امریکا نے ایران کی جانب جانے والے بحری راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے تاکہ وہاں سے کسی بھی جہاز کی آمدورفت ممکن نہ ہوسکے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران امریکی ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فی الفور بحری راستے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو خطے کی تمام اہم بحری گذرگاہوں کو بند کرکے کسی بھی جہاز کو گزرنے نہیں دیں گے۔
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو روکے گا تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔
انھوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایسی صورت میں ایرانی مسلح افواج خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور بحیرۂ احمر میں سے کسی بھی جہاز کو گزرنے نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پیر کے روز شروع کی تھی اور امریکی فوج کے بقول کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ خلیج عمان میں 6 تجارتی جہازوں کو واپس لوٹنا پڑا۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایران امریکا امن مذاکرات میں کچھ نکات پر اتفاق ہوا لیکن چند نکات ابھی حل طلب ہیں۔ جس کے لیے دوسرا دور اسی ہفتے متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق ابھی کچھ نہیں سوچ رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی میں توسیع پر غور نہیں کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا مجھے واقعی لگتا ہے کہ آپ آنے والے دو دنوں میں کچھ حیرت انگیز دیکھیں گے۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ تنازع یا تو بات چیت کے ذریعے یا فوجی کارروائی کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے جس سے ایران کی صلاحیتیں ختم ہو جائیں گی۔
امریکی بحریہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کا جدید MQ-4C Triton جاسوس ڈرون کی مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نیول سیفٹی کمانڈ نے جاسوس ڈرون کے تباہ ہونے کے واقعے کو “کلاس اے حادثہ” قرار دیا جو عام طور پر 2 ملین ڈالرز سے زائد نقصان یا انتہائی سنگین نوعیت کے حادثات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ڈرون خلیج فارس کے اوپر تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اپنی معمول کی نگرانی کی پرواز پر تھا جب اس نے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز پر اپنی موجودگی کھو دی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ڈرون نے اچانک تیزی سے نیچے آنے لگا تھا اور چند ہی لمحوں میں 10 ہزار فٹ سے بھی نیچے آگیا تھا۔
اس وقت جاسوس ڈرون کی پرواز کا رخ بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب تھا اور آخری اطلاعات میں یہ اٹلی میں موجود نیول ایئر اسٹیشن سیگونیلا کی طرف واپس جا رہا تھا۔
مزید یہ کہ اس نے ہنگامی صورتحال ظاہر کرنے والا کوڈ 7700 بھی نشر کیا تھا جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل اس نے 7400 کوڈ بھی بھیجا جو کنٹرولرز سے رابطہ منقطع ہونے کی علامت ہے۔
ایران نے امریکا سے مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ دے دیا اور کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات بھیجنے اور وصولی کا سلسلہ جاری ہے، امید ہے اگلے بدھ کو اسلام ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکا سے مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہوچکا، ایرانی وفد کی پاکستان سے وطن واپسی کے بعد امریکا سے پاکستان کے ذریعے کئی پیغامات کا تبادلہ ہوا، قوی امکان ہے کہ پاکستان بدھ کو ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے تاحال پیغامات کے تبادلے کا تبادلہ اتوار سے جاری ہے، ہمیں پاکستانی ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے، امریکا سے جنگ میں ایران کو پہنچے نقصانات کے ازالے پر بھی بات ہوئی، جنگے کے خاتمے پر بات ہوئی سات ہی ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی مذاکرات ہوئے۔ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول میں دلچسپی نہیں رکھتا،ایران اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے ، ایران کو خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں۔ایک اور صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا سے اب جو مذاکرات ہوں گے وہ جنگ بندی کے لیے ہوں گے۔اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ہمارا موقف واضح ہے ، ایران کا محاصرہ نہیں کیا جاسکتا، امریکا کا یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، خامنہ ای کا قتل امریکا کے ریکارڈ پر ایک بدنما داغ ہے۔
یران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ لبنان سمیت جاری جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔
انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان میں جامع جنگ بندی کی کامیابی بنیادی طور پر حزب اللہ کی مستقل جدوجہد پر منحصر ہے جو ایران کی حمایت یافتہ ایک اہم تنظیم ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اور اس کے زیرِ اثر محورِ مزاحمت جس میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں ہر حال میں متحد اور ایک ہی روح کے حامل ہیں چاہے میدان جنگ ہو یا معاہدہ امن۔
انہوں نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فرسٹ کی پالیسی سے پیچھے ہٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں حقیقی اور مستحکم امن ممکن ہو سکے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ہوئے تو اسلام آباد میں ہی ہوں گے کیوں کہ پاکستان اس معاملے میں واحد ثالث ہے۔
ان خیالات کا اظہار وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اب سے کُچھ دیر قبل ایک پُرہجوم میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔
جب ان سے ایران سے جنگ بندی کے بارے میں سوال کیا گیا تو ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ رپورٹس درست نہیں ہیں کہ امریکا نے اس میں باضابطہ توسیع کی درخواست کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ البتہ یہ درست ہے کہ ہم ان مذاکرات میں بدستور اور بھرپور طریقے سے مشغول ہیں۔ اب تک کی بات چیت تعمیری اور حوصلہ افزا ہے۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری نے ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے مقام سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں ایک نہایت بہترین ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اور اس وقت بھی پاکستان ہی ایران کے ساتھ امریکا کے مذاکراتی عمل میں واحد ثالث ہے باوجود اس کہ دنیا کے کئی ممالک نے بھی ثالث بننے کی پیشکش کی ہے لیکن صدر سمجھتے ہیں کہ اس رابطے کو آسان رکھنے کے لیے پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھنا اہم ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے مطالبات پورے کرنا ایران کے بہترین مفاد میں ہے اور یہ مطالبات امریکی صدر بالکل واضح انداز میں بتا چکے ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے فریقین کے درمیان دوبدومذاکرات سے متعلق سوال پر کہا کہ ان امور پر بات ہو رہی ہے لیکن جب تک باضابطہ اعلان نہ ہو کچھ بھی حتمی نہیں ہوگا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پوپ لیو کو ہدفِ تنقید بنا ڈالا اور اطالوی وزیراعظم کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ پوپ لیو کو ایران کے ایٹمی خطرے کا کوئی علم نہیں، پوپ کو جنگوں پر بات نہیں کرنی چاہیے، پوپ کو پتا ہی نہیں ہے کہ دنیا میں ہو کیا رہا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی صدر نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی پر بھی تنقید کی۔
ٹرمپ نے کہا میرے تبصرے نہیں ، جارجیا میلونی خود ناقابلِ قبول ہیں کیوں کہ میلونی کو فکر نہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں یا نہ ہوں، میلونی کو یہ بھِی فکر نہیں کہ ایران کو اگر موقع ملے تو وہ دو منٹ میں اٹلی کو تباہ کردے گا واضح رہے کہ ٹرمپ ماضی میں اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی تعریف کرتے رہے ہیں ۔
کویت میں ایک امریکی لڑاکا طیارے کے تباہ ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے صحافی کو حراست میں لے لیا گیا ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کویتی صحافی احمد شہاب کو حکام نے گرفتار کیا، جنہوں نے تقریباً 6 ہفتے قبل کویت سٹی میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق یہ ویڈیو ایک ایسے امریکی لڑاکا طیارے سے متعلق تھی جو مبینہ طور پر تباہ ہوا تھا۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد حکام نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں، جس کے نتیجے میں صحافی کو حراست میں لیا گیا۔ دوسری جانب صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سی پی جے نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق احمد شہاب پر جھوٹی خبر پھیلانے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافتی حقوق کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا پر معلومات کی تیز رفتار ترسیل ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان کئی دہائیوں پر محیط ہے، جسے مختصر وقت میں ختم کرنا ممکن نہیں۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات ایک طویل عرصے بعد بحال ہوئے ہیں تاہم تقریباً نصف صدی پر محیط بداعتمادی ایک ہی رات میں ختم نہیں کی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی محدود یا عارضی معاہدے کے بجائے ایک جامع اور دیرپا ڈیل کے خواہاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب تک حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت کے دوران پیشرفت ضرور ہوئی مگر ابھی مکمل معاہدہ طے ہونا باقی ہے۔
ان کے مطابق مجوزہ ڈیل کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور خطے میں کسی بھی قسم کی ریاستی سطح کی مداخلت یا دہشتگردی میں ملوث نہ ہو۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر ایک مضبوط اور قابلِ عمل معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کو عالمی معیشت کا حصہ بننے کا موقع ملے گا جس کے بعد امریکا بھی ایران کے ساتھ ایک معمول کے ملک جیسا اقتصادی رویہ اختیار کرے گا۔
آخر میں نائب امریکی صدر نے کہا کہ موجودہ مذاکراتی صورتحال پر وہ محتاط طور پر پُرامید ہیں اور اس وقت جنگ بندی برقرار ہے، جو آگے بڑھنے کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی سرگرمیوں کے نتیجے کے طور پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے متعلق مثبت توقعات سامنے آ رہی ہیں۔اس حوالے سے ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ پیش رفت ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر یہ ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ پیش رفت کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہو سکتی ہے۔ٹی وی پروگرام میں سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں پُرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ سے مثبت نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ مذاکرات بھی پاکستان ہی میں ہونے کو ترجیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا ہے۔دوسری جانب ایک امریکی اخبار سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے ۔ مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے۔










