برطانوی حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں واضح کیا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا حامی ہے اور اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے کی حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے بلکہ برطانیہ کے اندر مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کا ٹول یا فیس عائد نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
برطانیہ اس حوالے سے فرانس اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ایک وسیع اتحاد تشکیل دینے پر کام کر رہا ہے تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایسے بحری جہازوں کو بھی روکا جائے گا جو ایران کو ٹول ادا کر کے اس راستے سے گزرنے کی کوشش کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا یہ مؤقف مغربی اتحادیوں کے درمیان پالیسی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اس معاملے کے عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں کسی معاہدے تک نہ پہنچنا بتایا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں فوری تیزی دیکھی گئی۔
بین الاقوامی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ ہونے لگا۔
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تعطل نے سپلائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث خریداری کا رجحان تیز ہوا اور قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل اس رجحان سے مختلف رہا اور اس کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 98 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی توانائی مارکیٹ میں یہ اتار چڑھاؤ آنے والے دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے، خاص طور پر جب تک جغرافیائی سیاسی صورتحال واضح نہیں ہو جاتی

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں پوپ لیو کا بڑا مداح نہیں ہوں، جرم کے معاملے میں پوپ لیو کمزور ہیں اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں وہ خوفناک ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ لیو چہاردہم پر سخت تنقید کی ہے، یہ تنقید رومن کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی سربراہ کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی صدر کی دھمکی کی مذمت کرنے پر کی گئی۔
ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں، امریکی صدر نے لکھا کہ پوپ خارجہ پالیسی کے لیے ’انتہائی خراب‘ ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، ’میں ایسا پوپ نہیں چاہتا جو یہ سمجھے کہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے۔‘
پوپ کے بارے میں دیگر شکایات گنواتے ہوئے، ٹرمپ نے لکھا کہ پوپ لیو ’جرائم کے معاملے میں کمزور، جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں کمزور‘ ہیں۔
گزشتہ ہفتے، پوپ لیو نے ٹرمپ کی اس دھمکی پر تنقید کی تھی کہ اگر ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات مر جائے گی‘۔
اسے ’واقعی ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے، انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’یقیناً بین الاقوامی قانون کے سوالات موجود ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اخلاقی سوال ہے۔‘

ایران نے امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کرنے کے اپنے ارادے کے اعلان پر متعدد ردعمل جاری کیے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور ایران پاکستان میں امن مذاکرات کے دوران ایک معاہدے تک پہنچنے کے ’بہت قریب‘ تھے، لیکن تہران نے ’زیادہ مطالبات، بدلتے ہوئے حالات اور ناکہ بندی‘ کے بارے میں بیان کیے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے ’کسی بھی جہاز‘ پر ناکہ بندی عائد کرنے کی دھمکی کے جواب میں، ایرانی بحریہ نے کہا کہ آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز سے ’انتہائی سختی‘ سے نمٹا جائے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پیر سے شروع ہو گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعلان کے مطابق 13 اپریل کو صبح 10 بجے(ایسٹرن ٹائم) ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کی جائے گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ اس میں خلیج اور بحیرہ عمان میں واقع تمام ایرانی بندرگاہیں شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سینٹ کام آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو غیر ایرانی بندرگاہوں کی جانب یا وہاں سے آ رہے ہوں۔‘
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے آغاز سے قبل تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس کے ذریعے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی کے عمل کا آغاز کرے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ’امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر کے ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔‘
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی صدر کا یہ بیان ایرانی میڈیا کی جانب سے صدر پزشکیان اور روسی صدر پوتن کے درمیان ہونے والی گفتگو کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایرانی میڈیا میں صدر پزشکیان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ’دسترس سے باہر نہیں۔‘
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ’ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔‘
انھوں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ ’میری پیش گوئی ہے کہ وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔

ہیٹی کے ایک سیاحتی مقام پر بھگدڑ کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ہیٹی کے ایک تاریخ قلعے میں پیش آیا جہاں سیاحوں کا بہت بڑا ہجوم جمع تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھگدڑ اچانک مچی جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بھگدڑ مچنے کی ممکنہ وجوہات کے حوالے سے ابھی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ مقامی حکام اور ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو فوری اسپتال منتقل کردیا ہے جبکہ علاقے کو خالی کروا کر صورتحال پر قابو پایا گیا ہے
واضح رہے کہ کسی بھی مقام پر بھگدڑ مچنے کی عام وجوہات میں ہجوم کا بے قابو ہونا، سکیورٹی یا انتظامی ناکامی، کسی افواہ یا خطرے کی اطلاع وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا اس ہفتے میں نے ان کی مستقل رہائش کی حیثیت ختم کر دی،وہ آئی سی ای کی تحویل میں ہیں اور انہیں ملک بدر کیا جائے گا۔
مارکو روبیو اوباما انتظامیہ نےسید عیسیٰ ہاشمی کے خاندان کو امریکی ویزا جاری کیا،معصومہ ابتکارایران کی سابق نائب صدررہ چکی ہیں۔
معصومہ ابتکار ایران کی ایک معروف سیاستدان، ماہرِ ماحولیات اور سابق نائب صدر ہیں۔
وہ خاص طور پر 1979 کے بعد کے ایران میں اہم حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ معصومہ ابتکار کو ایران کی پہلی خواتین میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جنہوں نے اعلیٰ سطحی حکومتی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم سعودی عرب میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی آرامکو نے سنیچر کو اپریل کے لیے پٹرول آکٹین 98 کی قیمت کو ایڈجسٹ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پٹرول آکٹین 98 کی فی لیٹر قیمت میں ایک ریال کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد اب یہ 3.94 ریال فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
پٹرول آکٹین 98 اس سے قبل 2.94 ریال فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا تھا جبکہ سال کے آغاز میں لانچ کیے جانے کے بعد قیمت 2.88 ریال فی لٹر تھی۔
دوسری جانب آرامکو نے اپریل کے لیے پٹرول 95 کی سابقہ قیمت 2.33 ریال فی لیٹر اور پٹرول 91 کی 2.18 ریال فی لیٹر برقرار رکھی ہے۔
اس کے علاوہ مملکت میں ڈیزل 1.79 ریال فی لٹر اور کیروسین آئل 1.59 ریال فی لٹر کی سابقہ قیمت پر دستیاب رہے گا۔
واضح رہے کہ پٹرول 98، اسپورٹس اور ہائی پرفارمنس گاڑیوں کے لیے ہے۔ ان گاڑیوں کی تعداد مملکت میں پانچ فیصد سے زیادہ نہیں جبکہ دیگر گاڑیوں میں اس پٹرول کے استعمال کا کوئی اضافی فائدہ نہیں ہے

آسٹریلیا نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات کا بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونا مایوس کن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور فوری طور پر بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔ پینی وونگ نے مزید کہا کہ آسٹریلیا اس تنازع کا جلد اور پُرامن حل چاہتا ہے تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے انسانی اور معاشی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں اور عالمی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔