World

بھارتی عدالت نے مدھیہ پردیش کی تاریخی مسجدکو مندر قرار دیدیا

بھارتی عدالت نے مدھیہ پردیش میں تاریخی کمال مولامسجد کو مندر قرار دے دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے تاریخی کمال مولا مسجد کو ہندو دیوی ’واگ دیوی‘ کا مندر قرار دیتے ہوئے ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی جبکہ مسلم فریق کی درخواست مسترد کر دی۔ رپورٹ کے مطابق دھار شہر میں واقع یہ تاریخی مقام جسے بھوج شالا کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے تنازع کا شکار ہے۔مسلم برادری یہاں جمعے کی نماز ادا کرتی رہی ہے جبکہ 2003 کے معاہدے کے تحت ہندوؤں کو یہاں منگل کے روز عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں آثار قدیمہ سروے آف انڈیا کی رپورٹ پر انحصار کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد سے پہلے یہاں ہندو مندر موجود تھا۔عدالت نے مسلم فریق کو متبادل زمین لینے کا حکم دیا تاکہ تاریخی مسجد کی جگہ نئی مسجد تعمیر کی جا سکے۔عرب میڈیا کے مطابق فیصلے کے بعد اتوار کو بھوج شالا کمپلیکس میں زعفرانی جھنڈے لہرائے گئے اور ہندو تنظیموں نے دیوی کی عارضی مورتی نصب کر کے مذہبی رسومات ادا کیں، اس دوران علاقے میں سخت سکیورٹی تعینات رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلم فریق کے وکلاء نے فیصلے کو ’قانون اور تاریخ کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے کہا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 1935کے برطانوی دور کے سرکاری نوٹس میں واضح درج تھا کہ یہ مسجد ہے، آئندہ بھی مسجد رہےگی، تاہم مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے اس نوٹیفکیشن کو موجودہ قوانین سے پہلے کا قرار دے کر قبول نہیں کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *