اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ جے محمد نے دنیا بھر میں جاری جنگی تنازعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا پر درندوں نے قبضہ کر لیا ہے اور جبکہ انسان اپنی بنیادی انسانیت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ مختلف خطوں میں جاری جنگوں، شہری ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مزید تباہی کو روکا جا سکے۔اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ تنازعات کے حل کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے، تاکہ دنیا کو مزید بدامنی اور بحران سے بچایا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی بھی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اوپیک سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ ملک کی طویل مدتی معاشی حکمت عملی اور بدلتے ہوئے توانائی کے شعبے کے مطابق کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پیداوار کی پالیسی سمیت موجودہ اور مستقبل کی صلاحیت کا مکمل جائزہ اور غور و خوص کے بعد لیا گیا جس میں قومی سلامتی اور ملکی ضرورت کو مقدم رکھا گیا۔متحدہ عرب امارات کی وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ اوپیک چھوڑنے کے بعد بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق بتدریج اور محتاط انداز میں اضافی تیل فراہم کرتے رہیں گے۔اس وقت متحدہ عرب امارات کو دیگر خلیجی ممالک کی طرح آبنائے ہرمز کی بندش جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر تیل برآمدی مراکز اسی علاقے میں واقع ہیں۔خیال رہے کہ اوپیک تنظیم 1960 میں قائم ہوئی تھی جو رکن ممالک کے لیے تیل کی پیداوار کی حد مقرر کرتا ہے تاکہ عالمی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات 1967 میں شامل ہوا تھا۔متحدہ عرب امارات اوپیک کے اہم ارکان میں شمار ہوتا رہا ہے اور خطے میں سعودی عرب کے بعد نمایاں تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔تاہم گزشتہ چند برسوں سے امارات اپنی پیداواری حد (کوٹا) اور چند پالیسیوں پر اوپیک سے اختلافات کا اظہار بھی کرتا رہا ہے۔ وہ اپنی پیداوار بڑھانے اور کوٹے میں اضافے کا خواہاں تھا
امریکا ایران کشیدگی، مشرق وسطی میں غیر واضح جنگ بندی سے بین الاقوامی سطح پر قیمتی دھاتوں سمیت دیگر شعبوں کی مارکیٹوں میں غیریقینی ماحول کے باعث عالمی و مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی اتارچڑھ کے بعد مندی دیکھی جارہی ہے ۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں اچانک 89ڈالر کی بڑی نوعیت کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 627 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔
دوسری جانب مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی آج فی تولہ سونے کی قیمت 8ہزار 900روپے کی بڑی نوعیت کی کمی سے 4لاکھ 85ہزار 62روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 7ہزار 630روپے کی کمی سے 4لاکھ 15ہزار 862روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 38سینٹس گھٹ کر 73ڈالر 27سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 238روپے کی کمی سے 7ہزار 811روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 204روپے کی کمی سے 6ہزار 696روپے کی سطح پر آگئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ سفارتی رابطوں میں امریکا کی طرف سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا جسے انہوں نے “اہم پیشرفت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ باعزت اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اس دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ماضی میں امریکا یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سرگرمیوں پر بات چیت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات اکثر سفارتی دباؤ بڑھانے یا اپنی پوزیشن مضبوط دکھانے کیلئے بھی دیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوں۔
مزید پیشرفت کیلئے دونوں جانب سے باضابطہ بیانات اور سفارتی اقدامات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے معروف کامیڈین جمی کمل کو فوری طور پر ملازمت سے نکالنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ ردعمل اس وقت دیا جب جمی کمل نے مبینہ طور پر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے لیے منعقد کردہ ڈنر سے قبل اپنے شو میں ایک مذاق کیا جس میں خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کے بارے میں متنازع جملہ کہا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ ڈنر تقریب پر حملے کی کوشش کرنے والا شخص واضح اور خطرناک مقصد کے ساتھ وہاں آیا تھا۔ انھوں نے جمی کمل کے مزاحیہ تبصرے کو تشدد پر اکسانے سے بھی جوڑا۔
امریکی صدر نے مطالبہ کیا کہ جمی کمل کو اے بی سی اور ڈزنی چینل سے فوری طور پر برطرف کردیا جائے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ اور جمی کمل کے درمیان تنازع سامنے آیا ہو۔
جمی کمل اپنے پروگرام میں اکثر ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں پر طنز کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی ایک واقعے میں چینل اے بی سی نے جمی کمل کو عارضی طور پر شو سے ہٹا دیا تھا۔
تاہم آزادیِ اظہار کے حق میں عوامی ردعمل کے بعد جمی کمل کو دوبارہ چینل پر پروگرام کرنے کی اجازت دیدی گئی تھا اور ان کا شو آج بھی کافی مقبول ہے۔
برطانیہ کے بادشاہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر اہلیہ کامیلہ چارلس کے ہمراہ امریکا پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی شاہی جوڑے کا خصوصی طیارہ واشنگٹن کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز پر اترا جہاں اعلیٰ امریکی حکام استقبال کے لیے موجود تھے۔
برطانوی شاہ چارلس کا امریکا کا یہ چار روزہ دورہ ہے اور بطور بادشاہ ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ جس کا مقصد برطانیہ اور امریکا کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے جو حالیہ دونوں میں کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔
برطانیہ کے بادشاہ اور ملکہ اس دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس دورے میں وائٹ ہاؤس میں تقریب، سرکاری ضیافت اور دیگر اہم ملاقاتیں شامل ہیں۔
علاوہ ازیں برطانوی بادشاہ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے جو ایک غیر معمولی اور اہم سفارتی موقع سمجھا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ یہ دورہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے موقع پر بھی کیا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران بادشاہ اور ملکہ نیویارک اور دیگر مقامات کا بھی دورہ کریں گے۔
اس اہم دورے کو برطانیہ اور امریکا کے درمیان اسپیشل ریلیشن شپ کو بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جس کے خطے پر دور رس نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔
جرمنی کے چانسلر نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے کوئی حکمتِ عملی موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات فریڈرک مرز نے جرمنی کے شہر مارسبرگ میں ایک اسکول کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
جرمنی کے چانسلر نے مزید کہا کہ ایرانی نہ صرف مذاکرات میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات وہ مذاکرات نہ کرکے بھی برتری حاصل کر لیتے ہیں۔ جیسے امریکی وفد اسلام آباد گیا مگر بغیر کسی نتیجے کے واپس لوٹ آیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں امریکا اس جنگ کو جلد ختم نہیں کرسکے گا کیونکہ ایرانی قیادت توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے جب کہ امریکا کے پاس مذاکرات کے لیے کوئی خاص مؤثر یا قابلِ اعتماد حکمتِ عملی بھی نظر نہیں آتی۔
فریڈرک مرز نے کہا کہ امریکا نے ایران جنگ میں داخل ہونے سے پہلے واضح اہداف طے نہیں کیے جو ایک بڑی خامی ہے۔
انھوں نے عراق اور افغانستان کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے انخلا کی حکم عملی بنائے بغیر کسی بھی جنگ میں جانا ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
جرمنی کے چانسلر نے مزید کہا کہ یہ سارا معاملہ کم از کم غیر دانشمندانہ ہے اور اس وقت یہ واضح نہیں کہ امریکا اس صورتحال سے نکلنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
اسرائیل کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 بھی اسرائیل کے لیے مختلف محاذوں پر جنگ کا سال ہوسکتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے اسرائیلی فوج مسلسل ایک ملٹی فرنٹ مہم میں مصروف ہے اور یہ رواں بھی جاری رہے گی۔
آرمی چیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی فوج کو اپنے بڑھتے ہوئے آپریشنل تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مزید اہلکاروں اور جنگجوؤں کی فوری ضرورت ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ آنے والے برسوں میں فوج کو درپیش بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے پیش نظر اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ فوجی افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور اسرائیل بیک وقت مختلف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
ایران ایران ایک ’’آبنائے ہرمز مینجمنٹ پلان‘‘ پر کام کر رہا ہے جس کے تحت نہ صرف مخصوص ممالک کے جہازوں پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں بلکہ گزرنے والے جہازوں سے فیس یا ٹول ٹیکس بھی لیا جا سکتا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کی تیاری تیز کر دی ہے جس کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ کا مکمل اختیار ملکی مسلح افواج کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بتایا کہ مطابق مجوزہ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، نگرانی اور گزرگاہ کے انتظامات مسلح افواج کی ذمہ داری ہوں گے۔ یاد رہے کہ عملی طور پر اس وقت بھی ایران کی مسلح افواج اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول رکھتی ہیں تاہم نئے قانون کے ذریعے اسے باضابطہ اور قانونی شکل دی جائے گی۔ابراہیم عزیزی نے ریاستی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایران اپنے دشمن ممالک سے وابستہ جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انھوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ مجوزہ قانون کے تحت آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ایرانی کرنسی (ریال) میں وصول کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔ایرانی پارلیمان نے یہ تجویز بھی رکھی ہے کہ جب جہاز آبنائے ہرمز سے گزریں تو شپنگ کمپنیوں سے مخصوص سروسز کے بدلے فیس لی جائے۔ اس طریقے سے وہ براہِ راست ٹول ٹیکس کہے بغیر فیس لے سکیں گے۔ایران اس منصوبے کو اس انداز میں پیش کر رہا ہے کہ اسے سیاسی اور قانونی حمایت زیادہ مل سکے، اور اس پر عمان کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ روسی صدر ولادمیر پیوٹن سمیت اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ تہران اور ماسکو کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت کو جاری رکھنے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن سے ملاقات موجودہ جنگی صورتحال اور اس کی تازہ پیش رفت پر بات چیت کا ایک اہم موقع ثابت ہوگی۔
ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے عمان کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر اہم بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ کے ساحلی ممالک ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان اس معاملے پر اعلیٰ سطح کا اتفاق پایا جاتا ہے اور دونوں ممالک نے ماہرین کی سطح پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق روس، پاکستان اور عمان کے ساتھ ایران کے بڑھتے سفارتی روابط خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں









