امریکی صدر ٹرمپ کو جاری جنگ کے سلسلے میں ایک اہم آئینی مرحلے کا سامنا ہے جہاں انہیں کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کے لیے صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے۔امریکی قانون وار پاورز ریزولوشن کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہنگامی حالات میں کانگریس کی پیشگی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی شروع کر سکتے ہیں، تاہم انہیں 60 دن کے اندر کانگریس سے اس کی منظوری لینا لازمی ہوتی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں اس جنگ کے لیے عوامی حمایت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جبکہ امریکی فوج کی جانب سے جنگی اخراجات کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کی درخواست بھی سامنے آئی ہے، جس نے سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔اے پی کے حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام میں صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ شرح بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اسی سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 67 فیصد امریکیوں نے ان کی مجموعی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ داخلی مسائل، خصوصاً معیشت اور مہنگائی پر کم توجہ دینا ہے، جس کی وجہ سے عوامی ناراضی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس سے بروقت منظوری حاصل نہ کی گئی تو صدر کو سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات امریکا کی داخلی سیاست اور عالمی پالیسیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہیں کریں گے بلکہ ایسا مستقل معاہدہ چاہتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کی صورت میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس اہم گزرگاہ کو کھولنے کے لیے تیار ہے اور ایران کے ساتھ فوری معاہدہ بھی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بہتر ڈیل کے لیے موقع دیا جا رہا ہے اور جیسے ہی معاہدہ طے پائے گا آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور وہ کاروباری سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پا رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے اور ملک اندرونی انتشار کا شکار ہے، تاہم امریکا بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران میں 75 فیصد تک اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ایران نے ممکنہ طور پر اپنی عسکری صلاحیت کچھ حد تک بحال کی ہوگی لیکن امریکی فوج ایک دن میں اسے دوبارہ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دنیا کے امیر ترین فرد ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے ایک اے آئی کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ کرسر کو مستقبل قریب میں 60 ارب ڈالرز میں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔اس کمپنی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ایک پاکستانی نژاد نوجوان صالح آصف کمپنی کے شریک بانیوں میں شامل ہیں۔اوپن اے آئی اور Anthropic کے ساتھ ساتھ کرسر ان چند امریکی کمپنیوں میں سے ایک ہے جسے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو کوڈنگ کی تیاری کے لیے جانا جاتا ہے۔اسپیس ایکس نے ایک ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں اعلان کیا کہ کرسر نے اسپیس ایکس کو کمپنی کو رواں سال کسی وقت 60 ارب ڈالرز میں خریدنے کا اختیار دیا ہے، اگر اسپیس ایکس کی جانب سے کرسر کو خریدا نہیں جاتا، تو وہ اکٹھے کام کرنے کے لیے 10 ارب ڈالرز ادا کرے گی۔پوسٹ میں مزید بتایا گیا کہ کرسر کی سافٹ ویئر انجنیئرنگ کی مہارت کو اسپیس ایکس کے سپر کمپیوٹرز کے ساتھ باہم ملا کر ہم دنیا کے سب سے کارآمد ماڈلز تیار کرسکیں گے۔امریکی جریدے فوربز کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف نے کراچی کے ایک کالج میں تعلیم حاصل کی اور پھر میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) پڑھنے کے لیے گئے۔اسی طرح 2016 سے 2018 کے دوران انٹرنیشنل میتھ اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ایم آئی ٹی میں انہوں نے 3 دوستوں کے ساتھ ملکر Anysphere کی بنیاد رکھی جس کے تحت اے آئی کوڈ ایڈیٹنگ ٹول کرسر کو تیار کیا گیا۔اس کمپنی کی سالانہ آمدنی اب ایک ارب ڈالرز سے زائد ہے اور وہ تیزی سے ابھرنے والے اے آئی اسٹارٹ اپس میں سے ایک ہے۔کرسر کی مجموعی مالیت نومبر 2025 میں 29.3 ارب ڈالرز تک اس وقت پہنچ گئی جب 2.3 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔اس وقت دنیا بھر میں 50 ہزار کمپنیوں کے سافٹ ویئر ڈویلپرز کرسر کو استعمال کرکے کوڈنگ کو تیار کر رہے ہیں

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہےکہ کئی خلیجی اتحادیوں نے کرنسی سواپ کی سہولت کے لیے درخواست کی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ کی سماعت میں بیان دیتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ کرنسی سواپ کی درخواست کرنے والوں میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کرنسی سواپ کا مقصد امریکا میں اتحادی ممالک کے اثاثوں کی بے ہنگم فروخت روکنا بھی ہوتا ہے، کرنسی سواپ معاہدے کے تحت امریکا کسی ملک کو عارضی طور پر ڈالر فراہم کرتا ہے۔امریکی وزیر خزانہ کاکہنا تھا کہ ڈالر کے بدلے میں امریکا اس ملک کی کرنسی لیتا ہے، تاکہ مالیاتی نظام مستحکم رہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو اس لیے قبضے میں لیا گیا کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات کو خطرے میں ڈالا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کو تحویل میں لینے کے بعد ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔دوسری جانب پینٹاگون نے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی ممکنہ بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں کم از کم چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی فوری طور پر شروع نہیں کی جائے گی، اور اس کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو اس کے عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثرات رواں سال کے آخر تک یا اس کے بعد بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں

آبنائے ہرمز میں ایران کی پاسداران انقلاب نے بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں جس سے وہاں گزرنے والے جہازوں کو شدید خطرات ہیں اور امریکی صدر نے اس تناظر میں اپنی بحریہ کو نیا حکم دیدیا۔عالمی ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی “مائن سویپرز” (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز) پہلے ہی کام کر رہے ہیں اور اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اس کارروائی کی رفتار تین گنا تک بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عالمی بحری راستے کو جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ بنایا جاسکے۔انھوں نے مزید بتایا کہ میں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو اسی وقت تباہ کر دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں ایران کی پاسداران انقلاب پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے تاہم امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ایران اب بھی بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بھری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے جسے ایران نے اسرائیل امریکی جنگ کے بعد سے بند کر رکھا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو اصول و ضوابط کی خلاف ورزی پر فائرنگ کرکے روک لیا جسے ایرانی ٹینکر پر قبضے کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے رکن، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائیکا نے اپنے بیان میں امریکا کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر۔
اپنے سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں کی گئی پوسٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح 40 روزہ جنگ میں دشمن کو دندان شکن جواب دیا گیا اسی طرح اب بھی نام نہاد ‘ایپسٹن کے سمندری ڈاکوؤں’ کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ، اور آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر” کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ایپسٹین کے ساتھی اس کھیل کو فتح میں نہیں بدل پائیں گے جسے وہ ہار چکے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران سے منسلک ایک بحری جہاز پر فائرنگ کرکے اسے روکا اور قبضہ کرلیا تھا جس پر آج ایران نے دو بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے جنگ بندی مذاکرات میں تعطل پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کی وجہ امریکا کی ہٹ دھرمی کو قرار دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے جاری بیان میں جنگ بندی مذاکرات سے انکار کی وجہ بتادی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہیں، صدر ٹرمپ مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور وعدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہی تین وجوہات امریکا کے ساتھ حقیقی اور جامع مذاکرات کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ جنھیں ختم کیے بغیر جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوسکتے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان آبنائے ہرمز پر اتفاق رائے تک جنگ بندی میں توسیع جاری رہے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ہم نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں پوری نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ حصہ لیا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس کے برعکس امریکی فریق نے جنگ بندی مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور بار بار اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے رہے ہیں۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اب بھی برقرار ہے جسے انھوں نے جارحیت قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکی بحریہ نے حال ہی میں ایک ایرانی جہاز پر فائرنگ کے بعد اسے تحویل میں لیا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان کی امن کے قیام کے لیے کی گئی کوششوں اور اقدامات کو ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع اور کسی بھی جارحیت یا خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ اپریل میں پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطح کے براہ راست مذاکرات ہوئے تھے البتہ مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہوپایا۔
ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دوسرے دور کے مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کردیا تھا جس پر صدر ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورۂ پاکستان مؤخر کرکے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار پر ایران پر حملے کا منصوبہ تھا لیکن پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایسا نہیں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کے بقول جنگ بندی میں توسیع بھی پاکستانی کی قیادت کی درخواست پر کر رہے ہیں جب تک کہ ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق اتفاق نہیں ہوجاتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات سے متعلق مخصوص ٹائم فریم کی خبروں کو مسترد کر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی یا مذاکرات کیلیے وقت کی کوئی پابندی نہیں، تین سے پانچ دن کی مہلت کی خبریں جھوٹی ہیں۔
فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ تین سے پانچ دن کی مہلت سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی نئی تاریخ طے نہیں کی گئی اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی رد کیا کہ وہ مڈٹرم انتخابات کے پیش نظر معاملہ جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی زیادہ دباؤ میں ڈال رہی ہے جس کے باعث حالات میں تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بمباری سے زیادہ ناکہ بندی سے خوفزدہ ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرا عظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے اور جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انہوں نے امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔