رپورٹ کے مطابق اس جدید اقدام کے باعث متعلقہ علاقوں میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جن مقامات پر پولیس افسران کے تھری ڈی ہولوگرام (پروجیکشن) تعینات کیے گئے، وہاں جرائم کی شرح میں تقریباً 22 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
خاص طور پر اچانک ہونے والے جھگڑوں اور نشے کی حالت میں کیے جانے والے تشدد جیسے واقعات میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ ہولوگرام عوامی مقامات پر اس لیے نصب کیے گئے ہیں تاکہ شہریوں میں احساس تحفظ پیدا ہو اور جرائم پیشہ عناصر پر نفسیاتی دباؤ برقرار رہے۔
رپورٹ کے مطابق تکنیکی لحاظ سے یہ محض ایک تصویر نہیں بلکہ ایک جامع سیکیورٹی نظام ہے۔ ان ہولوگرامز کے ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمرے نصب ہیں جو پورے علاقے کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حقیقی پولیس اہلکار بھی کنٹرول روم سے ان مقامات پر نظر رکھتے ہیں جہاں یہ پروجیکشن لگائی گئی ہے۔
ان ہولوگرامز کے ذریعے عوام کو ریکارڈ شدہ پیغامات بھی سنائے جاتے ہیں، جن میں شہریوں کو قانون کی پاسداری کی ہدایت کی جاتی ہے اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ پولیس ہر وقت وہاں موجود ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام اس تجربے کی کامیابی کے بعد اسے مزید علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہے ہیں۔

کویت کی حکومت نے شہریت کے قوانین میں اہم ترامیم کرتے ہوئے مختلف اقسام اور اہلیت کے معیار کی وضاحت کر دی ہے۔ نئے قواعد کے مطابق کویتی الاصل، نسب سے شہریت، غیر ملکی شریکِ حیات، اور خواتین کی شہریت سے متعلق شقوں کو واضح کیا گیا ہے۔
ترمیم کے تحت کویتی باپ کے بچے کو پیدائش سے ہی شہریت حاصل ہوگی جبکہ بعض مخصوص حالات میں کویتی ماں کے بچوں کو عارضی شہریت دی جا سکے گی۔ غیر ملکی سے شادی کی صورت میں شہریت کے قواعد بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔
نئے قانون کے مطابق شہریت کے حصول پر غیر ملکی شہریت تین ماہ میں ترک کرنا لازمی ہوگا، جبکہ دھوکہ دہی، قومی سلامتی کے خطرات یا غیر ملکی فوج میں شمولیت کی صورت میں شہریت منسوخ کی جا سکے گی۔ تنازعات میں ڈی این اے اور بائیو میٹرک تصدیق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

جب رات کی تاریکی چھاتی ہے تو سولر پینلز بجلی پیدا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں جس کے باعث کئی بار ضرورت کے وقت توانائی دستیاب نہیں ہوتی۔
مگر سائنسدانوں نے اس کا ایک منفرد حل تلاش کیا ہے اور سورج سے پیدا ہونے والی توانائی کو رات میں بھی استعمال کرنا ممکن بنایا ہے۔
جرنل ایڈوانسڈ انرجی میٹریلز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی ماہرین نے لکڑی کی اندرونی ساخت کو ری ڈیزائن کرکے اسے مسام دار اسفنج میں تبدیل کیا تاکہ وہ سورج کی روشنی کو جذب کرکے حرارت کا ذخیرہ کرسکے۔
اس تدوین شدہ لکڑی کو سورج کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ رات کے وقت بھی ایسا ممکن ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار سے سولر پاور کی سب سے بڑی کمزوری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
ابھی رات کی تاریکی میں سورج کی روشنی سے بجلی کا حصول ممکن نہیں، مگر چینی سائنسدانوں کے مطابق ان کے نئے طریقہ کار سے سورج غروب ہونے کے بعد بھی ماحول دوست توانائی کو استعمال کیا جاسکے گا۔
ابھی اس مقصد کے لیے بیٹری کو استعمال کیا جاتا ہے جس میں دن بھر پیدا ہونے والی بجلی ذخیرہ ہوتی ہے مگر وہ کافی مہنگی ہوتی ہے۔
چینی سائنسدانوں نے اس نئے طریقہ کار کے لیے مختلف میٹریلز کی تہوں کے امتزاج کی بجائے ہلکے وزن کی نرم لکڑی کو استعمال کیا جس کی ساخت قدرتی طور پر ایسی ہے جسے آسانی سے تدوین کیا جاسکتا ہے۔
بالسا ووڈ نامی یہ لکڑی حرارت کا ذخیرہ کرنے کے لیے بھی اچھی ہوتی ہے۔
مگر لکڑی کی یہ قسم قدرتی طور پر سورج کی روشنی کو پلٹا دیتی ہے اور پانی کو جذب کرتی ہے تو اسی وجہ سے ماہرین نے اس کے اندر موجود ایک پیچیدہ مالیکیول کو نکالا جس کے بعد وہ لکڑی روشنی جذب کرنے کے قابل ہوگئی۔
اس کے بعد محققین نے لکڑی کی اندرونی سطح کو تبدیل کرکے اس میں سیاہ فاسفورسین کی بہت پتلی شیٹس کا اضافہ کیا جو روشنی کو جذب کرنے اور برقی عمل کے اہم ہوتا ہے۔
پھر اس میں ایسے نانو ذرات کا اضافہ کیا گیا جو سورج کی روشنی پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور ہائیڈرو کاربن مرکبات کو لکڑی کی سطح کا حصہ بنایا گیا۔
آخر میں لکڑی کی اندرونی شریانوں میں stearic ایسڈ کا اضافہ کیا گیا تاکہ وہ گرم ہونے پر سورج کی روشنی کا ذخیرہ کرسکے اور ٹھنڈا ہونے پر اس کا اخراج کرسکے۔
محققین نے اس لکڑی کو تدوین کرنے کے بعد جانچا اور رات کی روشنی میں بجلی کے حصول میں کامیاب ہوگئے۔
تحقیق کے مطابق اس لکڑی نے 91.2 فیصد سورج کی روشنی کو حرارت میں تبدیل کیا اور بجلی پیدا کی۔
محققین کے مطابق یہ بجلی بہت زیادہ پائیدار ہے اور عرصے تک اس کی کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی یہ نتائج ابتدائی ہیں اور اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ثابت کیا جاسکے کہ بڑے پیمانے پر اس لکڑی کو سورج سے حاصل ہونے والی توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اگر ان کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں تو رات کے وقت بھی سورج سے بجلی کا حصول ممکن ہو جائے گا۔

تھائی لینڈ میں نئے سال کے موقع پر منائے جانے والے مشہور واٹر فیسٹیول کے دوران اموات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صرف ابتدائی تین دنوں میں 191 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال دنیا کی سب سے بڑی واٹر فائٹ کہلانے والا یہ تہوار خوشیوں کے بجائے حادثات، تیز رفتاری اور نشے میں ڈرائیونگ کے باعث ایک المناک شکل اختیار کر گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 951 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 900 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پہلے ہی دن 51 افراد مختلف حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حادثات کی سب سے بڑی وجہ تیز رفتاری (تقریباً 42 فیصد) اور اس کے بعد نشے میں ڈرائیونگ (27 فیصد سے زائد) بتائی گئی ہے۔
یہ تہوار نئے تھائی سال کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں لاکھوں افراد بڑے شہروں خصوصاً بنکاک سے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ اہلِ خانہ کے ساتھ جشن منا سکیں۔ اس بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے باعث سڑکوں پر رش بڑھ جاتا ہے اور حادثات میں اضافہ ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق ’سات خطرناک دن‘ کے نام سے مشہور اس دورانیے میں ہیلمٹ نہ پہننا، تیز رفتاری اور غیر ذمہ دارانہ رویے بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ دوپہر 3 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان سب سے زیادہ حادثات رپورٹ ہوئے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق تھائی لینڈ سڑک حادثات کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں سال بھر اوسطاً 38 افراد روزانہ ٹریفک حادثات میں جان گنواتے ہیں، تاہم اس تہوار کے دوران یہ شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تہوار روحانی پاکیزگی، نئی شروعات اور خوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے پر پانی چھڑک کر جشن مناتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد نے حکام کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔
مزید برآں، اس سال تقریباً 5 لاکھ بین الاقوامی سیاحوں کی آمد اور 30 ارب بھات سے زائد آمدنی کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے، تاہم سکیورٹی اقدامات کے باوجود کچھ غیر ملکی سیاحوں کو بد نظمی پھیلانے پر گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

روس نے اپنی ”امپیٹریشن” (Impatriation) اسکیم کے تحت غیر ملکی ہنر مندوں کو شہریت اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک نئے ڈیجیٹل پورٹل کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد دنیا بھر سے باصلاحیت اور ہنرمند افراد کو روس کی جانب راغب کرنا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پروگرام ان غیر ملکیوں کے لیے ہے جو مطلوبہ پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں اور مستقل طور پر روس منتقل ہونے کے خواہشمند ہیں۔
درخواست گزاروں کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ روایتی روسی اقدار کے احترام کا مظاہرہ بھی کریں۔
درخواست دینے کا طریقہ کار:
امیدواروں کو ایک منظم آن لائن عمل سے گزرنا ہوگا جس میں درج ذیل دستاویزات درکار ہوں گی:
جامع سی وی جس میں تمام تفصیلات درج کی گئی ہوں
تعلیمی اسناد، پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس۔
دستاویزات جمع کروانے کے بعد حکام امیدواروں کے پیشہ ورانہ پس منظر کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد ایک آن لائن انٹرویو کا انعقاد کیا جائے گا، درخواست پر حتمی فیصلے کے لیے زیادہ سے زیادہ 125 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وہ افراد جنہیں ”امپیٹریٹ” (Impatriate) کا درجہ دے دیا جائے گا، انہیں مندرجہ ذیل سہولیات فراہم کی جائیں گی:
ویزہ کے حصول میں مکمل معاونت اور رہائش کی فراہمی اور سماجی ہم آہنگی میں مدد، اس کے علاوہ ہر کامیاب امیدوار کی مدد کے لیے ایک پرسنل مینیجر کا تقرر کیا جائے گا جو انتظامی امور میں رہنمائی کرے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پوپ لیو نے کسی کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ جنگ کے سوداگر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تباہی چند لمحوں میں ہو جاتی ہے لیکن تعمیرِ نو میں پوری زندگیاں لگ جاتی ہیں۔
انھوں نے جنگ کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ دنیا چند آمرانہ رہنماؤں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔ جنگ میں اربوں ڈالرز پھونک دینے والے ظالم ہیں۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ دنیا میں جنگوں اور تباہی پر بے تحاشا وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور بحالی جیسے بنیادی شعبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے مذہب کے غلط استعمال پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کچھ عناصر اپنے سیاسی، معاشی اور عسکری مفادات کے لیے مذہب اور خدا کے نام کو استعمال کرتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ اگرچہ دنیا چند ظالموں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے لیکن یہی دنیا بے شمار ہمدرد اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے لوگوں کی بدولت قائم بھی ہے۔
انھوں نے اپنے خطاب کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگوں کی بجائے انسانی اخوت، پائیدار ترقی اور امن کو اپنی ترجیح بنائیں۔
یاد رہے کہ پوپ لیو نے اس قبل ایران جنگ پر تنقید کی تھی جس پر صدر ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوپ لیو کو خارجہ پالیسی کا کچھ پتا نہیں ہے

امریکا نے ایران جانے والے بحری جہازوں کی تلاشی لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد اسلحہ، گولہ بارود اور ممکنہ ایٹمی مواد کی ترسیل کو روکنا بتایا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ ایران تک حساس اور ممنوعہ مواد کی فراہمی کو روکا جا سکے۔
اس حوالے سے امریکی بحریہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ایران جانے والے جہازوں کی مکمل تلاشی لی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر ہتھیار، ویپن سسٹمز، گولہ بارود، ایٹمی مواد یا دیگر حساس اشیاء موجود نہ ہوں۔
اس کے علاوہ خام یا صاف تیل، لوہا، اسٹیل اور ایلومینیم جیسے مواد کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
ایڈوائزری کے مطابق یہ تلاشی کسی مخصوص مقام تک محدود نہیں ہوگی بلکہ کھلے سمندر میں کہیں بھی لی جا سکتی ہے، جس سے عالمی بحری تجارت پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا کے اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور سمندری آزادی کے حوالے سے نئی بحث بھی جنم لے سکتی ہے۔

یورپ میں ایندھن کے بحران کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں رپورٹس کے مطابق خطے کے پاس صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول باقی رہ گیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں پروازیں منسوخ ہونے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کئی ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک، جو توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے سب سے پہلے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اس بحران کے اثرات یورپ اور امریکا تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
فاتح بیرول نے مزید کہا کہ اگر یورپ نے مشرق وسطیٰ سے آنے والی اپنی کم از کم نصف درآمدات کے متبادل ذرائع فوری طور پر حاصل نہ کیے تو جون تک ایندھن کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ کرنا پڑ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک دنیا بھر کو جیٹ فیول فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، جبکہ جنوبی کوریا، بھارت اور چین کی ریفائنریز بھی بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کے خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپ کو موسم گرما کے دوران بڑھتی ہوئی سفری طلب کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر متبادل توانائی ذرائع تلاش کرنا ہوں گے، ورنہ بڑے پیمانے پر فلائٹس کی منسوخی کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر خلیجی سپلائی جلد بحال بھی ہو جائے، تب بھی قلت کا خطرہ برقرار رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی خام تیل 10.58 فیصد کمی کے ساتھ 93.61 ڈالر سے کم ہو کر 84.70 ڈالر فی بیرل پر آ گیا جبکہ برطانوی خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد کمی ہوئی اور قیمت 98.33 ڈالر سے کم ہو کر 88.87 ڈالر ہو گئی ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی گئی ہے اور ہر قسم کی آمدورفت کیلئے تیار ہے ، شکریہ ۔
یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد تجاری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول رہے ہیں، جنگ بندی کے باقی دنوں میں آبنائے ہرمز مکمل کھلا رہے گا، تجارتی جہازوں کے راستے کی پہلے ہی نشاندہی کی گئی ہے۔
کچھ دیر قبل رائٹرز کی جانب سے بھی یہ خبر شائع کی گئی تھی کہ پاکستان کا تیل برادر جہاز ’ شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے 8 کروڑ لیٹر تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکل آیا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے جو دو روز میں بندرگاہ پہنچے گا۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 33 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے بعد نئی عالمی قیمت 4 ہزار 792 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔
عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3300 روپے کی کمی آئی، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ ایک ہزار 562 روپے کی سطح پر آ گئی۔
اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 2829 روپے کی کمی کے ساتھ 4 لاکھ 30 ہزار 8 روپے ہو گئی۔
علاوہ ازیں مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 70 روپے کی کمی سے 8ہزار 444 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 60روپے کی کمی سے 7ہزار 239روپے کی سطح پر آگئی۔