ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی سرگرمیوں کے نتیجے کے طور پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے متعلق مثبت توقعات سامنے آ رہی ہیں۔اس حوالے سے ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ پیش رفت ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر یہ ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ پیش رفت کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہو سکتی ہے۔ٹی وی پروگرام میں سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں پُرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ سے مثبت نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ مذاکرات بھی پاکستان ہی میں ہونے کو ترجیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا ہے۔دوسری جانب ایک امریکی اخبار سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے ۔ مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ جلد ختم ہونے کے قریب ہے اور حالات تیزی سے کسی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “میرا خیال ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بہت قریب ہے، میں اسے تقریباً ختم سمجھتا ہوں۔” ان کے اس بیان کا ایک کلپ امریکی میڈیا پر نشر کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی، تاہم ان کے بقول ایران معاہدہ کرنے میں شدید دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے کہ وہ بہت بری طرح معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔”
اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف جنگ نہ کرتا تو ایران اب تک جوہری ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے، تاہم سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کی امید کی جا رہی ہے۔
امریکا کی ثالث میں ہونے والے لبنان اور اسرائیل کے جنگ بندی مذاکرات ختم ہوگئے جس کے بارے میں اسرائیلی سفیر نے بڑا دعویٰ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مذاکرات کے اختتام کے بعد اسرائیل کے امریکا میں سفیر یخئیل لیٹر نے صحافیوں کو تفصیلات بتائیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ تینوں ممالک (امریکا، لبنان اور اسرائیل) کے درمیان اتفاق ہو گیا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کردیا جائے گا۔
اسرائیلی سفیر نے مزید کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان کو اُس طاقت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے جس پر ایران حاوی ہے اور جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ متعدد امور پر بات چیت ہوئی جس میں سب سے اہم طویل المدتی وژن تھا کہ ہمارے درمیان ایک واضح حدِ سرحد موجود ہوگی۔
اسرائیلی سفیر نے بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب دراصل ایک ہی طرف کھڑے ہیں اور یہی سب سے مثبت ترین نتیجہ ہے جو ہم اس ملاقات سے اخذ کر سکتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ حزب اللہ اتنی کمزور کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے حزب اللہ کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ لبنانی حکومت امن کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔
اسرائیلی سفیر نے بتایا کہ فریقین کے درمیان بات چیت تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی اور امکان ہے کہ جلد ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔
تاہم امریکا یا لبنان نے تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا اور نہ ہی کوئی مشترکہ بیان تاحال جاری نہیں ہوا ہے۔
: ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سینٹ کام نے کہا تھا کہ ہرمز کی بندش کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ کوئی بھی ایرانی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکا۔
سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ایئر مین تعینات کیے گئے ہیں، جو اس اہم بحری گزرگاہ پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی خاص طور پر ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والے جہازوں پر لاگو ہے۔
امریکی فوجی حکام نے مزید بتایا کہ ایران کے علاوہ خلیج کی دیگر تمام بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں، تاہم ایران سے متعلق نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق متضاد دعوؤں نے اس صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، اور یہ عالمی تجارتی راستوں، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بھی امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق اگر جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کے ساتھ ایک اور ملاقات طے پاتی ہے تو اس میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے۔ اس پیش رفت کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس وفد میں سابق صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہوں گے، جو مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ آئندہ دو روز میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم اور پیچیدہ معاملہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام سے متعلق ہے، جس میں افزودگی کو معطل کرنے کے دورانیے پر اختلافات برقرار ہیں۔
امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر ختم کرے، جبکہ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مذاکرات نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے بلکہ عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو بھی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ ان کی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ برس جب پاکسدتان اور بھارت جنگ کی لپیٹ میں تھے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ قائم ہوا تھا۔ وہ لاجواب انسان ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان کا کردار اہم رہا ہے۔ اس لیے مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے کیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہترین کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ ایک دو روز میں ہوسکتا ہے۔ آئندہ آنے والے دو دن بہت اہم ہیں اور ان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہفتے کو پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقد ہوئے تھے جہاں فریقین کے وفد نے دوبدو بات چیت کی تھی اور مسودے شیئر کیے گئے تھے۔
بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گاؤ جیاکون نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائے گا اور جنگ بندی کے معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سفارتی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اور امن کے امکانات کو متاثر کرتے ہیں۔یہ ناکہ بندی اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے ایک روز بعد نافذ کی گئی۔چینی ترجمان نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ چین ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی رپورٹس بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا تھا کہ اگر بیجنگ نے تہران کو فوجی معاونت فراہم کی تو چینی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے اس بنیاد پر چین پر اضافی محصولات عائد کیے تو چین بھی سخت جوابی اقدامات کرے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، چین اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت اور خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
واشنگٹن: امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور ناکام مذاکرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایک ’انتہائی کمزور پوزیشن‘ میں آ چکا ہے اور اپنی سفارتی برتری کھو چکا ہے۔ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کو ایران پر دباؤ ڈالنے والی طاقت ہونا چاہیے تھا، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہو چکی ہے اور واشنگٹن اپنی سفارتی برتری اور لیوریج کھو بیٹھا ہے۔انہوں نے صدر ٹرمپ کی ٹیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں ان کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف کی شمولیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ہیلری کلنٹن کے مطابق موجودہ سفارتی حکمت عملی نے امریکا کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث نہ صرف مذاکرات متاثر ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکا کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کی نظریں بھی اس تنازع کے مستقبل پر مرکوز ہیں۔
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے تاہم اب آئندہ لائحہ عمل کا دارومدار تہران کے فیصلوں پر ہے۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تعمیری ماحول میں ہوئی اور کئی اہم معاملات پر پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ان کے مطابق یہ ملاقات اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی تھی کیونکہ اس سطح پر رابطے ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں حتیٰ کہ ایران کی موجودہ قیادت کے دور میں بھی ایسی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے لیے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور واشنگٹن کی تمام پالیسی اسی بنیادی اصول کے گرد گھومتی ہے۔ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے حوالے سے جے ڈی وینس نے کہا کہ اب فیصلہ تہران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اعتماد سازی کے لیے کس حد تک آگے بڑھتا ہے۔انہوں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت حساس گزرگاہ ہے اور امریکا کو توقع ہے کہ ایران اس کی بحالی اور کھلے رکھنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے گا۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے، تاہم سفارتی عمل تاحال جاری ہے۔










