بھارتی میڈیا کے مطابق آسام میں بی جے پی اتحاد این ڈی اے نے 92 نشستیں حاصل کر لیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے 126 رکنی اسمبلی میں 64 نشستیں جیتنا لازمی ہیں۔
تامل ناڈو میں اداکار سے سیاستدان بننے والے جوزف وجے کی جماعت 108 نشستیں جیت گئی، تامل ناڈو میں 234 نشستوں میں سے 118 اکثریت کے لیے ضروری ہیں۔
مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 206 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس 80 نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 148 نشستیں درکار ہیں۔
بھارتی ریاست پانڈیچیری میں بی جے پی اتحاد 18 نشستوں پر کامیاب رہا، 33 رکنی اسمبلی میں حکومت کے لیے 17 نشستیں ضروری ہیں
ہیکرز نے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کے خلاف سائبر آپریشن کر کے لاکھوں خفیہ دستاویزات چرا لیں۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ہیکر گروپ حنظلہ نے یواے ای کی فجیرہ بندرگاہ کے خلاف سائبر آپریشن کیا، سائبر آپریشن میں شپنگ، مالیات اور انفراسٹرکچر سے متعلق4 لاکھ 30 ہزار سے زائد خفیہ دستاویزات نکالی گئیں۔
ان خفیہ دستاویزات کو فجیرہ پر ٹارگٹڈ حملوں میں معاونت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ہیکر گروپ کا کہنا ہے کہ یواے ای، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعاون نگرانی میں ہے اور اس کے سنگین نتائج ہوں گے
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو رہی ہے اور خطے میں ایک نئی طاقت کا توازن تشکیل پا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے الزام لگایا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں جہازرانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے اور موجودہ حالات امریکا کے لیے قابل برداشت نہیں رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ’نئی مساوات‘ بن رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے، جبکہ ایران نے ابھی اپنی مکمل حکمت عملی بھی شروع نہیں کی۔دوسری جانب امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں اور جہازرانی پر بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک بحری مشن کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھولنا اور پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔اس منصوبے کے تحت امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرے گی، تاہم ایران کی جانب سے اس اقدام پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، موجودہ کشیدگی کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔اپنے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی طاقت کو بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے اور اب اس کے پاس نہ مؤثر بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی جدید ریڈار سسٹم۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس حوالے سے بہت اچھا کام کر رہا ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سمندر میں 159 ایرانی جہاز ڈبو دیے گئے ہیں تاہم اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے حامی نہیں اور انہیں جنگیں پسند نہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا جبکہ امید ظاہر کی کہ ایران سے متعلق تنازع ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چینی صدر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا ممکنہ دورہ چین انتہائی اہم ہوگا۔ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے بیکار فیصلہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد ٹیرف کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، تاہم محصول بدستور وصول کیا جا رہا ہے
بین الاقوامی تیل منڈی میں یوں تو آج شدید اتار چڑھاؤ رہا لیکن متحدہ عرب امارات کی آئل تنصیب پر ایانی حملے کے بعد اس میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اماراتی آئل تنصیب پر ایران کے ڈرون حملے اور اس میں آگ لگنے کی خبر آتے ہی تیل کی عالمی منڈی میں افراتفری مچ گئی۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی جو کہ یکدم 5 فیصد اضافہ ہے اور یہ دن بھر میں سب سے بڑا ریکارڈ کیا گیا اضافہ ہے۔
یاد رہے کہ امارات کی فُجیرہ کی بندرگاہ کے ذریعے ابوظہبی کے تیل کے ذخائر سے پائپ لائن کے ذریعے خام تیل لایا جاتا ہے اور عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس سے قبل بھی دن بھر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ رہا جب ایک طرف ایران کے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی خبروں نے قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں تو وہیں ان خبروں کی تردید کے بعد قیمتیں دوبارہ نیچے آگئی تھیں۔
تاہم متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کی بندرگاہ کی آئل تنصیب پر ایران کے ڈرون حملے کی خبر نے خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا۔
ارجنٹینا سے جنوبی افریقا جانے والے ایک لگژری کروز شپ پر اچانک پھیلنے والے خطرناک ہنٹا وائرس نے خوف و ہراس پھیلا دیا جہاں اب تک 3 مسافر ہلاک جبکہ کئی مسافر مشتبہ طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق جہاز پر ہنٹا وائرس کے ایک تصدیق شدہ اور 5 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
وائرس کے باعث ایک 69 سالہ برطانوی شہری کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جسے جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ جوہانسبرگ یہ خوفناک واقعہ ایم وی ہونڈیس نامی کروز شپ پر پیش آیا جو اوشین وائڈ ایکسپیڈیشنز کی ملکیت ہے۔
جہاز نے 20 مارچ کو اوشایا سے سفر شروع کیا تھا اور اسے 4 مئی کو کیپ ورڈی پہنچنا تھا۔
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً چوہوں کے پیشاب یا فضلے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور یہ خطرناک حد تک سانس کی بیماری پیدا کر سکتا ہے۔
اگرچہ انسان سے انسان میں منتقلی بہت کم ہوتی ہے لیکن موجودہ صورتحال نے مسافروں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے۔
کروز شپ پر تقریباً 170 مسافر، 57 عملہ، 13 گائیڈز اور صرف ایک ڈاکٹر موجود تھا جس سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے بھی صورتحال پر نظر رکھنے اور اپنے شہریوں کی مدد کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں آپریشن کرنے کی کوشش کریں گی تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔یہ بیان ایرانی فوج کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے بحری مشن کا اعلان کیا۔ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی مکمل طور پر ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے اور یہاں سے گزرنے والی ہر قسم کی بحری آمد و رفت کو ایرانی افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انجام دینا ہوگا۔بیان میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر اجازت یا رابطے کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے ان کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق وہ اس آبی راستے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ایرانی فوج نے اپنے بیان میں خاص طور پر خبردار کیا کہ کسی بھی غیر ملکی فوجی قوت، خصوصاً امریکا کی فوج، اگر آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے
ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ اعلان پر انتہائی سخت اور واضح لہجے میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کو براہ راست جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
عزیزی نے کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا انتظام ٹرمپ کے فریب بھرے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس سے نہیں چلے گا۔ یہاں بیان بازی اور ڈرامہ بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں اعلان کیا تھا کہ آج مشرق وسطیٰ کے وقت کے مطابق صبح سے امریکی فوج پراجیکٹ فریڈم شروع کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے تاکہ اس آپریشن کے تحت غیر جانبدار ممالک کے تجارتی اور تیل کے جہازوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا پیر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے عملی اقدام شروع کرے گا جس کے لیے انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے کے لیے اس عمل پروجیکٹ فریڈم کا نام دیا ہے اور کہا کہ ناکہ بندی کا خاتمہ دراصل ایک انسانی ہمدردی کا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے میں موجود کئی جہازوں پر خوراک اور ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے باعث عملے کی صحت اور حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مشن میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہیں، برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے ملٹی ملینیئر فنانسر کیمرون او’ریلی سے منگنی کر لی ہے اور دونوں جلد شادی کے بندھن میں بندھ سکتے ہیں۔
برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمائما گولڈ اسمتھ اور کیمرون او’ریلی گزشتہ تقریباً 12 ماہ سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں ہیں، جو اب سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات پیشہ ورانہ مصروفیات کے دوران ہوئی، جو بعد ازاں دوستی اور پھر قریبی تعلق میں تبدیل ہو گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ جوڑا زیادہ تر وقت سوئٹزرلینڈ اور لندن میں گزارتا ہے اور قریبی حلقوں کے مطابق دونوں ایک ساتھ خوش ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمائما کے اہل خانہ بھی کیمرون او’ریلی سے ملاقات کر چکے ہیں اور اس تعلق کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منگنی کے بعد دونوں آئندہ چند ماہ میں شادی کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شادی 2026 کے وسط یا آخر تک ہو سکتی ہے، تاہم باضابطہ تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
کیمرون او’ریلی ایک معروف سرمایہ کار ہیں اور متعدد بین الاقوامی کمپنیوں میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ سابق میڈیا ٹائیکون سر انتھونی او ریلی کے بیٹے ہیں اور عالمی مالیاتی حلقوں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب جمائما گولڈ اسمتھ ایک معروف اسکرین رائٹر اور ڈاکیومنٹری پروڈیوسر ہیں، جو سماجی اور انسانی حقوق کے مختلف امور پر بھی سرگرم رہی ہیں۔ وہ ماضی میں بھی اپنی نجی زندگی کے باعث میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔
واضح رہے کہ جمائما گولڈ اسمتھ کی شادی عمران خان سے 1995 میں ہوئی تھی، تاہم دونوں نے 2004 میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کے باوجود جمائما نے پاکستان اور عمران خان سے متعلق مثبت تعلقات برقرار رکھے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس نئے تعلق نے جمائما گولڈ اسمتھ کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، تاہم تاحال ان کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔










