امریکی عہدے دار نے ایران کی جانب سے ایرانی اثاثے بحال کرنے کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے نے ایک اعلی ایرانی ذریعے کے حوالے سے دعوی کیا تھا کہ مذاکرات سے قبل امریکہ ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضا مند ہو گیا ہے۔
ایرانی ذریعے نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہوئے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اثاثے غیر منجمد کرنے کا تعلق آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت سے ہے جو ممکنہ طور پر ان مذاکرات کا سب سے بنیادی نقطہ ہے۔
ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے مطالبہ کیا تھا کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی ضروری ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان آمد سے قبل ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے مطالبہ کیا تھا کہ مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور امریکہ میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کی شرائط پوری ہونا لازمی ہے۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ وہ ایران امریکی مذاکرات میں ایرانی اسپیکر باقر غالب کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم جنگ کے دوران فوج کے ساتھ کھڑے تھے، آج ہم مذاکراتی ٹیم کے پیچھے کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم کو مکمل اختیار کے ساتھ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ جنگ میں شامل ایرانی جنگجوؤں کی طرح ہم مذاکرات میں شامل مذاکرات کاروں کےحامی ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ اگر ہم اسلام آباد میں امریکا فرسٹ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کریں تو دونوں فریقوں اور دنیا کے لیے فائدہ مند معاہدہ ممکن ہے۔ اگر ہمارا سامنا اسرائیل فرسٹ کے نمائندوں سے ہوا تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ہم لازماً پہلے سے بھی زیادہ بھرپور طریقے سے اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔

میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف اسلام آباد مذاکرات کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ ایران سے مذاکرات کا پتہ 24 گھنٹوں میں چل جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز بہت جلد مکمل کھل جائے گا،ہم چاہتے ہیں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہو ، ایران میں پہلے ہی رجیم چینج ہوچکی ہے لیکن یہ ہمارا مقصد ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں آج کے مذاکرات میں کیا ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک ہی نشست میں مکمل ہو جائیں گے یا آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی متبادل منصوبے کی ضرورت ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں۔‘
ایک اور صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کیسا ہوگا۔
اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایران میں ’حکومت کی تبدیلی پہلے ہی ہو چکی ہے۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھول دی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسے کافی جلد کھول دیں گے۔‘
جب ان سے ان اطلاعات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر سکتا ہے تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘

اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ، مذاکرات کے دوران اور ہماری نیک نیتی کے باوجود، ہم پر حملے کیے گئے اور بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔‘
اسلام آباد آمد کے موقع پر ایران سے وفد کے ساتھ آنے والے ایرانی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ’ہماری نیت نیک ہے، لیکن ہمیں امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قالیباف کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ حقیقی معاہدے کے لیے تیار ہے اور ایرانی قوم کے جائز حقوق تسلیم کرتا ہے تو ایران بھی معاہدے کے لیے مکمل آمادگی کا مظاہرہ کرے گا۔‘
تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر واشنگٹن مذاکرات کو محض نمائشی عمل یا دھوکا دہی کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تو تہران اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ سپیکر نے حالیہ جارحیت کے دوران ملک کی کامیاب اور فیصلہ کن دفاعی و جوابی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور پُرعزم ہے

ایرانی حکومت کے مطابق پاکستان پہنچنے والے ایرانی مذاکراتی وفد کے طیارے کا نام حالیہ جنگ کے دوران میناب سکول سے منسوب کیا گیا ہے۔
’میناب 168‘ سے مراد بچوں سمیت وہ 168 ایرانی شہری ہیں جو ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو ایک میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں ایران کے شہر میناب میں واقع بچوں کا سکول ’شجرۂ طیبہ‘ تباہ ہوا تھا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ غیر ارادی طور پر امریکی افواج کی جانب سے ہوا تھا۔ اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کہہ چکے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں لینڈنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں طیارے کی نشستوں پر چار بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ہر تصویر سکول بیگ اور پھولوں کے اوپر رکھی گئی ہے۔
قالیباف نے اپنی پوسٹ میں ان تصاویر کے ساتھ لکھا کہ ’اس پرواز میں میرے ساتھی۔‘

امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا کوئی معجزہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل اور مسلسل سفارتی عمل کا نتیجہ ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے پیچھے ثابت قدمی، صبر اور تمام فریقین کی مسلسل کوششیں شامل ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی سفارتی سرگرمیوں میں یہی عناصر کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔
رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو تمام متعلقہ فریقین نے مثبت انداز میں لیا اور ایک تعمیری جذبے کے تحت جنگ بندی اور مذاکرات کے انعقاد کی راہ ہموار کی گئی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض مذاکرات کا آغاز ہی ایک بڑی کامیابی ہے اور پاکستان اس بات کے لیے تیار ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے جو بھی کردار ادا کرنا پڑے، وہ طویل عرصے تک نبھایا جائے گا۔

ایران سے جامع جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
جے ڈی وینس کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی اسلام آباد پہنچے ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر کا استقبال کیا۔
امریکی نائب صدر کے طیارے نے مشرق وسطیٰ ممالک کی فضا کو نظر انداز کرکے طویل راستہ اختیار کیا اور میری لینڈ سے روانگی کے بعد طیارے نے پیرس میں ڈھائی گھنٹے اسٹاپ اوور کیا۔
امریکی نائب صدر کے طیارے نے طویل افغان کی فضائی حدود استعمال نہیں کی، ان کا خصوصی طیارہ جارجیا، آذربائیجان، ترکمنستان اور تاجکستان کے راستے پاکستان پہنچے ہیں

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا، وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کیا جبکہ اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات میں شریک تمام فریقین مثبت اور تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے، انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان تنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے فریقین کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وفد کا طیارہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا جہاں وہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حصہ لے گا۔
ایرانی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وفد میں ایران کے وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکریٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے متعدد ارکان شامل ہیں۔

ایرانی وفد میں شامل جن شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ان میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور ڈیفنس کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر شامل ہیں۔
تاحال ایران کی حکومت کی جانب سے اس خبر کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی میزبان ملک پاکستان نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کی قیادت پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکی وفد کے سربراہ نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی پاکستان کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔
یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل ہی باقر قالیباف نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ جنگ بندی سے قبل دو شرائط پورا ہونی تھیں جو تاحال نہیں ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ جن دو شرائط پر اتفاق ہوا تھا ان میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں فوری جنگ بندی شامل ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان دو شرائط پر جنگ بندی سے قبل عمل درآمد ہونا تھا لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب کچھ دیر قبل فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 نے دعویٰ کیا تھا ایران کے دو سرکاری طیارے ایران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب گامزن ہیں۔

بیروت: لبنان کے دارالحکومت میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد اسپتال زخمیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طبی سہولیات اور ضروری سامان تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات کو چند منٹوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سینکڑوں زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بیروت اسپتال میں ایک گھنٹے کے اندر 70 سے زائد زخمی لائے گئے، جن میں سے کئی جانبر نہ ہو سکے۔لبنانی وزارت صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 300 سے زائد افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات عمارتیں گرنے اور دھماکوں کے باعث ہونے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہوئیں۔طبی عملے کے مطابق اسپتالوں میں آنے والے شدید زخمیوں میں کمسن بچے بھی شامل ہیں، جن میں چند ماہ کے شیر خوار بچے بھی انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہیں۔امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کو تلاش کرتے ہوئے اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید دلخراش ہو گئی ہے۔لبنانی ریڈ کراس کے حکام نے اس صورتحال کو “خواب ناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے تھے، اور اب یہ حملے نظامِ صحت پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ کئی اسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ چند دنوں میں اہم طبی کٹس ختم ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق لبنان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے، اور جنگی حالات کے باعث درآمدات و برآمدات متاثر ہونے سے ادویات کی فراہمی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ بجلی کی کمی کے باعث اسپتال جنریٹرز پر چل رہے ہیں، جس سے اخراجات اور مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب شہریوں نے مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خون کے عطیات دینا شروع کر دیے ہیں، تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بحران کا اصل حل جنگ کا خاتمہ ہے۔

تل ابیب: اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طبی گاڑیوں اور سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی ایسی سرگرمی کے خلاف کارروائی کرے گا جو اس کے بقول عسکری نوعیت کی ہو، چاہے وہ ایمبولینسوں یا طبی مراکز کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث اس بیان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں طبی سہولیات اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ لبنان میں پہلے ہی جاری حملوں کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔طبی اداروں کا کہنا ہے کہ ایمبولینسیں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اور ان پر حملے انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔