ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی بحریہ دشمنوں کو نئے نقصانات پہنچانے کے لیے تیار ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی پورٹ کی ناکہ بندی غیرقانونی ہے اور ایران کا دفاع پورے خطے کے لیے ہے۔سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا بدھ تک معاہدہ نہیں ہوا تو فوجی کارروائی کی طرف جائیں گے، ٹرمپ نے ایک ہی بیان میں دو متضاد باتیں کیں، ٹرمپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ امریکی عوام فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دفاع کو جاری رکھنا چاہیے، ہم اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھیں گےجب تک آخری ایرانی فوجی زندہ ہے، جنگ کے مثبت نتائج نہیں ہو سکتے، امریکیوں کویہ بات سمجھ لینی چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر 22 اپریل تک مذاکرات کے نتیجے میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوسکتی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ائیر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے میں شاید میں توسیع نہیں کروں گا۔ ناکہ بندی جاری ہے اور بدقسمتی سے ہمیں دوبارہ بم گرانا پڑے گا۔واضح رہے کہ موجودہ عارضی جنگ بندی جو 8 اپریل کو شروع ہوئی، چار دن میں ختم ہونے والی ہے جبکہ 11 سے 12 اپریل کو ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور کسی اعلان کردہ معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ٹرمپ نے امید کا اظہار کیا ہے کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا دوسرا دور ہفتے کے آخر میں ہو سکتا ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے بتایا کہ ہمیں 20 منٹ پہلے کچھ اچھی خبر ملی ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ سب کچھ بہت اچھا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ اس کے بارے میں جلد سنیں گے، ایک “ذہین شخصیت” کل وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی، ایسی شخصیت جو اپنے ملک کے بارے میں بھی اور دوسرے ملک بارے میں بھی سوچتی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس بھی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت کوئی مالی تبادلہ نہیں ہوگا
پاسداران انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب پچھلی حالت میں واپس آ گیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سابقہ حالت میں اب کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کا کنٹرول مکمل طور پر پرانی حالت میں واپس آگیا ہے۔پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب ایران کی مسلح افواج کے سخت کنٹرول میں ہے۔ بیان میں امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی آڑ میں سمندری قزاقی اور بحری چوری کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔پاسداران انقلاب کمانڈر کے مطابق جب تک امریکا جہازوں کی آمدورفت کو پوری آزادی کے ساتھ بحال نہیں کرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت رہے گی۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں سمندری راستوں کی حفاظت اور نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ اس اعلان کو عالمی تجارتی گزرگاہوں پر ایرانی اثر و رسوخ کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے یہ شرائط اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پیش کی جس میں بحری جہازوں کی ملکیت رکھنے والوں کے لیے ہدایات بھی ہیں۔
پاسداران انقلاب نے ہدایت کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کو ان سے اجازت لینا ہوگی جس کے بغیر کسی کو جانے نہیں دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں صرف سویلین تجارتی جہازوں کو مخصوص راستوں سے گزرنے کی اجازت ہوگی البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ کوئی بھی فوجی جہاز اگر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات لبنان میں جنگ بندی کے بعد میدان جنگ میں خاموشی کے معاہدے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
قبل ازیں ایرانی حکومت نے بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی فورسز سے اجازت لینا ہوگی اور صرف ایران کے پہلے سے متعین کردہ آبی راستے پر سفر کرنا ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کیا جائے گا جس کے لیے وہاں کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا منظم مرحلے لیکن آہستہ رفتار سے آگے بڑھے گا۔
صدرٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مل کر ان کے ملک میں پورے احتیاط اور آرام سے کھدائی کرکے بڑی مشینری کے ذریعے جوہری مواد نکالیں گے۔ پھر اسے امریکا لے آئیں گے۔
امریکی صدر نے اس عمل کو نیوکلیئر ڈسٹ سے بھی تعبیر کیا اور کہا کہ یہ وہ باقیات ہیں جو گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائی حملوں کے بعد بچی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا اس کارروائی کی بنیادی وجہ تھی۔
خیال رہے کہ ایران کے پاس اس وقت 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سطح 90 فیصد تک مزید افزودہ ہونے کی صورت میں ہتھیار بنانے کے قابل ہوسکتی ہے۔
تاہم ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کی بھی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان 20 ارب ڈالر کے نقد معاہدے پر غور ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر غلط ہے کسی قسم کا پیسہ منتقل نہیں ہو رہا۔
اسرائیل نے لبنان سے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں عائد ہنگامی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہونا شروع ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اب پورے ملک میں مکمل سماجی اور معاشی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے تحت تعلیمی ادارے، دفاتر اور عوامی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں گی۔
تاہم شمالی اسرائیل کے سرحدی یا “فرنٹ لائن” علاقوں میں عارضی طور پر احتیاطی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں جہاں اجتماعات کی حد ایک ہزار افراد تک مقرر کی گئی ہے اور یہ پابندی بھی ہفتے کی شام تک ختم کر دی جائے گی۔
یاد رہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے راکٹوں اور ڈرون حملوں کے خطرات کے باعث اسرائیل نے سخت پابندیاں نافذ کر رکھی تھیں۔
ان اقدامات کے تحت اسکول بند، عوامی اجتماعات محدود اور متعدد شعبوں میں معمول کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔
اگرچہ جنگ کے دوران بعض علاقوں میں مرحلہ وار نرمی کی گئی تاہم 28 فروری سے شروع ہونے والی موجودہ جنگ کے بعد سے پہلی بار مکمل سطح پر پابندیاں ختم کی گئی ہیں۔
یران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افروزدہ یورینیئم کی امریکا منتقلی پر آمادہ ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ایران اپنے جوہری اثاثوں پر مکمل خودمختاری رکھتا ہے۔
ایران کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو سکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے، اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار موجودہ جنگ بندی اور حملوں کے نہ ہونے پر ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بیان میں اشارہ دیا گیا کہ محفوظ ماحول کی عدم موجودگی میں اس اسٹریٹجک راستے پر معمول کی نقل و حرکت برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کیلئے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ ہے جس کا مقصد ممکنہ طور پر جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مخالف فریقوں پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا عمل اچھی طرح سے جاری ہے اور مذاکرات ویک اینڈ کے دوران بھی جاری رہیں گے۔
ایریزونا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ایران سے ایٹمی مواد واپس لایا جائے گا اور امریکا ایرانی نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ مجوزہ معاہدے کے تحت کسی قسم کا مالی تبادلہ بھی نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست شخصیات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں پاکستانی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سعودی عرب، قطر کویت، یو اے ای اور بحرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے بھرپور تعاون کیا اور غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔










