ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں مئی 2026 کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے تحت پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔سرکاری اعلان کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر فیول قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے رجحان کے مطابق کیا گیا ہے۔عرب امارات میں سپر 98 پیٹرول کی نئی قیمت 3.66 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 278 روپے بنتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی مضبوط اور تفصیلی شرائط شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
امریکی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مزید سخت اور تیز رفتار فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جسے خطے کی بدلتی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایسے آپشنز تیار کیے ہیں جن کے تحت ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ممکنہ حملوں کا مقصد یا تو جاری سفارتی تعطل کو ختم کرنا ہے یا کسی بڑی جنگ کے خاتمے سے قبل ایران کو فیصلہ کن دباؤ میں لانا ہے۔میڈیا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک متبادل منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کے ایک حصے پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں بحری آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔اس حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسا اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔امریکی فوجی حکام کی جانب سے آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے حال ہی میں آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ بھی شیئر کیا ہے جس میں اس اہم گزرگاہ کو ایک نئے نام سے ظاہر کیا گیا ہے۔
نیوزی لینڈ کی عدالت نے 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ کر کے 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے آسٹریلوی شدت پسند برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرم کی جانب سے سزا ختم کروانے کی کوشش بالکل بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی قانونی وزن نہیں پایا جاتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزم نے اپنی مرضی سے جرم قبول کیا تھا اور اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ 15 مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ کی دو مساجد—النور مسجد اور لن ووڈ اسلامک سینٹر—پر فائرنگ کے اس ہولناک واقعے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 51 افراد شہید ہوئے تھے۔ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ قرار دیا جاتا ہے۔
ملزم کو اگست 2020 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں پیرول (رہائی) کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ اس نے حالیہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے کے دوران قید کے حالات غیر انسانی تھے، جس کے باعث وہ درست فیصلہ کرنے کے قابل نہیں تھا، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم ذہنی طور پر مستحکم تھا اور اس کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جبکہ ماہرین اور جیل حکام کی رپورٹس بھی اس کے دعوے کے خلاف تھیں۔
متاثرہ خاندانوں اور بچ جانے والے افراد کے وکلا نے عدالت کے فیصلے کو بڑی راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے انہیں دوبارہ مقدمہ چلنے کے ذہنی صدمے سے بچا لیا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر طنز کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔
26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اقدامات اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے پاس اب تیل کی ترسیل کے لیے ’کوئی جہاز باقی نہیں رہا‘ اور اس صورتحال کے نتیجے میں ایران کی تیل پائپ لائنیں ’پھٹ سکتی ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں۔
یہی دعویٰ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی طرف سے 28 اپریل کو سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور ’جلد ہی کنویں سے تیل نکالنے کا عمل رُک جائے گا۔‘
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘
انھی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے باقر قالیباف نے ایکس پوسٹ میں لکھا: ’تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا۔‘
ایرانی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مدت کو مزید 30 دن بڑھا کر کنویں کی صورتحال براہ راست نشر بھی کر سکتے ہیں۔‘
ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی کارروائی کرے گا جو یاد رکھی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور سمندری قزاقی کے مترادف ہیں۔
ایرانی حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا عالمی تجارت میں مداخلت کر رہا ہے اور ایرانی املاک پر غیر قانونی قبضہ کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف ایران کو بھرپور جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے
امریکا کا ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد توانائی مارکیٹ میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق لندن میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 8.17 ڈالر کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 7.5 فیصد مہنگا ہو کر 107.46 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا ہے۔
اسی طرح ابوظہبی بینچ مارک مربن خام تیل کی قیمت میں بھی 2.61 ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد یہ 109.3 ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات مشرق وسطیٰ سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں دوبارہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ہمیں بھی نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے اور بہت چیلنجنگ صورت حال کا سامنا ہے لیکن اجتماعی بصیرت اور کاوشوں سے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے ایک نئے تجویز پر غور کیا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش شامل ہے، بشرطیکہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کی جانب سے اس تجویز کی مکمل تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور جلد از جلد آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ اس پیشکش سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی پیشکش کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ایران اس سے قبل بارہا جوہری ہتھیار بنانے کے عزائم کی تردید کرتا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے نظر ثانی شدہ تجاویز پر سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن مانگ لیے اور امریکی اخبار کے مطابق ایران نے ثالثوں کو بتایا کہ سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن درکار ہیں۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی طویل ناکہ بندی کی تیاری کی ہدایت دی ہے، تاکہ تہران کو یورینیم افزودگی روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک اب بھی جنگی صورتحال میں ہے اور دشمن کی کسی بھی نئی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا عمل پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے
ٹرمپ نے اپنی تصویر شیئر کی جس میں وہ گینگسٹر اسٹائل میں بندوق اُٹھائے ہوئے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر جوہری مذاکرات کے لیے زور ڈالتے ہوئے شدید الفاظ میں دھمکی دی ہے۔اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ جلد از جلد ہوش کے ناخن لیں۔انھوں نے مزید لکھا کہ ایران حالات ٹھیک نہیں کرسکتا۔ انھیں معلوم ہی نہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے پاک معاہدے کیسے کیے جاتے ہیں۔امریکی صدر نے تنبیہ کی کہ دانش مندی اسی میں ہے کہ ایران جلد از جلد ہوش کے ناخن لیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے اس بیان کے ساتھ ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس میں وہ بندوق اٹھائے ہوئے ہیں جس پر لکھا ہے کہ اب مزید نہیں، اچھے ساتھی۔یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے جس کے بعد سے جنگ تاحال کسی نہ کسی صورت میں تاحال جاری ہی ہے البتہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے تھے۔تاہم امریکا نے ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے کو رد کردیا ہے جب کہ ایران بھی دشمن ممالک کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دے رہا ہے جس سے دنیا بھر میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایران نے حال ہی میں امریکا کو ایک نئی تجویز بھی پیش کی ہے لیکن صدر ٹرمپ اس سے مطمئن نظر نہیں آرہے ہیں اور انھوں نے ایران کو مجبور کرنے کے لیے دھمکی آمیز ٹوئٹس کا سہارا لیا ہے
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں تاخیر ہے۔
تاہم سرمایہ کاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں پر ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے زیادہ اثر زمینی حقائق یعنی تیل کی قلت ہے۔
اس حوالے سے تجزیہ کار نیل ولسن کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اب سفارتی بیانات کے بجائے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ سمندر میں تیل کی ترسیل کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بھی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کے شکار مذاکرات دوبارہ شروع نہ ہوسکے ہیں لیکن ان خدشات کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
امریکا میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں کمی دیکھی گئی جبکہ یورپ میں معمولی بہتری اور ایشیا میں زیادہ تر مارکیٹس منفی رجحان پر بند ہوئیں۔
ادھر امریکا میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق اوسط قیمت 6 سینٹ اضافے کے بعد 4.18 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو اگست 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آئندہ ایک سے دو ہفتوں میں قیمتیں 4.30 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں جو 250 ملین بیرل کی معمول کی سطح سے کم ہو کر 230 ملین بیرل سے نیچے آ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکا مشرق وسطیٰ میں سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ریکارڈ مقدار میں تیل اور ریفائنڈ مصنوعات برآمد کر رہا ہے جس سے اندرون ملک قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
خاص طور پر ریاست کیلیفورنیا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جو عوام کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل اور درست تصویر فراہم نہیں کر رہا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاسوں میں بارہا اس بات پر سوال اٹھایا کہ آیا دفاعی ادارے کی جانب سے دی جانے والی بریفنگز مکمل اور حقیقت پر مبنی ہیں یا نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جے ڈی وینس نے خاص طور پر امریکی میزائل ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی اور اس حوالے سے صدر ٹرمپ کو براہ راست آگاہ کیا۔
دو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے مطابق نائب صدر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پینٹاگون جنگ کے حوالے سے جو معلومات فراہم کر رہا ہے، ان کی شفافیت اور درستگی کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔
انٹیلیجنس جائزوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنی فوجی صلاحیت کا بڑا حصہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جس میں فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ، میزائل لانچ کرنے کی نمایاں صلاحیت اور تیز رفتار بحری کشتیاں شامل ہیں۔ یہ کشتیاں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
مزید برآں رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد ایران کے تقریباً 50 فیصد میزائل لانچرز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر مزید نظام فعال کیے جا رہے ہیں، جو خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔
امریکی جریدے نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی لکھا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی بریفنگز کا انداز صدر ٹرمپ کی ترجیحات کے مطابق ہوتا ہے۔
ایک سابق عہدیدار کے مطابق وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ صدر کو کس انداز میں معلومات دی جائیں، جبکہ ایک اور سابق اہلکار نے خبردار کیا کہ اگر صدر کو مکمل حقائق نہ بتائے جائیں تو یہ صورتحال خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔










