تاریخ رقم ہوگئی، سعودی عرب میں ایک صدی بعد جنگلی گدھے کی پہلی پیدائش
سعودی عرب میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ نایاب نسل سے تعلق رکھنے والے اس بچے کی پیدائش کا اعلان ایک سال بعد کیا گیا، کیونکہ جنگلی گدھوں کے لیے زندگی کا پہلا سال انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے سعودی گزٹ کے شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو میں 100 سال سے زائد عرصے بعد مملکت کی سرزمین پر ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے پہلے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے۔
ریزرو انتظامیہ کے مطابق نر بچے کی پیدائش جون 2025 میں ہوئی تھی، تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی 12 ماہ کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگلی گدھوں کے بچوں کے لیے پہلا سال سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے اور ان کی بقا کی شرح 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔
یہ کامیابی جزیرہ نما عرب کی جنگلی حیات کی بحالی کے پروگرام کے تحت حاصل ہوئی، جس کا مقصد 23 مقامی انواع کو ان کے تاریخی قدرتی مساکن میں دوبارہ آباد کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایسے جانوروں کی واپسی ممکن بنائی جا رہی ہے جو کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے عرب کے صحراؤں سے غائب تھے۔
ریزرو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو زالومیس کے مطابق یہ تاریخی پیش رفت اپریل 2024 میں اردن کے رائل سوسائٹی فار دی کنزرویشن آف نیچر کے ساتھ شراکت داری کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ اس پروگرام کے تحت پانچ مادہ اور دو نر ایشیائی جنگلی گدھوں کو اردن کے شومری وائلڈ لائف ریزرو سے 935 کلومیٹر کا سفر طے کرا کے سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔
منتقلی کے بعد ایک مادہ بچے کی پیدائش ہوئی، تاہم بعد میں دو پیدائشیں کامیاب نہ ہو سکیں، جس سے اس نایاب نسل کو دوبارہ آباد کرنے کے عمل میں درپیش چیلنجز کا اندازہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 11 ماہ کے حمل کے بعد پیدا ہونے والے بچے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پیدائش کے 15 سے 20 منٹ کے اندر کھڑا ہو سکے اور دودھ پینا شروع کر دے۔
اس وقت ریزرو میں پانچ ماداؤں اور تین نر جانوروں پر مشتمل ایک ریوڑ موجود ہے، جو سعودی عرب میں اس نسل کا واحد گروپ ہے۔
ریزرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رواں موسم سرما میں مزید دو بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جو تحفظ کی جاری کوششوں کی کامیابی کا ایک اور ثبوت ہوگی۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!