عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران کمی دیکھنے میں آئی جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی امید ہے جس سے رسد کے خدشات میں کمی آئی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.86 ڈالر (1.87 فیصد) کمی کے بعد یہ 97.50 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 2.25 ڈالر (2.27 فیصد) کمی کے ساتھ 96.83 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سیشن میں دونوں بینچ مارکس میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جہاں برینٹ 4 فیصد سے زائد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 3 فیصد بڑھ گیا تھا اس اضافے کی وجہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو وسعت دے کر خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلایا گیا ہے جبکہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پابندی کے نفاذ کے بعد دو جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق اگرچہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت ناکام رہی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ معاہدے کے اشاروں نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کر دیا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کسی حد تک کم ہوئی ہے۔

اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جلد اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود رواں ہفتے امن مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں۔پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی رائٹرز سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔اس سے قبل بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، جہاں دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں غیر معمولی قیادت اور مدبرانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے سنجیدہ مذاکرات نہیں ہو رہے تھے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری بھی اس عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کے ساتھ برادرانہ اور خصوصی تعلقات کے ایک اہم اظہار کے طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی خطیر مالی معاونت بطور ڈپازٹ دینے کا پیغام دیا ہے جو سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے مسلسل عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق ولی عہد نے چند روز قبل سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ کو خصوصی طور پر مختصر دورے پر پاکستان بھیجا تاکہ وہ پاکستانی قیادت کو ولی عہد شہزادہ کی جانب سے یقین دہانی کرا سکیں کہ ایک خلیجی ملک کی جانب سے تقریباً 3 ارب ڈالر کی واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زرمبادلہ کے ممکنہ خلا پر پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ اس دورے کا واحد مقصد پاکستان کی قیادت کو مضبوط یقین دہانی کرانا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں پیدا ہونے والے خلا کو پورا کرنے کیلئے آگے بڑھے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک دوست خلیجی ملک پاکستان کے ذخائر سے 3؍ ارب ڈالر سے زائد کی اپنی رقم واپس لے رہا ہے، اس کے جواب میں سعودی عرب نے مساوی مالیت اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بطور ڈپازٹ رکھنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ ملک کے ذخائر کی سطح مستحکم رہے۔
حکام نے اس اقدام کو سعودی قیادت کی جانب سے ایک ’’غیر معمولی اقدام‘‘ قرار دیا جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک اعتماد اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پہلے ہی سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی قیادت، خواہ سول ہو یا عسکری، سعودی ولی عہد شہزادے کی جانب سے اس خصوصی اور ذاتی اقدام پر بے حد مشکور ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے تھے، لیکن ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ پس پردہ دونوں فریقین کے درمیان سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور دونوں فریق معاہدے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق عہدیدار کا یہ بیان غیر معمولی ہے کیونکہ موجودہ منظرنامے میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بیٹھک کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے دونوں ممالک کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامند کیا اور بطور ثالثی اسلام آباد میں امریکا اور ایران کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔
اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات میں امریکی وفود کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے علاوہ نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔
جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام مذاکراتی وفد کا حصہ تھے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ مذاکراتی بیٹھک پاکستانی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی جو طویل 24 گھنٹے جاری رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ فریقین کے درمیان کئی ادوار پر مشتمل سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا، جسے پوری دنیا میں قدر کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی اور امریکی وفود نے پاکستان کی جنگ بندی کی کوششوں اور امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مزاحمتی قوتیں پورے خطے میں فعال اور منظم ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے علاقوں میں مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بار بھی دشمن کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور خطے میں موجود مزاحمتی قوتیں ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔
دوسری جانب حالیہ پیش رفت میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا یا قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پیش نظر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ ترکیہ جائیں گے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ دورے کےدوران وزیراعظم شہبازشریف سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے،جس میں اہم علاقائی اورعالمی امورپرتبادلہ خیال کیاجائےگا،ملاقات میں امریکا اورایران کے درمیان مذاکرات کےآئندہ لائحہ عمل پرتبادلہ خیال متوقع ہے،اس کےعلاوہ کشیدگی میں کمی اور مستقل جنگ بندی کے امکانات پر بھی گفتگو کا امکان ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اورقیام امن کےامورپربھی بات چیت کا امکان ہے،پاک سعودی تعلقات کومزید مضبوط بنانےکےاقدامات پربھی گفتگوہوگی،خطےمیں امن واستحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان اعلیٰ سطح کےرابطےاورمشاورت جاری ہے،ایک ماہ سےبھی کم عرصے میں وزیراعظم کادوسرادورہ ہوگا،وزیراعظم کےدورے کی تفصیلات حکومت نےابھی تک جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب پاکستان نے ایران اور امریکا کےدرمیان جنگ بندی کی توسیع کے لیے کوششیں شروع کر دیں،وزیراعظم شہبازشریف نے قریبی رفقاء سے مشاورتی اجلاس طلب کرلیا۔
ذرائع کےمطابق اجلاس میں وفاقی کابینہ کےسینئر اراکین،اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے،ایران امریکا مذاکرات کےبعد کی صورتحال کاجائزہ لیاجائےگا،وزیراعظم مذاکرات کےحوالےسےقیادت کےکردارپراظہار خیال کریں گے،جنگ بندی پرعملدرآمد اور توسیع کے حوالے سے کاوشوں پرغور ہوگا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کےمطابق 24 کیرٹ فی تولہ سونا 1600 روپے سستا ہو کر495362 روپےکا ہوگیا۔
دس گرام سونےکی قیمت 1371 روپے کم ہوکر 424693 روپے ہوگئی،130 روپے کی کمی سےفی تولہ چاندی7934 روپے پر آ گئی،عالمی مارکیٹ میں 16 ڈالرکی کمی سے فی اونس سونا 4730 ڈالر پرآ گیا۔

کمپالا: افریقی ملک یوگنڈا کے آرمی چیف مہوزی کائنروگابا نے ترکی سے ایک ارب ڈالر اور شادی کے لیے ’خوبصورت ترین خاتون‘ کے رشتے کا متنازع مطالبہ کر کے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر کے صاحبزادے جنرل مہوزی کائنروگابا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ یوگنڈا نے علاقائی سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اسے اس کا مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں سے ترکیہ کو بھاری مالی فائدہ ہو رہا ہے، جبکہ ان منصوبوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری گزشتہ کئی سالوں سے یوگنڈا نبھا رہا ہے۔جنرل مہوزی نے مطالبہ کیا کہ یوگنڈا کو ’سیکیورٹی ڈیویڈنڈ‘ کے طور پر ایک ارب ڈالر ادا کیے جائیں۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو یوگنڈا ترکیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر سکتا ہے اور دارالحکومت کمپالا میں موجود ترک سفارتخانہ 30 دن کے اندر بند کر دیا جائے گا۔اپنے ایک اور بیان میں انہوں نے یوگنڈا کے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ترکیہ کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ماہرین کے مطابق یہ بیانات نہ صرف سفارتی آداب کے خلاف ہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یوگنڈا گزشتہ دو دہائیوں سے افریقی یونین کے مشن کے تحت صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔جنرل مہوزی کائنروگابا اپنے بے باک اور اکثر متنازع بیانات کے باعث سوشل میڈیا پر خاصی شہرت رکھتے ہیں، تاہم ان کے حالیہ مطالبات نے ایک نئی سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے

پاکستان اور جاپان کے وزرائے اعظم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف سے جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکائیچی نے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور حالیہ سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پرائم منسٹر آفس کے مطابق گفتگو کے دوران اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے جنگ بندی کے قیام اور مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں امن، استحکام اور عالمی توانائی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے امن کے عمل کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جاپانی ہم منصب کی نیک خواہشات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے تفصیلی مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے پاکستان اور جاپان کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے جاپانی وزیرِ اعظم نے بھی سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر پوپ لیو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا میں کسی بحث میں نہیں پڑوں گا، امن کے پیغام کو بیان کرنے سے جھکوں گا نہیں۔
پوپ لیو نے ردعمل دیتے ہوئے کہامیری باتیں ہرگز کسی پر حملہ کرنے کے لیے نہیں ہوتیں،مبارک ہیں وہ لوگ جو صلح کراتے ہیں،لوگ امن اور مفاہمت کے پل بنانے کے طریقے تلاش کریں،جہاں تک ممکن ہو جنگ سے بچنے کی راہیں اختیار کریں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نےجنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو کو جرائم پسند قرار دے دیا تھا۔