تہران کا مؤقف سخت، مذاکرات جاری مگر ریڈ لائنز کی پاسداری لازمی

ایرانی پارلیمان میں نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز بتا دی ہیں، لیکن مذاکرات جاری رکھے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سےگفتگو میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کسی بھی قیمت پر بات چیت کرے، ایران نے حدود واضح کردی ہیں، ان کا احترام لازمی ہے، اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا دارومدار امریکی مذاکراتی ٹیم اور مثبت پیغامات پر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لبنان جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط میں سے ہیں، امریکا اور اسرائیل ان شرائط کا احترام نہ کریں تو اس کے نتائج ہونگے، سابقہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو سمجھیں گے ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ ایک اور بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے تمام اقدامات قومی مفاد اور سلامتی کے اصولوں کے تحت ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ایران قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے‘ اور ملک کے مفادات و سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *