ایران میں اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا جب کہ گزشتہ روز بھی ایک نوجوان کو سزائے موت دی گئی تھی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تنسیم نیوز کے مطابق یعقوب کریمپور اور ناصر بقرزادہ پر الزام تھا کہ وہ 1980 سے 1988 تک ایران عراق جنگ میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کے طور پر کام کر رہے تھے۔
ایران کی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود دستاویز سے پتا چلتا ہے کہ ملزمان پر موساد کے ساتھ تعاون کرنے کے عوض ڈیجیٹل فنڈنگ بھی ملتی تھی۔ ملزمان موساد سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے رابطے میں تھے۔
دونوں ملزمان نے اہم ترین جوہری تنصیب نطنز کے ساتھ ساتھ حساس مقامات سے متعلق معلومات اور ڈیٹا جمع کرکے موساد کو فراہم کیا تھا۔ جس سے ملک کی قومی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔
ملزمان کو گرفتاری کے بعد مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سزائے موت سنائی گئی جسے سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا جس کی تعمیل میں آج صبح دونوں مجرموں کو پھانسی دیدی گئی۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث پہلے سے مالی مشکلات کا شکار اسپرٹ ایئرلائنز اپنا آپریشن جاری نہ رکھ سکی۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی حکومت نے کہا ہے کہ کمپنی کو بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم قرض دہندگان نے امدادی پیکج مسترد کر دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 50 کروڑ ڈالر کی امداد کی تجویز دی تھی لیکن ان کے فیصلے کو سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اسپرٹ‘ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی لیکن ایران جنگ نے ایندھن کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا، وہ کمپنی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ کمپنی نے اپنے بحالی کے منصوبے میں ایندھن کی قیمت کا 2.24 ڈالر فی گیلن تخمینہ لگایا تھا تاہم موجودہ قیمت 4.51 ڈالر تک پہنچ جانے سے تمام تخمینے غلط ثابت ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی کے بند ہونے سے تقریباً 15 ہزار ملازمین اور کنٹریکٹرز متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے، جن کی مدد کے لیے دیگر بڑی ایئرلائنز میدان میں آ گئی ہیں۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز، ڈیلٹا ایئر لائنز، جیٹ بلیو اور ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اسپرٹ کے متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی اور خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ایئرلائنز نے ’اسپرٹ‘ کے عملے کو مفت سفر کی سہولت بھی فراہم کرنا شروع کردی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔
ماہرین کے مطابق اسپرٹ ایئرلائنز کی بندش امریکا کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس حجم کی کوئی ایئرلائن بند نہیں ہوئی۔ یہ کمپنی کم قیمت ٹکٹ فراہم کر کے مارکیٹ میں مقابلے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔
اسپرٹ ایئرلائنز پہلے ہی 2019 کے بعد سے مسلسل خسارے کا شکار تھی اور اسے گزشتہ سال دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے جیٹ بلیو کے ساتھ مجوزہ انضمام بھی ناکام ہو گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایئرلائن کی بندش سے اس کے حریف اداروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ واقعہ عالمی معیشت اور جنگی حالات کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔
اُدھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تاحال متاثر ہے، جس سے عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی متاثر اور قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ اس صورتِ حال نے دنیا بھر کی ایئرلائنز کے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران نے ایک نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے، تاہم اس میں پیشرفت کا انحصار امریکی رویے پر ہوگا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف اور مطالبات میں واضح اور شفاف ہے، اور اگر امریکا واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران قومی مفادات اور دفاعی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
رضا امیری مقدم کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے یہ نیا سفارتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے، اور موجودہ عمل میں پاکستان ایک مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار میں کسی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری ایران کے مؤقف کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، جبکہ امریکا کا رویہ غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے، لیکن مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار امریکا کے رویے پر ہے۔
ایرانی سفیر نے پاک-ایران تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرجاوہ بارڈر، تفتان بارڈر اور گبد ریمدان بارڈر تجارت کے لیے اہم راستے ہیں، اور پاکستان خطے میں تجارتی تنوع اور ایران کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور اب تک ایران نے اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ ڈیل کی تجاویز سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ جلد ان کی تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔
انہوں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایران کی پیشکش قابل قبول ہو سکے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کی ایران سے مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں
ان کے بقول آبنائے ہرمز میں امریکی حکمت عملی ایک دوستانہ ناکابندی ہے جس کا مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں قیادت میں واضح ہم آہنگی نظر نہیں آتی اور مختلف بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کا مرکز غیر واضح ہے۔
انہوں نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جرمنی سے 5 ہزار سے زائد فوجی اہلکار واپس بلانے جا رہا ہے، جسے دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرتے نہیں دیکھنا چاہتے اور اسی تناظر میں واشنگٹن کی پالیسی سخت دباؤ اور ممکنہ کارروائیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔
امریکا نے نیٹو کے اتحادی جرمنی سے اپنے 5,000 فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپ کے درمیان ایران جنگ کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ جھگڑے کے تناظر میں جرمنی میں اپنی افواج میں کمی کی دھمکی دی تھی۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ یورپ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت میں امریکا کی تذلیل کر رہے ہیں اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ واشنگٹن کیا خارجی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
پینٹاگون کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ حالیہ جرمن بیان بازی “نامناسب اور غیر مددگار” تھی۔ اہلکار نے کہا امریکی صدر بجا طور پر ان متضاد ریمارکس پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
پینٹاگون نے جرمنی سے اپنی افوج کے انخلا کے بارے میں کہا کہ انخلا اگلے چھ سے 12 ماہ میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ جرمنی میں تقریباً 35,000 فعال ڈیوٹی والے امریکی فوجی اہلکار ہیں، جو یورپ کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
سعودی وزارتِ حج نے کم عمر بچوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی واپس لے لی اور 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی ختم کرتے ہوئے پرانی پالیسی بحال کردی ہے۔نئے احکامات کے مطابق 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو حج کی اجازت دوبارہ دے دی گئی ہے، جس کے تحت پہلے مسترد ہونے والے ویزے دوبارہ پراسیس کردیے جائیں گے۔وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، جس میں پاکستانی حجاج کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور بچوں سے متعلق سہولت بحال ہوگئی ہے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل حج پاکستان کی جانب سے جاری مراسلے میں عمر کی نئی حد سے متاثرہ درخواستیں دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے آج حج 2026 کے لیے عازمینِ کی عمر کے حوالے سے نئی اور سخت پابندی فوری طور پر نافذ کی تھی۔ مملکت کی جانب سے اچانک کیے گئے بڑے فیصلے کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کو رواں برس حج کی سعادت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امارات کو ’آئرن بیم‘ لیرز سسٹم اور ’اسپیکٹرو‘ سسٹم فراہم کیااسرائیل نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے دفاع کے لیے متحدہ عرب امارات کو جدید سسٹم فراہم کیے جن میں ایک جدید لیزر دفاعی نظام بھی شامل ہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ’اسپیکٹرو‘ نامی سرویلنس سسٹم متحدہ عرب امارات کو فراہم کیا جو تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے سے آنے والے ڈرونز، خصوصاً شاہد ڈرونز کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اخبار کے مطابق اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنے ’آئرن بیم‘ لیزر دفاعی نظام کا ایک ورژن بھی فراہم کیا جو قلیل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹس اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سسٹم اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں لبنان سے حزب اللہ کے حملوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔ان دونوں دفاعی نظاموں کے ساتھ اسرائیل نے اپنا ’آئرن ڈوم‘ فضائی دفاعی نظام بھی یو اے ای بھیجا جبکہ ان سسٹمز کو چلانے کے لیے درجنوں اسرائیلی فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔اخبار نے ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ مزید ہتھیاراور اضافی اسرائیلی اہلکار بھی امارات میں تعینات کیے گئے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو مغربی ایران کے میزائل حملوں سے متعلق اہم خفیہ معلومات بھی فراہم کیں۔
واشنگٹن: ایران سے اور جنگ کرنی ہے یا نہیں ؟صدر ٹرمپ کا اختیار ختم ہوگیا اور اب جنگ کے حوالے سے امریکی کانگریس آج فیصلہ کرے گی ۔قانون کے تحت امریکی صدر 60 دن میں جنگ کی ایوان سے اجازت لینے کا پابند ہے ۔ 60 دن کی ڈیڈلائن آج ختم ہوگئی ۔وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ عارضی جنگ بندی کی مدت نہ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ 7 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کو بعد میں لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ۔ 7 اپریل کے بعد سے کوئی فائر نہیں ہوا۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوگئی ، جنگ بندی کے بعد سے دونوں ملکوں میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔ وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے ، اس لیے امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں۔دوسری جانب امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نےکہا ہے کہ ایران سے جنگ کب ختم ہوگی؟ اور کب کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوگی؟ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ 60 دن کی پابندی والی گھڑی رک چکی ، اب کانگریس سے اجازت کی ضرورت نہیں رہی۔ادھر امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی چھٹی کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے۔کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف کی قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کا بیشتر افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہونے کا امکان ہے۔اپنے ایک بیان میں رافیل گروسی نے بتایا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار ابھی تک اصفہان جوہری مرکز میں ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر اہم تنصیبات نطنز جوہری تنصیب اور فردو جوہری تنصیب کے معائنے کی بھی ضرورت ہے۔نہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے اندازاً 200 کلو گرام اصفہان کی زیرِ زمین سرنگوں میں رکھا جا سکتا ہے۔رافیل گروسی کے مطابق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے روس اور دیگر ممالک کے ساتھ ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک پیچیدہ اور حساس عمل ہوگا۔ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے بعد ایران کے جوہری پروگرام اور عالمی نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے، جبکہ ممکنہ سفارتی اقدامات اور مذاکرات کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے نام سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی صدر کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پرانی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں ٹرمپ نے مبینہ طور پر غلطی سے آبنائے ہرمز کو “آبنائے ٹرمپ” کہہ دیا تھا اور بعد میں اسے اپنی غلطی قرار دیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نقشہ بھی شیئر کیا، جس میں آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا۔ اس اقدام پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر کو چاہیے کہ وہ درست اور تاریخی طور پر تسلیم شدہ اصطلاحات استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنا یا غلط انداز میں پیش کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بیانات نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ خطے میں غیر ضروری تنازع اور کشیدگی کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔










