ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرنے اور بحری حدود کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے پر 2 بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
تسنیم خبر رساں ادارے نے پاسداران انقلاب کے ایک سرکاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قبضہ بحری افواج کی جانب سے مکمل تفتیش اور گہری انٹیلی جنس نگرانی کے بعد کیا گیا۔
بیان میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ قبضے میں لئے گئے سمندری جہازوں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی بندرگاہوں کے لیے متعدد سفر کیے ہیں جس سے ان جہازوں کے مشن کی نوعیت اور امریکی فوج سے اس کے تعلق کے بارے میں شکوک پیدا ہوئے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ ان کی طرف سے جاری کردہ وارننگ کو بار بار نظر انداز کرنے کے بعد جہازوں کو ضبط کیا گیا۔
مزید برآں، یہ سمندری خلاف ورزیوں میں ملوث تھا جو خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی 3 ہفتوں کے لیے بڑھا دی جائے گی۔
خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان میں تعینات امریکا کے سفیروں اور اسرائیل و لبنان کے سفرا سے ہونے ایک میٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم لبنان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں تاکہ وہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکے۔
دریں اثنا جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختصر اطلاع دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سفیروں سے ملاقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسرائیل میں امریکی سفیر میشیل ہکابی اور لبنان میں امریکی سفیر میشیل عیسیٰ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اسرائیل اور لبنان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے بھی حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسرائیل میں امریکی سفیر میشیل ہکابی اور لبنان میں امریکی سفیر میشیل عیسیٰ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اسرائیل اور لبنان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے بھی حصہ لیا۔

پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی شریک تھے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران کے نائب وزیرخارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔
یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ روز مختصر وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ آج وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے پاکستان کے شہر اسلام آباد جائیں گے۔
انھوں نے یہ بات فاکس نیوز سے گفتگو کے دوران بتائی ہے۔ کیرولین لیویٹ کا مزید کہنا ہے کہ امریکی وفد میں شامل دونوں شخصیات مذاکرات کے لیے سنیچر کی صبح روانہ ہوں گی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ہونے والے نئے مذاکراتی دور میں شرکت نہیں کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر جے ڈی وینس امریکی نمائندوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے لیکن وہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ انتظار میں رہیں گے۔
کیرولین لیویٹ کا مزید کہنا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اس پورے مذاکراتی عمل میں شامل ہیں۔ گو کہ وہ امریکا میں رہیں گے لیکن ضرورت پڑی تو پھر سب (نائب صدر اور وزیر خارجہ) امریکا سے پاکستان جائیں گے۔
بعد ازاں صحافیوں کے ساتھ مختصر گفتگو میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ایرانی نے مثبت پیش رفت دیکھائی ہے اور براہ راست بات چیت لیے تیار ہے۔
انھوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن آئے گا جب امریکا دونوں ممالک کے رہنماؤں کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کرکے گا۔
یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ مذاکراتی عمل کے بعد مسقط اور ماسکو کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔

ایران جنگ کے دورانیے سے متعلق سوالات پرامریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر صحافیوں پر برہم ہو گئے۔وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے امریکی صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ ایران امریکا جنگ کی یہ صورتحال کب تک جاری رہے گی؟ جس پر ٹرمپ نے میڈیا کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق درست انداز میں پیش نہیں ہو رہے۔جنگ بندی سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اُنہیں جلدی میں نہ ڈالا جائے، ساتھ ہی ویتنام اور عراق جنگوں کے دورانیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی انتظامیہ کو ایران جنگ شروع کیے ابھی چند ہفتے ہی ہوئے ہیں۔ در ٹرمپ نے یہ تاثر بھی مسترد کیا کہ امریکا پر جنگ ختم کرنے کا دباؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے اندرونی مسائل سنبھالنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، لیکن اُس کے بدلے امریکیوں کو ایک ایسا ایران ملے گا جو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران جنگ کے باوجود تیل کی قیمتیں توقع سے کم اور اسٹاک مارکیٹ بلند سطح پر ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تجارتی جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور جوابی اقدامات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ 106.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر گئی ہے۔ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو امریکی بحریہ کی اجازت درکار ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی کشتیاں بارودی سرنگیں بچھاتی ہوئیں پائی گئیں تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی دو غیر ملکی تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔’ہم ایک قوم، ایک روح ہیں‘، قیادت میں اختلافات کے ٹرمپ کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیاماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل کرنے والا اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں بھی واضح کمی آئی ہے، جو عالمی سپلائی چین کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔اسی دوران امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی دیکھنے میں آئی، جہاں انڈیکس میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی دباؤ میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ٹیلیفونک رابطے کر کے خطے کی صورتحال اور جنگ بندی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی۔ایرانی خبرایجنسی کا بتانا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گفتگو میں خطے کی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا اور ایران سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں

صومالیہ کے قریب سمندری حدود میں بحری قزاقی کا ایک سنگین واقعہ پیش آیا ہے، جہاں قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔شپنگ ذرائع کے مطابق ’اونر 25‘ نامی جہاز پر 21 اپریل کو حملہ کیا گیا، جس کے بعد قزاقوں نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جہاز پر 11 پاکستانی عملہ بھی موجود ہے، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔حکام کے مطابق پاکستان میری ٹائم وزارت کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پورٹس کی جانب سے جہاز پر موجود پاکستانی عملے سے تاحال کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ اسی طرح جہاز بھیجنے والی ایجنسی کی جانب سے بھی کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب متاثرہ عملے کے اہلِ خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز کے انڈونیشین کپتان کی رہائی کے لیے انڈونیشیا کی حکومت قزاقوں سے بات چیت کر رہی ہے۔اہلِ خانہ نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اقدامات کرے اور پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب سمندری راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں، تاہم یہاں بحری قزاقی کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں، جو نہ صرف انسانی جانوں بلکہ عالمی سپلائی چین کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہریت سے متعلق پوسٹ میں بھارت کو جہنم کا گڑھا اور بھارتیوں کو لیپ ٹاپ گینگسٹر قرار دے دیا جس پر بھارتی تلملا اٹھے۔انتہا پسند بی جے پی حکومت کی جانب سے منمناتا سار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کچھ رپورٹس دیکھی ہیں اور بس وہ اتنا ہی کہیں گے ۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ توقع نہیں نریندر مودی ٹرمپ کو جواب دینے کی جرات کریں گے، مودی ایک کمزور وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں ، خمیازہ پورا بھارت بھگت رہا ہے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھارتیوں نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور من چلوں نے ٹرمپ کے ریمارکس کو زبوں حالی پر درست تبصرہ کہنا شروع کردیا ۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم اور لبنان کے صدر جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اوول آفس میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں سے ان کی ملاقات مثبت اور تعمیری رہی۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا لبنان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ وہ خود کو حزب اللہ سے محفوظ رکھ سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی