایران اپنے ہائی لیول افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے پر آمادہ ہوتا جبکہ 12 سے 15 سال تک یورینیم افزودگی محدود رکھنے کی شرط بھی شامل تھی۔
اس کے بدلے ایران کو تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور معاشی پابندیوں میں نرمی دی جانا تھی۔
وائرڈ کے مطابق ابتدائی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو سیاسی طور پر حساس قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کیونکہ ایران کو بڑی مالی رعایت دینے کا تاثر امریکی سیاست میں شدید ردعمل پیدا کر سکتا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد یو ایف سی اسٹارز کے ہمراہ صحافیوں کو اچانک اپنے دفتر میں بلالیا تھا جہاں انہوں نے مختلف سوالوں کے جواب دیے اور امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہوجائےگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اچھے مذاکرات ہوئے ہیں اور زیادہ امکان ہے کہ ہم معاہدہ کرلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے دیگر شرائط میں سے اتفاق کیا کہ وہ جوہری ہتھیار کبھی حاصل نہیں کرے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر یہ عندیہ بھی دیا کہ مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کے لیے امریکی میڈیا میں زیرگرد 30 دن کی مہلت کی رپورٹ قابل ترمیم ہے اور کبھی کوئی ڈیڈلائن نہیں ہوتی۔
قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے دی گئی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پاجائے۔
انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے ڈکٹیشن یا بھتے کی دھمکیوں کے بجائے خلوص نیت ضروری ہوتی ہے تاہم جیسے ہی امریکی تجاویز پر اپنے حتمی رائے قائم ہوجائے گی تو اس حوالے سے پاکستان کو آگاہ کردیا جائے گا۔
ایران امریکا جنگ نے عرب امارات میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردئیے، سیکڑوں ہم وطن واپس پاکستان پہنچ گئے اور انہیں بھجوانے والے اوورسیز ایمپلائز پروموٹرز بھی پریشان ہوگئے۔
پروموٹرز کو عرصہ دراز سے اربوں روپے سکیورٹی کی مد میں عرب امارات میں جمع کرانے کے باوجود مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے، حکومت کی جانب سے بھی اس اہم ترین مسٔلے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔اوورسیز ایمپلائز پروموٹر ایسوسی ایشن کے رہنما اظہر اقبال نے کہا کہ ایران امریکا کشیدگی کے بعد خاص طور پر دبئی میں پاکستانیوں کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو چکے ہیں، پہلے ہی پاکستان کے لیے ویزوں کا اجرا بند تھا رہی سہی کسر ایران امریکا کشیدگی کے باعث پاکستانیوں کو وہاں سے نکالے جانے کی وجہ سے پوری ہوگئی، سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی واپس آچکے ہیں اکاؤنٹ فریز ہو چکے ہیں جن کمپنیوں کے ساتھ کنٹریکٹ تھے وہ منسوخ ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہماری سکیورٹی کی مد میں اربوں روپے وہاں جمع ہیں جبکہ پاکستان میں لائسنس کے لیے بھی اربوں روپے حکومت پاکستان کو دئیے ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں کو باعزت ملازمتیں فراہم کی جو سالانہ آٹھ دس ارب ڈالر دن رات محنت کرکے پاکستان بھجواتے ہیں مگر حکومت پاکستان حالات خراب ہونے کے بعد کچھ نہیں کر رہی ہزاروں پاکستانی بے روزگار ہو چکے ہیں حکمرانوں کے پاس اس اہم مسئلے کے لیے وقت ہی نہیں۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے طے شدہ شرائط مان لیا تو جاری آپریشن ایپک فیوری ختم اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران طے شدہ شرائط مان لیتا ہے جو کہ شاید ایک بڑا مفروضہ ہے تو ایپک فیوری آپریشن ختم کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مؤثر ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی اور ایران نے شرائط مان لیں تو آبنائے ہرمز ایران کے لیے بھی کھل جائے گی۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اور دونوں ممالک ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک صفحے پر مشتمل مجوزہ معاہدہ زیر غور ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس معاہدے میں کئی اہم نکات شامل کیے گئے ہیں جو خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل میں بہتری آنے کی توقع ہے۔اسی طرح رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر سکتا ہے، جو ایران کی معیشت کے لیے ایک بڑا ریلیف ہوگا۔معاہدے کی دیگر اہم شقوں میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی روکنے اور امریکا کی جانب سے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے
متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جنھیں فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنایا تاہم فجیرہ بندرگاہ کی آئل تنصیب پر ڈرون لگنے سے آگ بھڑک اُٹھی تھی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات پر حالیہ دنوں میں کسی بھی قسم کے میزائل یا ڈرون حملے کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ایران کے کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کوئی فوجی آپریشن یا فضائی کارروائی نہیں کی ہے۔تاہم ترجمان ابراہیم الذولفقاری نے یہ بھی واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کو چاہیے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی فوجی موجودگی اور سازوسامان کے لیے پناہ گاہ نہ بنے اور اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ایران کے کمانڈ سینٹر کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کو اس وقت متحدہ عرب امارات کی جانب سے غیر منصفانہ میڈیا مہم، بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کا سامنا ہے۔ جن میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ایرانی فوجی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات خطے میں امریکا اور اسرائیل کے لیے ایک اہم عسکری اڈے کی حیثیت رکھتا ہے جو ان کے بقول مسلم دنیا کے دشمن اور خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہیں۔بیان میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ترجمان ابراہیم الذوالفقاری نے کہا کہ اگر متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر، بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ہم اس کا سخت اور افسوسناک جواب دیں گے۔
چین کے شہر ہانگ زو میں روبوٹ ٹریفک پولیس اہلکار تعینات کردیئے گئے جو ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جگہ فرائض انجام دیں گے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگژو میں یوم مئی کے حوالہ سے پانچ روزہ تعطیلات کے دوران سیاحوں کی مدد اور ٹریفک کنٹرول کے لیے اسمارٹ ٹریفک روبوٹ تعینات کرنے فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ روبوٹ ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مقامی ٹریفک کے نظام کے ساتھ مربوط ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آج بھی خود کو ایسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسا 50 سال پہلے محسوس کرتے تھے۔
واشنگٹن میں بزنس سمٹ سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ آدمی کی صحت خراب ہو تو پتا چل جاتا ہے جیسے پچھلی امریکی انتظامیہ میں پتا چل جاتا تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ آج بھی خود کو ایسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسا 50 سال پہلے محسوس کرتے تھے۔
امریکی صدر نے دورہ چین کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے صدر سے ملاقات کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے متعلق صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیے بغیر تقریب سے روانہ ہو گئے ۔










