برطانیہ نے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر باقاعدہ پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔
حکومت نے چلڈرنز ویلبیئنگ اینڈ اسکولز بل میں ترمیم کا ارادہ کیا ہے۔
وزیر تعلیم Jacqui Smith کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ کی توجہ بہتر بنانا اور اسکولوں میں نظم و ضبط قائم رکھنا ہے۔
اگرچہ زیادہ تر اسکول پہلے ہی موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں لیکن اب اسے قانون بنا کر تمام اداروں کے لیے لازمی کیا جا رہا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر سزائے موت کی منتظر 8 خواتین کو رہا کرے تاکہ
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے مثبت فضا قائم ہو سکے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ خواتین رواں سال کے آغاز میں ایران بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد گرفتار کی گئی تھیں۔ ان میں ایک 16 سالہ لڑکی اور ایک ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔
جن خواتین کے نام سامنے آئے ہیں ان میں بیتا ہمتی، ڈیانا طاہرآبادی، محبوبہ شعبانی، وینس حسینی نژاد، گلناز نراقی، غزال غلندری، پناہ موحدی اور انسیہ نجاتی شامل ہیں، تاہم بعض ناموں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بیتا ہمتی پر دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار استعمال کرنے، احتجاج میں حصہ لینے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انہیں اپنے شوہر اور دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔
اسی طرح 16 سالہ ڈیانا طاہرآبادی پر “خدا کے خلاف جنگ” (محاربہ) کا الزام لگایا گیا، جو ایران میں سزائے موت کا جرم ہے۔ محبوبہ شعبانی پر زخمی مظاہرین کی مدد کرنے کا الزام ہے، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔
وینس حسینی نژاد کو جنوری میں حراست میں لیا گیا اور ان کے اہل خانہ کے مطابق انہیں سرکاری ٹی وی پر اعتراف جرم پر مجبور کیا گیا۔ گلناز نراقی، جو ایک ڈاکٹر ہیں، کو بھی گرفتار کر کے مبینہ طور پر زبردستی اعترافی بیان پر دستخط کروائے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف مقدمات میں شفافیت کی کمی ہے اور جبری اعترافات جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متعدد کو سخت سزائیں بھی سنائی گئیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکا کے لیے مالی سال 2027 کے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت بجٹ میں تقریباً 42 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مجوزہ دفاعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اس بھاری بجٹ میں بحری جہازوں، جدید جنگی طیاروں اور میزائل دفاعی منصوبے ’گولڈن ڈوم‘ کے لیے تقریباً 750 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں اور نئی ٹیکنالوجی کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ڈرون اور اینٹی ڈرون سسٹمز کے لیے 74 ارب ڈالر جبکہ اسپیس ڈیفنس پروگرامز کے لیے 75 ارب ڈالر سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید برآں ’گولڈن ڈوم‘ میزائل دفاعی منصوبے کے لیے 18 ارب ڈالر جبکہ امریکا میکسیکو بارڈر کی سکیورٹی کے لیے 2.3 ارب ڈالر رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑے اضافے کی ایک وجہ حالیہ عالمی کشیدگی اور جنگی صورتحال ہے، جس کے باعث امریکا اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا قرار دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں 8 خواتین کی سزائے موت ان کے مطالبے پر منسوخ کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی عدلیہ نے واضح کیا ہے کہ جن خواتین کا ذکر کیا جا رہا ہے، انہیں کبھی سزائے موت سنائی ہی نہیں گئی۔ عدلیہ کا کہنا تھا کہ میدان میں ناکامی کے باعث ٹرمپ جھوٹی خبروں کے ذریعے کامیابیاں ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز بھی ان خواتین سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امن مذاکرات سے قبل ایران کو انہیں رہا کرنا چاہیے۔ تاہم آج انہوں نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دباؤ پر ان خواتین کی سزائے موت ختم کی گئی۔
ایرانی میڈیا نے اس بیان کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دعوے کے غلط ثابت ہونے کے باوجود امریکی صدر نے ایک اور جھوٹا بیان دیا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برینڈ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس کی قیمت بھی 5 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جو حالیہ ہفتوں میں ایک دن کے اندر ہونے والے بڑے اضافوں میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ تیزی مشرق وسطیٰ میں نئی فوجی کشیدگی، ایران تنازع اور سفارتی مذاکرات میں تعطل کے باعث سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات کے نتیجے میں دیکھی گئی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی، جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ بندی میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ اس بیان نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
صدر ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد قیمت دوبارہ کم ہو کر 98.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور عالمی معاشی نمو کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے
ا مریکا کو ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران میزائلوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے بعد مستقبل میں اسلحہ کی قلت کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین اور پینٹاگون کے جائزوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔ اس صورتحال میں اگر آئندہ چند برسوں میں کوئی نئی جنگ چھڑتی ہے تو امریکا کو میزائلوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک حالیہ تجزیے کے مطابق تقریباً 7 ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے میزائیلوں کے ذخیرے کا کم از کم 45 فیصد استعمال کیا۔
اس کے علاوہ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے تھاڈ میزائلوں کا کم از کم نصف حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ انٹرسیپٹر میزائلوں کا بھی تقریباً 50 فیصد خرچ ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے رواں سال کے آغاز میں میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف معاہدے کیے ہیں، تاہم ان ہتھیاروں کی تیاری اور فراہمی میں 3 سے 5 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ جنگ بندی برقرار نہیں رہتی تو امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر کافی اسلحہ موجود ہو سکتا ہے، لیکن طویل المدتی سطح پر اس کے ذخائر کمزور ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر چین جیسے بڑے حریف کا مقابلہ کرنے کے لیے موجودہ ذخائر ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اسلحہ ذخائر کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے
خلیج میں کشیدگی کے باعث سمندری سکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے جہاں آبنائے ہرمز کے قریب دو مختلف بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
میری ٹائم ذرائع کے مطابق ایک جہاز نے اطلاع دی کہ اس پر ایران کے ساحل سے تقریباً 8 ناٹیکل میل (15 کلومیٹر) مغرب میں فائرنگ کی گئی، تاہم خوش قسمتی سے تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے چند گھنٹے قبل ایک اور کارگو جہاز پر عمان کے قریب 15 ناٹیکل میل (28 کلومیٹر) شمال مشرق میں فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (برج/کنٹرول روم) کو شدید نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ جہاز ایم ایس سی فرانسسکا، دمام سے سنگاپور جا رہا تھا۔
ایران کی سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ کارروائی ’سمندری قوانین کے نفاذ‘ کے تحت کی گئی کیونکہ متعلقہ جہاز نے جاری کردہ وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔
دوسری جانب خلیجی ممالک نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خلیجی ریاستیں مسلسل جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر زور دے رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
خطے میں جاری صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ کشیدگی کم کر کے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
امریکا میں تعینات اماراتی سفیریوسف العتیبہ نےکہا ہےکہ امارات کو کسی بیرونی مالی مدد کی ضرورت نہیں۔
واشنگٹن میں کرنسی سوئپ لائن پر امریکا امارات حکام کی اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوئی۔
امریکا میں اماراتی سفیر یوسف العتیبہ نے کہا کہ اماراتی معیشت مضبوط ہے اور ڈالر کی کمی نہیں، متحدہ عرب امارات کو بیرونی مالی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
اماراتی سفیر نے مزید کہا کہ امارات کے پاس 2 ٹریلین ڈالر کےسرمایہ کاری فنڈز ہیں اور 300 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اماراتی حکام کی امریکی فیڈرل ریزرو حکام سےکرنسی سوئپ پربات چیت جاری ہے۔
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں آج مسلسل دوسرے دن کم ہو گئیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج بدھ کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 12 ڈالر کی کمی
ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 766 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔
دریں اثنا عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 1200 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد مقامی سطح پر سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 98 ہزار 962 روپے فی تولہ ہو گئی۔
اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت میں 1029 روپے کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی قیمت 4 لاکھ 27 ہزار 779 روپے ہو گئی۔
سونے کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ مقامی مارکیٹ میں چاندی کے نرخ بھی کم ہو گئے۔ مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 34 روپے کی کمی سے 8ہزار 324 روپے کی سطح پر آگئی جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 29روپے کی کمی سے 7ہزار 136روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گزشتہ روز بھی کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہوسکتا ہے اور اس میں اچھی خبر متوقع ہے۔ڈونلڈٹرمپ نے امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کو ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہدایت کی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات کا امکان ہے، دوسرا دور جمعے کو ہوسکتا ہے جس میں اچھی خبر متوقع ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہاکہ ایران پر حملہ نہ کریں، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہم سے ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز آنے تک حملے روکنے کا کہا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا، اس لیے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک کہ ایران کی تجویز پیش نہیں کی جاتی










