امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے۔ٹرمپ کے مطابق یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں۔بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی سمندروں میں موجود ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا اس اقدام کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کو رعایتیں دے۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نیا نظام نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی بحریہ سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تمام تجارتی جہاز ایران کی جانب سے طے کیے گئے مخصوص راستوں پر سفر کریں گے، جبکہ غیر ملکی جنگی جہازوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دراصل ایران نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک امریکا اپنے غیر قانونی اقدامات ختم نہیں کرتا، اس وقت تک یہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
واشنگٹن میں ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شریک ہوئیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کم از کم ایک مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے فون پر رابطہ کیا جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، آئندہ ممکنہ مذاکرات کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی رہ گئے ۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اس ہفتے کسی ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کر چکے ہیں، تاہم تاحال مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں دوبارہ کشیدگی اور ممکنہ طور پر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور حیران کن قدم سامنے آیا ہے، جہاں میٹا اپنے بانی اور سی ای او مارک زکربرگ کا اے آئی کلون بنانے کی تیاری کررہی ہے۔یہ ڈیجیٹل اوتار نہ صرف زکربرگ جیسا دکھائی دے گا بلکہ ملازمین سے براہِ راست گفتگو اور رہنمائی بھی کرے گا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی ایک ایسے اے آئی اوتار پر کام کر رہی ہے جسے زکربرگ کی اصل آواز، لہجے، اندازِ گفتگو اور باڈی لینگویج تک کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کمپنی کے ملازمین، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، زکربرگ کے ساتھ ’’ورچوئل‘‘ انداز میں رابطہ قائم کر سکیں اور ان سے فیڈ بیک حاصل کرسکیں۔ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم اگر یہ کامیاب رہا تو مستقبل میں میٹا دیگر تخلیق کاروں کو بھی اپنے اے آئی اوتار بنانے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔ اس سے قبل 2024 میں کمپنی نے ایک لائیو ڈیمو میں یہ دکھایا تھا کہ کس طرح اے آئی شخصیات کو مختلف پلیٹ فارمز پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق مارک زکربرگ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بھی ایک الگ اے آئی ایجنٹ تیار کروا رہے ہیں، جو ان کے روزمرہ کاموں میں مدد دے گا۔ یہ سسٹم کمپنی کے لیے بنائے جانے والے اوتار سے مختلف ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ کارپوریٹ دنیا میں کمیونیکیشن کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے، جہاں سربراہان اپنی ’’ڈیجیٹل موجودگی‘‘ کے ذریعے ہر وقت اپنے ادارے سے جڑے رہ سکیں گے۔
حرمین شریفین کے امور کی نگران اعلیٰ اتھارٹی نے حج کے بابرکت ایام قریب آتے ہی روایتی و احتیاطی تدابیر کے طور پر غلافِ کعبہ (کسوہ) کو بلند کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق خانہ کعبہ کے غلاف کو نچلے حصے سے تقریباً تین میٹر تک اوپر اٹھایا گیا ہے اور اس کے نیچے چاروں طرف سفید رنگ کا سوتی کپڑا (احرام) لپیٹ دیا گیا ہے۔
اس سالانہ اقدام کا بنیادی مقصد حج کے دوران لاکھوں عازمین کی آمد کے پیشِ نظر غلاف کو کسی بھی قسم کے نقصان، رگڑ یا مٹی سے محفوظ رکھنا ہے، کیونکہ طواف کے دوران زائرین کی بڑی تعداد غلاف کو چھونے کی کوشش کرتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام عمل انتہائی منظم انداز میں فنی ماہرین کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جس میں خصوصی عملے نے جدید آلات کا استعمال کیا۔ اس موقع پر حرم مکی میں حفاظتی اور انتظامی انتظامات بھی انتہائی سخت رکھے گئے تھے تاکہ اس عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے پائے تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
واضح رہے کہ غلاف کو بلند کرنے کی یہ روایت ہر سال حج سے قبل اپنائی جاتی ہے، اور حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد غلاف کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں نیچے کر دیا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز کھلنے کے محض 24 گھنٹوں بعد ہی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور ایران نے تیل کی اس اہم ترین آبی گزرگاہ کی دوبارہ بندش کا اشارہ دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کی ہے۔ یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنکے بقول فائرنگ کا یہ واقعہ آبنائے ہرمز عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔ آئل ٹینکر اور عملہ محفوظ ہیں، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔دوسری جانب شپنگ مانیٹرنگ گروپ ٹینکر ٹریکر نے دعویٰ کیا ہے کہ دو بحری جہازوں جن میں سے ایک بھارتی پرچم بردار سپر ٹینکر بھی شامل تھا کو ایرانی گن بوٹس نے نشانہ بنایا اور واپس جانے پر مجبور کیا۔کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوسرا آئل ٹینکر بھی بھارت سے منسلک تھا اس طرح دو بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم بھارت کی جانب سے تردید یا تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایک اور واقعے میں ایک بڑا خام تیل بردار جہاز، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لے جا رہا تھا، بھی متاثر ہوا۔ اس دوران وارننگ کے طور پر فائرنگ بھی کی گئی۔مزید برآں رائٹرز نے بھی شپنگ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کم از کم دو تجارتی جہازوں نے بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں کچھ جہازوں کو ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔قبل ازیں پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اُس وقت تک ایران کی مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا۔پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کو بحری قزاقی اور غیرقانونی اقدام قرار دیا تھا
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث درہم برہم ہونے والا فضائی آپریشن بتدریج بحال ہونا شروع ہوگیا۔ یوی ایشن ذرائع کے مطابق ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز نے اپنے فضائی آپریشن کے نئے شیڈول تیار کر لیے ہیں جبکہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے خلیجی ممالک کے لیے آنے اور جانے والی پروازوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر ایئرویز، امارات ایئرلائن، سعودیہ، کویت ایئرویز اور عمان ایئر نے بھی پروازوں کی آمد و رفت کے نئے شیڈول مرتب کر لیے ہیں۔ کراچی، اسلام آباد، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور کوئٹہ سے بھی پروازوں کی روانگی کا سلسلہ بحال ہو چکا ہے۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق پاکستان سے خلیجی ممالک کے لیے 27 پروازیں روانہ کی گئیں، جبکہ خلیجی ایئرلائنز نے حج آپریشن کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا ہے۔
مزید برآں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے عازمینِ حج کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور تمام ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ پروازوں کی روانگی مقررہ وقت پر یقینی بنائی جائے۔
ذرائع کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے لینڈنگ، ٹیک آف، پارکنگ اور فیولنگ سمیت تمام انتظامات مکمل ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایران اور امریکی وفود کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے شہریوں کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں براڈیفائی نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ روٹس پر واقع عمارتوں کے مالکان سے سرٹیفکیٹس لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وفود کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات، روٹ پر آنے والے گھروں، دکانوں، پلازوں اور ہوٹلز کے مالکان ذمہ داریوں کے پابند ہوں گے۔پولیس نے ہدایت کی ہے کہ روٹ کے دوران پارکنگ پر پابندی اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتوں، بالکنیوں اور کھڑکیوں سے نقل و حرکت محدود ہوگی اور خلاف ورزی پر مالک ذمہ دار ہوگا، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خلل کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی بحریہ دشمنوں کو نئے نقصانات پہنچانے کے لیے تیار ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی پورٹ کی ناکہ بندی غیرقانونی ہے اور ایران کا دفاع پورے خطے کے لیے ہے۔سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا بدھ تک معاہدہ نہیں ہوا تو فوجی کارروائی کی طرف جائیں گے، ٹرمپ نے ایک ہی بیان میں دو متضاد باتیں کیں، ٹرمپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ امریکی عوام فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دفاع کو جاری رکھنا چاہیے، ہم اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھیں گےجب تک آخری ایرانی فوجی زندہ ہے، جنگ کے مثبت نتائج نہیں ہو سکتے، امریکیوں کویہ بات سمجھ لینی چاہیے۔










