بنگلادیش میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے مشہور نایاب سنہری بالوں والا بھینسا توجہ کا مرکز بن گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نامی بھینسے کے منفرد رنگ اور سنہری بالوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے اور بھینسے کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔دور دور سے لوگ ڈونلڈ ٹرمپ نامی بھینسے کو دیکھنے اور اس کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے آنے لگے ہیں۔بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق یہ نایاب بھینسا آئندہ چند روز میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربان کیا جائے گا۔

ایک برطانوی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی “تہذیب ختم کرنے” کی دھمکیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ اور ایشیا میں بھی ممکنہ جوہری تصادم کے خدشات بڑھا دیے تھے۔رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی کشیدگی کے عروج کے دوران مغربی سفارتی حلقوں میں یہ خوف موجود تھا کہ اگر تنازع مکمل جنگ میں بدلتا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر پھیل سکتے تھے، جن میں توانائی بحران، فوجی اتحادوں کی مداخلت اور حتیٰ کہ جوہری تصادم کے امکانات بھی شامل تھے۔برطانوی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام، اسرائیل کی سلامتی اور امریکا کی سخت پالیسیوں نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا تھا۔ بعض یورپی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کسی غلط اندازے یا فوجی اشتعال انگیزی سے خطہ ایک بڑے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایشیائی ممالک، خصوصاً جاپان، چین اور جنوبی کوریا آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ سے توانائی سپلائی متاثر ہونے کے باعث شدید تشویش میں مبتلا تھے۔تاہم امریکی حکام نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا تھا، نہ کہ مکمل جنگ یا جوہری تصادم کی طرف جانا۔

اگر آپ کے بسکٹ میں غلطی سے ایک مکھی بھی نکل آئے تو شاید آپ فوراً اسے پھینک دیں، لیکن جاپان میں ایک ایسا انوکھا بسکٹ بھی موجود ہے جسے جان بوجھ کر درجنوں نہیں بلکہ بے شمار کیڑوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے، اور حیران کن طور پر لوگ اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
جاپان کے منفرد اور عجیب و غریب کھانوں میں شامل ’’جیباچی سنبئی‘‘ نامی یہ بسکٹ اپنی غیر معمولی ترکیب کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس بسکٹ کو تیار کرنے کے لیے خشک بھڑوں یعنی واسپس کو آٹے میں ملا کر بیک کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ ایک روایتی جاپانی اسنیک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بسکٹ محض کسی تجرباتی کھانے کا حصہ نہیں بلکہ جاپان کے بعض علاقوں میں اسے مقامی ثقافت اور روایتی خوراک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ان بسکٹس کی تیاری خاص طور پر جاپان کے شہر اومچی میں کی جاتی ہے، جہاں ’’اومچی جیباچی آئیکوکائی‘‘ نامی ایک کلب، جو بھڑوں سے دلچسپی رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے، نے ایک مقامی بیکری کے ساتھ مل کر اسے متعارف کروایا۔
یہ منفرد بسکٹ پہلی بار 2010 کی دہائی کے وسط میں خبروں کی زینت بنا جب سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ بسکٹ کی ظاہری شکل میں واضح طور پر چھوٹے بھڑ نظر آتے ہیں، جو اسے مزید حیران کن بنا دیتے ہیں۔
جیباچی سنبئی اب جاپان کے مقامی بازاروں اور چند خصوصی گورمیٹ اسٹورز میں دستیاب ہے، جبکہ کئی غیر ملکی سیاح بھی صرف اس عجیب اسنیک کو آزمانے کے لیے اومچی کا رخ کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپان میں کیڑوں پر مشتمل خوراک کا رجحان نیا نہیں، کیونکہ بعض علاقوں میں پروٹین کے متبادل ذرائع کے طور پر حشرات کو روایتی غذا کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم ’’جیباچی سنبئی‘‘ اپنی منفرد شکل اور غیر معمولی اجزاء کی وجہ سے اب بھی دنیا کے عجیب ترین بسکٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔

بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے علاقے پلابی میں 8 سالہ بچی کے بہیمانہ قتل کے واقعے نے پورے ملک کو غم و غصے میں مبتلا کردیا۔
پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم سہیل رانا کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات میں بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتولہ رمیزا اختر دوسری جماعت کی طالبہ تھی اور پاپولر ماڈل ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ واقعہ ڈھاکا کے علاقے پلابی سیکشن 11 میں پیش آیا جہاں بچی اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھی۔
رپورٹس کے مطابق بچی صبح ناشتے کے بعد اچانک لاپتہ ہوگئی، والدہ پروین بیگم نے تلاش شروع کی تو پڑوسی کے فلیٹ کے قریب بچی کی سینڈل ملی۔
اہل محلہ نے کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا لیکن جواب نہ ملنے پر دروازہ توڑ دیا گیا، اندر داخل ہونے پر بچی کی لاش بستر کے نیچے سے برآمد ہوئی جبکہ جسم کے اعضا الگ حالت میں ملے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل رانا واردات کے بعد فرار ہوگیا تھا، تاہم اسے بعد میں نارائن گنج کے علاقے فتح اللہ سے گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے ملزم کی اہلیہ کو بھی حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق فرانزک شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد زیادتی اور قتل سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سوشل میڈیا پر بھی عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ کئی شہریوں نے مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی سیاسی مبصر علی گولہا کی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو ایک جامع پیکیج پیش کیا ہے جس میں متعدد اہم تجاویز شامل ہیں۔
ایکس پر بیان میں علی گولہاکی نے لکھا امریکا چاہتا ہے جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور جوہری اقدامات سے متعلق تمام نکات پر ایک ساتھ اتفاق کیا جائے، جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ ان اقدامات پر تیس دن میں عمل درآمد اور تصدیق کے بعد ہی جوہری مذاکرات آگے بڑھائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پیکیج کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد، یعنی تقریباً 25 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ ایران کو 30 روز کیلئے تیل فروخت کرنے میں خصوصی رعایت دینے کی بات بھی شامل ہے۔
ایرانی تجزیہ کار کے مطابق مجوزہ مذاکرات کے مرکزی نکات میں ایران سے 400 کلوگرام یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کرنا، ایران کو 3.67 فیصد تک یورینیم افزودگی کا حق دینا اور تہران ری ایکٹر کے علاوہ دیگر جوہری تنصیبات بند کرنا شامل ہے۔ ان کے بقول تہران ری ایکٹر کو صرف طبی مقاصد کیلئے فعال رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
علی گولہا نے مزید کہا کہ ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مراحل پر پہلے 30 روز تک عملی عملدرآمد اور تصدیق ہونی چاہیے تاکہ ایران کو تیل فروخت کرنے کا موقع مل سکے اور وہ جوہری مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ ہو۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ 3.67 فیصد یورینیم افزودگی کی تجویز سامنے آئی ہے، تاہم امکان ہے کہ امریکا حتمی مرحلے میں اس شرط کو تسلیم نہ کرے۔

کنگ چارلس کی موت کا غلط اعلان کرنے پر برطانیہ کے ایک ریڈیو اسٹیشن نے عوام اور شاہی خاندان سے معذرت کر لی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سابق برطانوی پائریٹ ریڈیو اسٹیشن ریڈیو کیرولائن نے منگل کے روز غلطی سے کنگ چارلس سوم کے انتقال کی خبر نشر کردی، جس کے بعد کچھ دیر کیلئے نشریات بھی بند ہوگئیں۔
ریڈیو اسٹیشن کے منیجر پیٹر مور نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ یہ غلطی اسٹوڈیو کے کمپیوٹر سسٹم میں خرابی کے باعث ہوئی، جس سے بادشاہ کی وفات کے اعلان کا خصوصی پروٹوکول خودکار طور پر فعال ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے تمام ریڈیو اسٹیشنز کے پاس بادشاہ یا ملکہ کے انتقال کی صورت میں ایک خصوصی نشریاتی طریقہ کار موجود ہوتا ہے لیکن اس بار یہ نظام غلطی سے متحرک ہوگیا۔
پیٹر مور کے مطابق سسٹم فعال ہونے کے بعد ریڈیو اسٹیشن خاموش ہوگیا، جس سے عملے کو فوری طور پر صورتحال کا علم ہوا اور پروگرام بحال کرکے آن ائیر معذرت نشر کی گئی۔
ریڈیو اسٹیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم شاہ چارلس اور اپنے سامعین سے اس غلطی اور پریشانی پر معذرت خواہ ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب کنگ چارلس اور ملکہ کومیلا شمالی آئرلینڈ کے دورے پر موجود تھے اور مختلف تقریبات میں شرکت کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ ریڈیو کیرولائن 1964 میں بی بی سی کی اجارہ داری کے خلاف قائم کیا گیا تھا اور یہ کئی برس تک سمندر میں موجود جہازوں سے نشریات نشر کرتا رہا۔

بھارتی عدالت نے مدھیہ پردیش میں تاریخی کمال مولامسجد کو مندر قرار دے دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے تاریخی کمال مولا مسجد کو ہندو دیوی ’واگ دیوی‘ کا مندر قرار دیتے ہوئے ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی جبکہ مسلم فریق کی درخواست مسترد کر دی۔ رپورٹ کے مطابق دھار شہر میں واقع یہ تاریخی مقام جسے بھوج شالا کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے تنازع کا شکار ہے۔مسلم برادری یہاں جمعے کی نماز ادا کرتی رہی ہے جبکہ 2003 کے معاہدے کے تحت ہندوؤں کو یہاں منگل کے روز عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں آثار قدیمہ سروے آف انڈیا کی رپورٹ پر انحصار کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد سے پہلے یہاں ہندو مندر موجود تھا۔عدالت نے مسلم فریق کو متبادل زمین لینے کا حکم دیا تاکہ تاریخی مسجد کی جگہ نئی مسجد تعمیر کی جا سکے۔عرب میڈیا کے مطابق فیصلے کے بعد اتوار کو بھوج شالا کمپلیکس میں زعفرانی جھنڈے لہرائے گئے اور ہندو تنظیموں نے دیوی کی عارضی مورتی نصب کر کے مذہبی رسومات ادا کیں، اس دوران علاقے میں سخت سکیورٹی تعینات رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلم فریق کے وکلاء نے فیصلے کو ’قانون اور تاریخ کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے کہا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 1935کے برطانوی دور کے سرکاری نوٹس میں واضح درج تھا کہ یہ مسجد ہے، آئندہ بھی مسجد رہےگی، تاہم مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے اس نوٹیفکیشن کو موجودہ قوانین سے پہلے کا قرار دے کر قبول نہیں کیا

بھارت میں منگنی کی تقریب کے لیے جانے والی مسافروں سے بھری بس ٹرک سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 13افراد ہلاک ہوگئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ خوفناک حادثہ مہاراشٹر کے ضلع پالگھر میں ممبئی احمد آباد قومی شاہراہ پر پیش آیا جہاں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم ہوا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسافروں سے بھری بس باپوگاؤں سے دھنیوری میں ایک منگنی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھی، بس میں 40 سے زائد مسافر سوار تھے جو ہائی وے پر غلط سمت سے آرہے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسافر بس ٹرک سے ٹکرا گئی جبکہ اس تصادم کی زد میں ایک موٹرسائیکل بھی آئی، حادثے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 25 افراد زخمی بھی ہوئے۔اس حادثے پر مہاشٹرا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ مرنے والی فیملیز کیلئے 5 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور یہ رابطے پاکستان کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کسی قسم کی دشمنی نہیں رکھتا اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا خواہاں ہے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو خطے کے ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم امریکا اور اسرائیل کی پالیسیاں پورے خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران ہمیشہ سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا آیا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت کا عمل ضروری ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل رواں ہفتے کے اوائل میں ہی ایران پر دوبارہ مشترکہ حملے شروع کرنے کی تیاریوں میں تیزی سے مصروف ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے دو اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی ممکنہ بحالی کے لیے یہ تیاریاں رواں سال اپریل کے آغاز میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی اور اہم تیاریاں ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کی سماعت کے دوران قانون سازوں کو بتایا ہے کہ امریکی فوج کے پاس ضرورت پڑنے پر جنگ کو تیز کرنے کا پورا پلان موجود ہے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ضرورت پڑنے پر پیچھے ہٹنے اور اپنے فوجی اثاثوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ گزشتہ ماہ روک دیا جانے والا آپریشن ایپک فیوری چند ہی دنوں میں دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور منصوبوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں اور فوجی ڈھانچے پر شدید فضائی حملے شامل ہیں، جبکہ ایک بڑے خطرے والے منصوبے کے تحت امریکی اسیشل فورسز کو ایران کے اندر زمین دوز تنصیبات میں موجود جوہری مواد کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اس وقت سب سے اہم ہدف اصفہان کی جوہری تنصیب ہو سکتی ہے جہاں عالمی ایجنسی کے مطابق ساٹھ فیصد تک افزودہ دو سو کلو گرام یورینیم موجود ہے۔