آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ بھی پریشان،موسم گرما میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
یورپی یونین کےتوانائی کمشنرڈان جورجینسن کاکہناہےہم مختلف ممکنہ حالات کےلیےمنصوبہ بندی کر رہے ہیں،فرض کریں آج جنگ ختم ہوجائےاورآبنائےہرمزمکمل طورپرکھل جائےجوکہ حقیقت پسندانہ نہیں، تب بھی گیس کی پیداوار کو موجودہ سطح پر واپس آنے میں کئی سال لگیں گے۔
انکا مزیدکہنا تھاکہ تیل کےمعاملےمیں صورتحال مختلف ہے،پیداوارچندہفتوں میں بحال ہوسکتی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ سے یورپ تک ترسیل میں بھی وقت لگے گا،اس لیےہمارا اندازہ ہےکہ آنے والی گرمیوں کا موسم مشکل ہوگا۔ حتیٰ کہ بہترین صورتحال میں بھی جیٹ فیول اور بعد میں ڈیزل کی قلت ہو سکتی ہے۔
ایئرلائنزمختلف روٹس بند کر کےاپنی طلب کم کر رہی ہیں،اگر یہ صورتحال مہینوں یا سالوں تک جاری رہی تو دنیا کا نظام بدل سکتا ہے اور اس کے بہت سنگین معاشی نتائج سامنے آئیں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی وفد سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہا ہے۔
ایرانی حکومتی کمیونیکیشنز کے سینئر اہلکار الیاس حضرتی نے بتایا کہ ایرانی وفد میں شامل تمام مذاکرات کار اجتماعی طور پر فیصلے کرتے ہیں اور تمام اقدامات سپریم لیڈر کی رہنمائی میں کیے جاتے ہیں۔
الیاس حضرتی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی ریاستی پالیسی کے اہم فیصلوں میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کا تاحال مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور اس کی بنیاد پر امریکی وفد نے اپنا دورۂ پاکستان مؤخر کردیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ کے اوائل میں عہدہ سنبھالا تھا جب 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو عسکری قیادت سمیت قتل کردیا گیا تھا۔
نئے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای تاحال عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔ اُن کے تمام بیانات بھی تحریری پیغامات کی صورت میں ایرانی میڈیا میں سامنے آئے ہیں۔ جنھیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔
تاہم اب تک انھوں نے مذاکرات پر براہِ راست کوئی واضح بیان نہیں دیا البتہ اپنے بعض پیغامات میں امریکا پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔
18 اپریل کو جاری اپنے ایک بیان میں سپریم لیڈر مجبتیٰ خامنہ ای نے ایرانی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کفر اور عالمی غرور کے محاذ پر موجود قوتیں ہیں۔
امریکا نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 14 افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کے اسلحہ نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے عائد کی گئی ہیں، جس کے ذریعے مختلف ذرائع سے ہتھیاروں کی فراہمی جاری تھی۔
محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور اسلحہ کی ترسیل کے نظام کو کمزور کرنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے اہداف میں ایرانی طیارے بھی شامل ہیں، جبکہ اس نیٹ ورک سے جڑے عناصر ترکیہ اور امارات سمیت مختلف ممالک میں موجود ہیں، جنہیں بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نئی پابندیاں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں لگائی گئی ہیں، اور اس سے امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مہدی محمدی کا کہنا تھا کہ جنگ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کر سکتا اور محاصرے کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں، جس کا جواب فوجی انداز میں دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کے ذریعے اچانک حملے کے لیے وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے اور اپنی حکمت عملی کے تحت اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایران نے پاکستان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق ایران نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا کہ امریکا حالیہ دنوں میں اپنے سخت اور غیر معمولی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ خبر ایجنسی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات میں شرکت وقت کا ضیاع ہے کیونکہ امریکا کسی بھی قابل قبول معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
تسنیم کے مطابق ایران نے اپنا مؤقف پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا ہے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے فریقین کو بتایا ہے کہ وہ کل پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا، تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کا عمل امریکی ناکہ بندی سے مشروط کر دیا جبکہ گزشتہ روز امریکا نے ایران کے کارگو جہاز پر بھی فائرنگ کی اور اسے قبضے میں لیا جوکہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
اب امریکی صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی اور ایران پر مزید حملے نہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر فی الحال ایران پر حملے پر مؤخر کر رہے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے۔
ٹرمپ کے بقول پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک وہاں کی قیادت اور نمائندے کسی مشترکہ تجویز پر متفق نہیں ہو جاتے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ااس کے بعد امریکی فوج کو حملے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم ایران کے خلاف بحری ناکہ
بندی جاری رکھنے اور ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار رہنے کے احکامات بھی دیئے ہیں امریکی صدر نے جنگ بندی میں بھی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافہ کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں ہل کر رہ گئیں۔
مشرق وسطیٰ میں اچانک بدلتی صورتحال نے اسٹاکس کو ایک غیر مستحکم راستے پر ڈال دیا، جس کے نتیجے میں لندن اور پیرس کے اہم انڈیکس پیچھے ہٹ گئے، جبکہ ایشیائی منڈیوں میں ایک واضح فرق دیکھا گیا جہاں چین کی مارکیٹ تیزی سے اوپر گئی اور انڈیا میں محتاط رویہ اپنایا گیا۔
ریکارڈ بلند ترین قیمتوں اور توانائی کے نئے بحران کے درمیان یہ ’’کھینچا تانی‘‘ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس نے تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر کی طرف دھکیل دیا ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 5.4 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 95 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتیں تقریباً 6 فیصد تک بڑھ گئیں۔
اس اضافے نے گزشتہ جمعہ کو ’’جنگ بندی کی امید‘‘ کے باعث ہونے والی قیمتوں کی بڑی گراوٹ کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ تیزی اتوار کے روز سمندر میں ہونے والے ایک ہائی پروفائل (انتہائی حساس) ٹکراؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔ تہران کے جمعہ کے روز اس اعلان کے باوجود کہ آبی راستہ ’’مکمل طور پر کھلا‘‘ ہے، امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی اپنی سخت بحری ناکہ بندی برقرار رکھی۔
یہ صورتحال اس وقت تصادم میں بدل گئی جب امریکی بحری جہاز یو ایس ایس اسپروینس نے ایران کے جھنڈے والے کنٹینر بردار جہاز ’’توسکا‘‘ کو روک لیا۔ رپورٹس کے مطابق، امریکی میرینز نے اس جہاز پر اس وقت قبضہ کر لیا جب اس نے مبینہ طور پر نافذ کردہ اقدامات کو نظر انداز کیا اور جہاز پر سوار ہونے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔
اس کے فوری جواب میں، ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکہ پر ’’قزاقی‘‘ اور ’’غیر قانونی بحری ناکہ بندی‘‘ جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس ’’وائپلش‘‘ یا اچانک آنے والے جھٹکے نے سرمایہ کاروں کو شدید پریشانی اور بھگدڑ میں مبتلا کر دیا ہے۔
امریکا میں ایس اینڈ پی 500 نے اپنی 7000 پوائنٹس کی حد کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، حالانکہ ہائی ٹیک کمپنیوں کو تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ مائیکروسافٹ کے شیئرز اب اپنی ریکارڈ سطح سے 22 فیصد نیچے ٹریڈ کر رہے ہیں، کیونکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور طویل مدتی مہنگائی کے خوف نے اے آئی پریمیم (مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ملنے والی اضافی قیمت) کے اثر کو دبا دیا ہے۔
دبئی میں اس صورتحال کے اثرات فوری طور پر پیٹرول پمپوں پر محسوس کیے گئے۔ ریٹیل ایندھن (پیٹرول) کی قیمتوں میں آج تقریباً 30 فیصد اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد سپر 98 کی قیمت 3.39 درہم فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بڑے معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک بالآخر ایک عظیم ڈیل تک پہنچ جائیں گے۔امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہم ایک بہترین معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ امریکا نے ایران کی قیادت اور ان کی فوجی صلاحیت کو ختم کردیا ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے صورتحال ایک طرح سے پیچیدہ ضرور ہوئی لیکن ایران کی نئی قیادت زیادہ معقول ہو سکتی ہے۔انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ عمل دراصل “ریجیم چینج” کے مترادف ہے چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے حالانکہ رجیم چینج صدر ٹرمپ کے ابتدائی وعدوں میں شامل نہیں تھا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدھ کو ختم ہونے والی سیز فائر میں توسیع نہیں کرنا چاہتے۔ امریکہ کے صدر نے دھمکی دی کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو امریکی فوج دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں۔ ہم نے اس وقفے (2 ہفتوں کی جنگ بندی) کو اپنی تیاری بڑھانے کے لیے استعمال کیا اور ممکن ہے ایران نے بھی کچھ حد تک ایسا کیا ہو۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہماری فوج پوری طرح تیار، متحرک اور بے تاب ہے کہ حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردے۔ گن لوڈڈ ہیں۔تاہم انھوں نے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ایک عظیم ڈیل پر ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اختتام بدھ کی شام ہوجائے گا تاہم ایران کے ساتھ امن معاہدہ نسبتاً جلدی طے پا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کیا، انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی دباؤ میں آکر نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ہرگز درست نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنے جا رہا ہے جو سابق امریکی صدور کے دور میں ہونے والے معاہدوں سے کہیں بہتر ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنے اس معاہدے کو 2015 میں ایران کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس، جرمنی کے طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے سے بڑی کامیابی قرار دیا۔
تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اختتام (22 اپریل) تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو سیز فائر میں توسیع کا بہت کم امکان ہے۔
بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی اس تک برقرار رہے گی جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہوجاتا۔
پیٹر میگیار نے کہا کہ ہنگری بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن ہے،قوانین کی پاسداری کریگا، جس شخص کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہوں اسے حراست میں لینا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ اسے اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیاد ملی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ شہری آبادی پر حملوں میں ملوث تھے۔










