بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 33 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے بعد نئی عالمی قیمت 4 ہزار 792 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔
عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3300 روپے کی کمی آئی، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ ایک ہزار 562 روپے کی سطح پر آ گئی۔
اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 2829 روپے کی کمی کے ساتھ 4 لاکھ 30 ہزار 8 روپے ہو گئی۔
علاوہ ازیں مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 70 روپے کی کمی سے 8ہزار 444 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 60روپے کی کمی سے 7ہزار 239روپے کی سطح پر آگئی۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہےکہ مکمل حقوق تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں چھوڑیں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکی مسلسل جنگ سے خوف زدہ ہیں ور ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی لانچر امریکی بحری جہازوں کو ڈبونے کے لیے تیار ہیں، مکمل حقوق تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں چھوڑیں گے۔
محسن رضا نے مزید کہا کہ اگر ایرانی بحریہ تباہ ہوچکی ہے تو پھر امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی جرات کیوں نہیں کررہا۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز مکمل کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کا شکریہ۔
امریکی صدر نے ایک اور پوسٹ میں اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور کاروبار اور مکمل آمد و رفت کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ہمارا 100 فیصد معاہدہ نہیں ہوتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!”

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول رہے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کیا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تمام کمرشل بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مربوط (کوآرڈی نیٹڈ) روٹ کے ذریعے گزر سکیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ یہ روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا اختتام 22 اپریل کو ہوگا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس تاریخ کے بعد ایران دوبارہ آبنائے ہرمز بند کردیتا ہے یا اس سے قبل کوئی حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے یہ انتہائی اہم قدم کن شرائط کی بنیاد پر اُٹھایا ہے اور اس کے لیے کیا معاملات طے پائے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی تھی جو دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے اثرات مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آئے۔
ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے جس میں امریکا نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
جس کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور ان سفارتی کاری کی کوششیں بآور ثابت ہورہی ہیں

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایک بڑے غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے متعدد ممالک میں شدت سے محسوس کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، سری لنکا، سوڈان، کینیا، برازیل اور تھائی لینڈ سمیت کئی ممالک میں نئی فصلوں کی کاشت کا وقت آ چکا ہے، لیکن کھاد اور توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث زرعی سرگرمیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 35 فیصد تیل، 20 فیصد قدرتی گیس اور 20 سے 30 فیصد کھاد گزرتی ہے۔ اس راستے کی بندش کے باعث ان اشیاء کی ترسیل رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں کو کھاد کی قلت کا سامنا ہوگا۔
میکسیمو ٹوریرو کے مطابق کھاد کی کمی سے نہ صرف فصلوں کی کاشت متاثر ہوگی بلکہ پیداوار بھی کم ہو جائے گی، جس سے عالمی سطح پر خوراک کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ چند دنوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل بھی جائے، تب بھی تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی کو معمول پر آنے میں کم از کم تین ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ مکمل بحالی میں مزید وقت درکار ہوگا۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری حل نکالے تاکہ ممکنہ غذائی بحران کو روکا جا سکے۔

یہ یوٹیوب چینل لیگو اسٹائل اے آئی ویڈیوز کے ذریعےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاق اڑاتا تھا۔
یوٹیوب کے مطابق چینل نے ا’سپام اور دھوکا دہی‘ کی پالیسی کی خلاف ورزی کی تاہم یوٹیوب چینل نے اس اقدام کو سنسرشپ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کی ویڈیوز لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہیں، ان میں جنگی مناظر اور عالمی رہنماؤں کو دکھایا گیا اور یہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو امریکی وقت کے مطابق شام 5 بجے سے شروع ہوگی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ان کی براہِ راست بات چیت کے بعد ممکن ہوئی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جنگ بندی کے لیے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے بھی رابطہ کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لیے 10 دن کی باقاعدہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے نمائندوں کی 34 سال بعد پہلی بار واشنگٹن میں ملاقات بھی ہوئی، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو بھی شریک تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔
امریکی صدر نے لبنان کے صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے لیے مدعو بھی کیا ہے اور کہا کہ دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ جلد حاصل ہو سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس عمل کو آگے بڑھائیں۔

سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد نے افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔
فتنۃ الخوارج کے سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر نے اعتراف کیا کہ فتنۃ الخوارج میں پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کی وجہ سے شامل ہوا۔
خارجی عامر سہیل اپنے حوالے سے بتایا کہ افغان صوبے پکتیکا میں فتنۃ الخوارج کے مرکز میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی، افغانستان میں فتنۃ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
فتنۃ الخوارج کے اہم سرغنہ نے بتایا کہ افغانستان میں موجود داعش، القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ بھی ہمارے قریبی روابط تھے جبکہ ہمیں افغانستان اور دیگر غیر ملکی ایجنسیوں بشمول ’’را‘‘ کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی۔
خارجی عامر سہیل نے بتایا کہ میری تشکیل میں 20 سے زائد خارجی دہشت گردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے۔ بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا۔
فتنۃ الخوارج کے اہم سرغنہ نے مزید بتایا کہ مجھے پشاور میں علاج کی غرض سے آتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا۔ فتنۃ الخوارج کا اسلام اور جہاد سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف پیسے کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق خارجی دہشتگرد کے انکشافات سے واضح ہے کہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کے لیے افغانیوں اور فتنۃ الخوارج کے گٹھ جوڑ کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
خارجی دہشت گرد کا طالبان رجیم اور بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کا اعتراف پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی توثیق ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے اور اپنے پیغام میں حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ بندی صرف حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ ہم اس جنگ بندی پر احتیاط کے ساتھ ڈیل کریں گے اور مکمل کامیابی کے حصول تک ایک ساتھ رہیں گے اور اس پیش رفت کو مکمل فتح کے حصول تک محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائےگا۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے جس 10 روزہ معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا اس کا آغاز اب ہو چکا ہے۔

ترکیہ کے جنوبی صوبے کہرامان ماراش کے مڈل اسکول میں ایک طالب علم نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور تقریباً 20 زخمی ہوگئے۔
صوبے کے گورنر مکرّم اونلوئر نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک استاد اور 3 طلبا شامل ہیں۔ جن کی شناخت بعد میں ظاہر کی جائے گی۔
فائرنگ میں زخمی ہونے والوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور خود اسی اسکول کا طالب علم تھا جو اپنے والد کی پستول کو بیگ میں چھپا کر اسکول میں داخل ہوا اور دو کلاس رومز میں اندھا دھند فائرنگ کی۔
اسکول میں ہلاکت خیز دہشت پہلانے کے بعد طالب علم نے بھی خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی صوبہ شانلی عرفہ میں ایک سابق طالب علم نے اپنے پرانے اسکول میں فائرنگ کرکے 16 افراد کو زخمی کیا اور پھر خود کو بھی ہلاک کرلیا تھا۔
واضح رہے کہ ترکیہ میں اسکول پر فائرنگ کے واقعات انتہائی کم دیکھنے میں آتے ہیں تاہم حالیہ دو حملوں سے سماج میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔