ایرانی پارلیمان میں نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز بتا دی ہیں، لیکن مذاکرات جاری رکھے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سےگفتگو میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کسی بھی قیمت پر بات چیت کرے، ایران نے حدود واضح کردی ہیں، ان کا احترام لازمی ہے، اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا دارومدار امریکی مذاکراتی ٹیم اور مثبت پیغامات پر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لبنان جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط میں سے ہیں، امریکا اور اسرائیل ان شرائط کا احترام نہ کریں تو اس کے نتائج ہونگے، سابقہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو سمجھیں گے ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ ایک اور بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے تمام اقدامات قومی مفاد اور سلامتی کے اصولوں کے تحت ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ایران قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے‘ اور ملک کے مفادات و سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

ایران کے شہر مناب میں امریکی حملے میں شہید ہونے اسکول کے بچوں کے والدین نے کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو خط لکھ دیا۔
خط میں والدین نے شہید بچوں کی آواز بننے پر پوپ لیو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کا پیغام ‘ہتھیار رکھ دیے جائیں‘ ضرور سنا جائے گا۔
شہید ہونے والے اسکول کے بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک مناب اسکول حملے پر معذرت نہیں کی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مناب میں اسکول پر امریکی حملے میں بچیوں سمیت 160 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ قومی یومِ دختران پر اپنی سرزمین کی بیٹیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہم اپنےعزیزوں،خصوصاً مناب اسکول کی معصوم بیٹیوں کی شہادت پر غمزدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹیاں رمضان میں مسلط کردہ جنگ کےپہلےدن امریکی،صیہونی دشمن کےہاتھوں شہیدہوئیں، باوقار ایرانی قوم جان لے ہماری شہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائےگا

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاہم بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ہر ممکن اقدام کے لیے تیار بھی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد باقر قالیباف نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو اپنے مخالفین پر اعتماد نہیں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دشمن پر بھروسہ نہیں کرتے، جنگ کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق قالیباف نے واضح کیا کہ ایران ایک طرف سفارتی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اہم ہیں، لیکن قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ان کے بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی یہ پالیسی ’مذاکرات بھی، تیاری بھی‘ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تہران سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے خود کو تیار بھی کر رہا ہے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کو تقریباً دو ماہ گزرنے کے باوجود ان کی تدفین کے مقام کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہد میں واقع امام رضا مزار کے انتظامات سنبھالنے والی مذہبی فاؤنڈیشن نے بتایا ہے کہ مزار کے احاطے میں تدفین کے حوالے سے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ادارے کے مطابق اس اہم معاملے پر مشاورت جاری ہے اور مختلف تجاویز زیر غور ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اب تک کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تدفین کی جگہ کے تعین میں مذہبی، سیاسی اور عوامی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ تاخیر کا شکار ہے۔یاد رہے کہ 28 فروری کو ہونے والے حملوں میں علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد سے ان کی تدفین کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ماہرین کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی تدفین کا مقام ایران میں ایک اہم علامتی اور سیاسی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے اس فیصلے میں احتیاط برتی جا رہی ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور اب لگتا ہے کہ کوئی فریق کھیل نہیں کھیل رہا یعنی سب سنجیدہ ہیں۔انھوں نے بتایا کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ایلچی اسٹیو وٹکوف اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں جو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اہم پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان مذاکرات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا اور اگر ایسا ہو جائے تو ایران ایک بہتر ملک بن سکتا ہے۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ایران ان شرائط کو ماننے سے انکار کرتا ہے یا مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکا کیا قدم اٹھائے گا لیکن نھوں اشارہ دیا کہ صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔دوسری ایران اعلان کرچکا ہے کہ ان کا وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں جا رہا کیوں صدر سنجیدہ نہیں اور دھمکیوں سے باز آرہے ہیں اور نہ جارحیت روکی ہے۔ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہمارے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا اس پر قبضے کی کوشش کی گئی اور تاحال ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے لیے دوسرے دور کا آغاز ممکن ہے۔مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے

جاپان میں 7.4 شدت کے زلزلے کے بعد حکام نے سونامی وارننگ جاری کر دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ساحلی علاقوں میں ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ جاپان میٹورولوجیکل ایجنسی کے مطابق زلزلہ سمندر کے اندر آیا جس کے باعث سونامی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کئی علاقوں میں محسوس کیے گئے تاہم جانی و مالی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ریسکیو ادارے الرٹ کر دیے گئے ہیں جبکہ حکام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زلزلے کے بعد آفٹر شاکس آنے کا بھی امکان ہے۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی صدر سے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات میں ایک رکاوٹ ہے۔برطانوی خبررساں ایجسنی نے پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا جس میں مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔تفصیلات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے۔تاہم امریکی صدر کا جواب میں کہنا تھا کہ وہ فیلڈ مارشل کی رائے پر غور کریں گے۔موجودہ خطے کی صورتحال میں یہ رابطہ کافی اہم تصور کیا جارہا ہے۔

ایران نے بحیرۂ عمان میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی تجارتی جہاز پر کارروائی اور قبضے میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا جلد جواب دیا جائے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر “حضرت خاتم الانبیاء” کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمندری قزاقی کا ارتکاب کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے بحیرۂ عمان کے پانیوں میں ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی اور اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنا دیا جبکہ متعدد اہلکار جہاز پر سوار ہو گئے اور جہاز کو قبضے میں لے لیا گیا۔
ایرانی حکام نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اس اقدام کا جلد اور مؤثر جواب دیں گی۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا نے امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا جو لمبائی میں تقریباً 900 فٹ اور وزن میں تقریباً ایک طیارہ بردار جہاز کے برابر ہے، نے ہماری بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس سپروانس نے خلیجِ عمان میں ٹوسکا کو روک لیا اور رکنے کے لیے باقاعدہ انتباہ جاری کیا لیکن ایرانی عملے نے ہدایات ماننے سے انکار کیا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ہماری بحریہ کے جہاز نے ان کے انجن روم میں سوراخ کر کے اس کو وہیں روک دیا اور اس وقت وہ جہاز امریکی میرینز کی تحویل میں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ٹوسکا ماضی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے اور ہم نے جہاز کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس میں موجود سامان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تل ابیب کے میئر رون ہلدائی نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں شہر میں ایک ہزار سے زائد رہائشی یونٹس ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل حملوں اور انہیں روکنے کی کوششوں کے دوران گرنے والے ملبے نے نہ صرف تل ابیب بلکہ شہروں میں بھی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکام کو اب تک تقریباً 30 ہزار اسرائیلی شہریوں کی جانب سے املاک کے نقصان کے دعوے موصول ہو چکے ہیں۔ ان دعوؤں میں 18 ہزار 408 عمارتوں، 6 ہزار 617 گاڑیوں اور 2 ہزار 549 دیگر سامان کو پہنچنے والے نقصانات شامل ہیں۔
اسرائیل کی وزارت خزانہ کے مطابق ایران اور لبنان کے خلاف 40 روزہ جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو ملکی معیشت پر ایک بڑا بوجھ بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے اثرات صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ شہری ڈھانچے، معیشت اور روزمرہ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ نقصانات کے ازالے اور بحالی کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔