اسرائیل فوج نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کرنے شروع کردیئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیرعظم نیتن یاہو نے اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے جائیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم نیتن یاہو کے حکم کی تعمیل میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دفاتر، ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ جنوبی لبنان میں ان مقامات کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ہمارے فوجیوں اور شہریوں کی جانوں کو لاحق خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بقول حزب اللہ ان ہی مقامات سے فوجیوں اور شہریوں پر حملے کرتی تھی جس سے شدید جانی و مالی نقصان پہنچا تھا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا جنوبی لبنان پر حملے کا حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب اسی ہفتے امریکی صدر نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کی تقریب کے دوران اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول کو سیکیورٹی ادارے نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک زوردار دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دیں جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر حاضرین کو نیچے رہیں کی ہدایت دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو اپنے حصار میں مرکزی اسٹیج سے باہر لے گئے۔
رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کاؤنٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر تعینات ہو گئے اور ہال کے پچھلے حصے کی جانب اسلحہ تان لیا گیا۔
اس دوران کئی مہمان خوف کے باعث میزوں کے نیچے چھپ گئے جبکہ کچھ کو تیزی سے باہر نکالا گیا۔
واقعے کے بعد اعلیٰ حکام کو بھی فوری طور پر نکال لیا گیا جن میں امریکی خاتون اول، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، امریکی کابینہ کے ارکان سمیت پیٹ ہیگسیتھ اور کاش پٹیل شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریباً پانچ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ جبکہ روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور مبینہ طور پر ایک شوٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
عمارت کو چاروں طرف سے سیکیورٹی اہلکاروں نے تاحال گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی گردش کر رہے ہیں۔
واقعے کے بعد ہال میں موجود ہزاروں افراد کو کچھ دیر تک لاک ڈاؤن کی صورتحال میں رکھا گیا جبکہ ماحول میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ میری خواہش ہے کہ تقریب جاری رہے مگر حتمی فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رہنمائی میں کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ ہم فوری طور پر مقام خالی کریں، جو کہ ضابطے کے مطابق ہے، اور ہم فوراً ایسا ہی کر رہے ہیں۔ میں 30 منٹ میں وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم سے پریس کانفرنس کروں گا۔ خاتونِ اول، نائب صدر اور تمام
کابینہ ارکان مکمل طور پر محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
میں نے تقریب کے ذمہ دار تمام حکام سے بات کر لی ہے اور ہم اس تقریب کو آئندہ 30 دنوں کے اندر دوبارہ شیڈول کریں گے۔
ایک تازہ ترین تحقیق میں یورپ میں اچانک اموات میں ہوشربا اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔دی لانسٹ ریجنل ہیلتھ -یورپ میں شائع ہونے والی تحقیق کےمطابق 2010 سے 2020 کے دوران 26 یورپی ممالک میں 25 لاکھ سے زیادہ اچانک اموات ہوئیں۔ یہ ایسی قدرتی لیکن غیر متوقع اموات تھیں جو علامات شروع ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر ہوئیں۔اچانک موت کی سب سے عام وجہ دل سے متعلق بیماریاں ہوتی ہیں، جن میں کورونری آرٹری بیماری شامل ہے جو دل کی ناکامی تک لے جا سکتی ہے۔ تاہم اس میں قلبی وجوہات کے علاوہ وجوہ بھی شامل ہیں، جیسے دماغ میں شدید خون بہنا، منشیات کی زیادہ مقدار کا استعمال، یا پھیپھڑوں کی شریان میں اچانک رکاوٹ (پلمونری ایمبولزم)۔اچانک موت کی تعریف اور رپورٹنگ میں کافی فرق پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے رجحانات سے متعلق درست اور تازہ ڈیٹا جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس تحقیق میں مصنفین نے 2010 سے 2020 تک کے ڈبلیو ایچ او کے اموات کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس دہائی میں 26 یورپی ممالک میں 25 لاکھ 83 ہزار 559 اچانک اموات رپورٹ ہوئیں (جن میں 19 لاکھ 35 ہزار 741 مرد اور 6 لاکھ 47 ہزار 818 خواتین شامل تھیں)۔ اس عرصے میں اچانک اموات کل اموات کا تقریباً 5 فیصد تھیں، یعنی ان ممالک میں ہر 2.2 منٹ میں ایک اچانک موت واقع ہوئی
امریکا میں مہلک انجیکشن اور فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت بحال کردی گئی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق مہلک انجیکشن اور فائرنگ اسکواڈ سے خطرناک مجرموں کو سزائے موت دی جاسکے گی۔
امریکی محکمہ انصاف نے بتایا کہ اپیلیں ختم ہونے پر سزائے موت پر عملدرآمد ہوگا اور44 مجرموں کو سزائے موت کی منظوری دی گئی ہے۔
یاد رہے یہ پابندی امریکا کے سابق صدرجو بائیڈن کے دور میں لگائی گئی تھی جسے اب ختم کردیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث مزید کچھ عرصے تک پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکیوں کو تھوڑے عرصے کے لیے پیٹرول کی زیادہ قیمتیں ادا کرنا ہوں گی تاہم بدلے میں انھیں ایک ایسا ایران ملے گا جو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا اور نہ ہی امریکی شہروں یا پورے مشرق وسطیٰ کو خطرے میں ڈال سکے گا۔
صدر ٹرمپ نے مستقل جنگ بندی کے لیے ایران کو دی گئی تازہ پیشکش پر ردعمل کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن دینے سے بھی گریز کیا اور صحافیوں سے کہا کہ مجھے جلدی میں نہ ڈالیں۔
انھوں نے ماضی کی امریکی جنگوں جیسے کیوبا وغیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ طویل رہی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندرونی اختلافات اسے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں متحدہ مؤقف اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ آپس میں اقتدار کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہم نے ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا اپنے تقریباً 75 فیصد اہداف حاصل کر چکا ہے اور کارروائیاں بنیادی طور پر اس لیے روکی گئیں کیونکہ ایران جنگ بندی کا خواہاں تھا۔
انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جنگ بندی کے دوران ایران نے کسی حد تک اپنے ہتھیاروں کو دوبارہ منظم کیا ہوگا، یہ ممکن ہے تاہم امریکی فوج ایک دن کے اندر ان صلاحیتوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توانائی کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے جونز ایکٹ میں دی گئی چھوٹ کو مزید 90 دن کے لیے بڑھا دیا ہے جس کے تحت غیر امریکی جہازوں کو تیل اور قدرتی گیس امریکا منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس سے قبل مارچ میں صدر ٹرمپ نے 60 دن کی چھوٹ کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنا اور امریکا تک تیل و گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس استثنیٰ کے بعد جمع کیے گئے نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں زیادہ مقدار میں توانائی کی سپلائی تیزی سے امریکی بندرگاہوں تک پہنچ سکی۔
ادھر عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں اس اعلان کے بعد کچھ کمی دیکھی گئی تاہم قیمتیں اب بھی 103 سے 107 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں جو 28 فروری کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جس کے باعث دنیا بھر میں تیل کی ترسیل رک گئی اور پیٹرولیم مصنوعات میں قلت پیدا ہوگئی اور تیل و گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنی لگیں۔
امریکا نے ایران سے مبینہ تعلقات کے باعث 344 ملین ڈالر مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
امریکا کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکومت ایران کی فنڈز پیدا کرنے، منتقل کرنے اور واپس لانے کی صلاحیت کو منظم طریقے سے کمزور کرتی رہے گی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس تناظر میں ایران سے منسلک متعدد کرپٹو کرنسی والیٹس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں 344 ملین ڈالر کی خطیر رقم منجمد کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں بھی ایران کی مالی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی میں خلل کے دوران ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے چین کی آئل ریفائنری، شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن پر ایران کی تیل برآمدات میں مدد کا الزام تھا۔
یاد رہے کہ پابندیاں اُس وقت عائد کی گئی ہیں جب جب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کے روز
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نیوی نے ایرانی پرچم والے جہاز کو کامیابی کے ساتھ ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹکام نے کہا کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی جاری ناکہ بندی کا حصہ ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی جہاز نے بار بار وارننگ کے باوجود ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے کی کوشش کی جس پر امریکی نیوی نے مداخلت کی اور جہاز کو عملے کے معائنہ اور تفتیش کے لیے روک دیا۔
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی افواج ایران اور اس سے آنے والے تمام مشکوک جہازوں کی کڑی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندی کا اطلاق تمام جہازوں پر کیا جا رہا ہے، قطع نظر قومیت کے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی فوج مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی رکاوٹوں کی کارروائیاں کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی وزیر دفاع اور چیف آف اسٹاف نے پینٹاگون میں مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران جنگ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جس کے دوران چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع و جنگ پیٹ پیگستھ نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں ہمارا مقصد واضح ہے اور ہماری حکمت عملی مکمل طور پر درست سمت میں جارہی ہے۔ ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا۔
انھوں نے الزام عائد کہا کہ امریکا کے ایران میں کیے گئے اقدامات کو دنیا کے لیے ایک تحفہ ہے۔ مزید دباؤ جاری رکھیں گے۔ ایران وہ ملک ہے جس نے اپنے ہی ملک میں 45 ہزار مظاہرین کی جان لی ہے۔
وزیر دفاع و جنگ پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل طور پر امریکا کا کنٹرول ہے اور وہاں سے بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکی صدر چاہیں گے بلکہ مزید ناکہ بندی کے لیے ایک اور امریکی بحری بیڑہ پہنچنے والا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے بقول امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والے ہر جہاز کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں کی جا رہی ہے۔ ایران دانشمندی دکھائے۔ اس کے پاس بہتر معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے۔
امریکی وزیر دفاع و جنگ نے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے افواج تیار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو ناقابلِ توڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناکہ بندی ختم نہیں بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے مزید بتایا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی کو سخت کرنے کے لیے ایک اور امریکی بحری بیڑا بھی پہنچنے والا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے بالآخر ایک خطرناک اور موذی مرض میں مبتلا ہونے کا اعتراف کرلیا جسے دو سال سے چھپایا ہوا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ازخود اپنی سالانہ میڈیکل رپورٹ سے سوشل میڈیا پر آگاہ کیا ہے۔
76 سالہ نیتن یاہو کو پہلی بار دسمبر 2024 میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کی سرجری کروائی تھی اور تیزی سے روبہ صحت بھی تھے۔
سرجری کے بعد ہونے والے متعدد فالو اپ میں معاملات بالکل ٹھیک رہے لیکن حال ہی میں ہونے والے چیک اپ میں ایک بار پھر پروسٹیٹ میں 1 سینٹی میٹر سے بھی کم حجم کے مہلک ٹیومر کا انکشاف ہوا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے بتایا کہ جیسے ہی پتا چلا کہ پروسٹیٹ میں دوبارہ ٹیومر ہے، میں نے فوری علاج کروانے کا فیصلہ کیا کیونکہ جب مجھے کسی ممکنہ خطرے کے بارے میں بروقت آگاہی ملتی ہے تو میں فوراً اس کا حل چاہتا ہوں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ معمولی ٹیومر غیرسرطانی تھا۔ کامیاب آپریشن کے بعد یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور اب اس کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا ہے۔
وزیرِاعظم نیتن یاہو نے یہ بھی بتایا کہ یہ بات دو ماہ پرانی ہے لیکن اپنی اس میڈیکل رپورٹ کے اجرا میں دو ماہ کی تاخیر اس لیے کی تاکہ ایران کو اسرائیل کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کا موقع نہ ملے۔










