تل ابیب کے میئر رون ہلدائی نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں شہر میں ایک ہزار سے زائد رہائشی یونٹس ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل حملوں اور انہیں روکنے کی کوششوں کے دوران گرنے والے ملبے نے نہ صرف تل ابیب بلکہ شہروں میں بھی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکام کو اب تک تقریباً 30 ہزار اسرائیلی شہریوں کی جانب سے املاک کے نقصان کے دعوے موصول ہو چکے ہیں۔ ان دعوؤں میں 18 ہزار 408 عمارتوں، 6 ہزار 617 گاڑیوں اور 2 ہزار 549 دیگر سامان کو پہنچنے والے نقصانات شامل ہیں۔
اسرائیل کی وزارت خزانہ کے مطابق ایران اور لبنان کے خلاف 40 روزہ جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو ملکی معیشت پر ایک بڑا بوجھ بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے اثرات صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ شہری ڈھانچے، معیشت اور روزمرہ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ نقصانات کے ازالے اور بحالی کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ معاشی دباؤ کے پیش نظر امریکا سے مالی تعاون کے لیے رابطہ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو متحدہ عرب امارات کو مالی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر اماراتی حکام نے ڈالر کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد نے امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں کرنسی سواپ لائن کے ذریعے ڈالر تک رسائی کے امکانات پر غور کیا گیا، جو کسی بھی ممکنہ مالی بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اماراتی وفد نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے بھی مذاکرات کیے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مالی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ متحدہ عرب امارات اب تک جنگ کے بڑے معاشی اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہا ہے، تاہم حکام مستقبل کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں تاکہ معیشت کو ممکنہ جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اپنی مالی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں فرانس کے ساتھ برطانوی جہاز بھی فائرنگ کی زد میں آنے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ اس حوالے سے کوئی رپورٹ نہیں آگئی۔
برطانوی نشریاتی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزارت دفاع اور محکمہ ٹرانسپورٹ نے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں ہفتے کو برطانوی بحری جہاز پر حملے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق ہفتے کو آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر اور ایک کارگو جہاز سمیت دو جہاز پر حملہ کیا گیا ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ مذکورہ دونوں جہاز کس ملک کے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز پر حملے کا فیصلہ کیا تھا جو جنگ بندی کی مکمل خلاف ورزی ہے، اس فائرنگ میں فرانس کا بحری جہاز اور برطانوی جہاز متاثر ہوا ہے۔
قبل ازیں بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے بتایا تھا کہ اس علاقے میں دو بھارتی جہازوں کے ساتھ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسی بڑی طاقت سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اگر امریکا ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ چین جیسے مضبوط ملک کا سامنا بھی نہیں کر پائے گا۔بیلاروسی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے اصل مفادات تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور وہ ان وسائل کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔اپنے خلاف عائد ’آمر‘ ہونے کے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے لوکاشینکو نے کہا کہ اصل آمریت تو کیوبا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، مگر وہاں نہ حقیقی جمہوریت موجود ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعووں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ایک خودمختار ملک میں اسکول پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق لوکاشینکو کا یہ بیان عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امریکا، چین اور دیگر ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں
روسی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف کا کہنا ہے روس ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کے لیے تیار ہے، ایران سےافزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کرنے پر غورکر رہے ہیں، تکنیکی مسائل کے ساتھ امریکا ایران میں اعتماد کا فقدان بڑا مسئلہ ہے۔
پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع ہے اور ان کا یہ اندازہ کئی عوامل پر مبنی ہے: الجزیرہ نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔عرب میڈیا سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع ہے اور ان کا یہ اندازہ کئی عوامل پر مبنی ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے دو لاجسٹک طیارے نور خان ائیر بیس پر اتر چکے ہیں، ائیرپورٹ سے اسلام آباد کے ریڈ زون تک جانے والی سڑکیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں جو سکیورٹی کے سخت انتظامات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ذرائع نے کہا کہ اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروایا جا رہا ہے اور جمعہ تک کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں ہے۔دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ہیوی ٹریفک تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس بھی پمز اسٹیشن سے لیکر پاک سیکرٹریٹ تک مکمل بند کر دی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایک دن بعد ہی ایران نے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم نہ کرنے کے ردعمل میں دوبارہ بند کردی اور اب ایک اہم اعلان سامنے آیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ان کے بقول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اب نئی شرائط کے تحت ترجیح دی جائے گی جس کے تحت سیکیورٹی اور سیفٹی اخراجات ادا کرنے والے جہازوں کو پہلے گزرنے کی اجازت ملے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ جو جہاز نئے پروٹوکولز پر عمل کریں گے اور سیکیورٹی اخراجات (ٹیکس) ادا کریں گے انھیں ترجیح دی جائے گی اور جو ادائیگی نہیں کریں گے ان کے گزرنے کو مؤخر کر دیا جائے گا۔ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ آج سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن کے ساتھ تعاون سمجھا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔پاسداران انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام امریکا کے ناکہ بندی کو ختم نہ کرنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ردعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ آج پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا اور سخت چیکنگ بھی کی جب کہ بحری جہازوں کو پیغامات بھیجے گئے کہ آبی گزرگاہ دوبارہ سے بند کردی گئی ہے۔اسی دوران پاسداران انقلاب کی گشت پر مامور گن بوٹس کا آمنا سامنا کچھ ایسے جہازوں سے ہوا جنھوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔ کم از کم 4 جہازوں کو ہوائی فائرنگ کرکے واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ان میں سے دو تیل بردار جہازوں پر بھارتی پرچم لہرا رہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز پر روکنے پر نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، وہ کل شام مذاکرات کے لیے وہاں ہوں موجود ہوں گے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہاکہ ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیاجوسیز فائر کی خلاف ورزی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمزبند کرنےکا اعلان کیا جو عجیب بات ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے ہرمز پہلے ہی بند ہے۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کررہے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ ایران یہ معاہدہ کرلے گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران میں ہر پاور پلانٹ اور ہر پُل کو تباہ کردے گا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بند کرکے ایران ہماری مدد کررہاہے لیکن اسے اس کا علم نہیں، آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایران کا روزانہ 500 ملین ڈالرکانقصان ہورہا ہے جبکہ امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔قبل ازیں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے۔ٹرمپ کے مطابق یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا
راولپنڈی میں ایران امریکا جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کے پیش نظر ہر قسم کی پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ تاحکمِ ثانی معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔راولپنڈی میں ایران، امریکہ جنگ بندی سے متعلق امن مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ شہر میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ اڈے، گڈز ٹرانسپورٹ، پرائیویٹ رینٹ اے کار سروسز بھی تاحکمِ ثانی بند رہیں گی، جبکہ وی وی آئی پی روٹس پر آنے والی مارکیٹیں، گلیاں، مری روڈ، فیض آباد، کمرشل مارکیٹس اور دیگر کاروباری مراکز بھی مخصوص اوقات میں بند رکھے جا رہے ہیں۔ روٹ پر واقع شادی ہالز کو بھی بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔سید خالد محمود ہمدانی کے احکامات پر راولپنڈی پولیس کے 10 ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہیں، جبکہ 600 سے زائد خصوصی پکٹس قائم کر کے شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس اور دیگر کوئیک رسپانس یونٹس گشت پر مامور ہیں، جبکہ تربیت یافتہ سنائپرز اور ایلیٹ کمانڈوز بھی حساس مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر بھر میں سرچ، سویپ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے اور مشتبہ افراد کی کڑی نگرانی جاری ہے۔حساس تنصیبات، اہم سرکاری و نجی مقامات اور قیام گاہوں کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے مانیٹرنگ جاری ہے۔ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے اور شہریوں کو متبادل راستے فراہم کیے جا رہے ہیں۔سید خالد محمود ہمدانی کا کہنا ہے کہ فول پروف سکیورٹی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔رپورٹس کے مطابق اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شریک ہوئیں۔اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کم از کم ایک مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے فون پر رابطہ کیا جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، آئندہ ممکنہ مذاکرات کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی رہ گئے ۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اس ہفتے کسی ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے










