وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے خوش خبری سنائی کہ حکومت عوامی فلاح کے لیے اہم اور نمایاں اقدامات سامنے لانے کی تیاری کر رہی ہے۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو ایک کروڑ روپے تک قرض آسان شرائط پر فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنا ذاتی گھر تعمیر کر سکیں۔ یہ منصوبہ ملک کے چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک پھیلایا گیا ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو اس سہولت سے مستفید کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو اپنے گھر سے محروم ہیں ۔ انہیں رہائش فراہم کرنا ایک اہم قومی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے قرض حاصل کرنے والے افراد کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عام آدمی کو چھت کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 50 ہزار گھروں کے لیے قرض فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس مقصد کے لیے 321 ارب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 4 برسوں میں 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ رہائشی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مجموعی طور پر اس اسکیم کا حجم 3.2 کھرب روپے تک پہنچے گا، جس کے تحت 10 مرلے تک کے پلاٹس پر گھر بنانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وہ خود ہر ماہ اس منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے تاکہ اس پر عملدرآمد مؤثر انداز میں جاری رہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو بینک اس اسکیم میں فعال کردار ادا کریں گے انہیں خصوصی طور پر سراہا جائے گا اور 14 اگست کے موقع پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے اداروں کو ایوارڈز بھی دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف تعمیراتی شعبہ بلکہ صنعت و تجارت میں بھی سرگرمی بڑھے گی اور معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کچھ دیر قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر جاری اپنے بیان میں امریکی وفد کے دورۂ پاکستان کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر نے یہ بھی بتایا تھا کہ میں نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے روک دیا ہے۔
بعد ازاں فلوریڈا میں ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ میری پاکستان اور اس کی قیادت کے بارے میں مثبت رائے ہے تاہم اس نوعیت کے دوروں کا عملی جواز موجود نہیں رہتا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں پاکستان ایک زبردست ملک ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت شاندار اور وزیرِاعظم شہباز شریف بھی عظیم ہیں۔
امریکی صدر نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی قیادت بھی چاہتی ہے کہ ایران سے مذاکرات میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ لیکن ہم 15 یا 16 گھنٹے کا سفر ایسے لوگوں سے ملاقات کے لیے نہیں کریں گے جنھیں زیادہ لوگ جانتے بھی نہیں ہیں۔
انھوں نے مزید کہا سفر بہت طویل ہے جس میں کافی وقت لگتا ہے اور بہت مہنگا بھی ہے۔ ان سب کے باوجود امریکی وفد پہنچ بھی جائے تو وہ ایران کے اصل رہنما سے ملاقات نہیں کرپاتے بلکہ غیر معروف لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت ایران میں درحقیقت جو بھی معاملات چلا رہا ہے، امریکا اُن سے براہ راست بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران جب چاہے ہمیں کال کرسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی کو ایک طویل اور مشکل عمل قرار دیدیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں ایران کے ساتھ اعتماد میں فقدان تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔
فرانس میں ورلڈ پالیسی کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں متعدد حملوں کے باعث اب متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال ہونے میں برسوں لگ جائیں گے۔
مشیر اماراتی صدر نے کہا کہ آپ کسی ملک پر 2,800 میزائل اور ڈرونز سے حملے کریں اور پھر اعتماد کی بات کریں تو ایسا ممکن نہیں۔ اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ چٹکی بجاتے بحال نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے متحدہ عرب امارات پر 89 فیصد حملے شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانے کے لیے تھے۔
انور قرقاش نے مزید کہا کہ ایران ان حملوں سے خلیجی عرب ممالک کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ آپ ہماری حساب کتاب میں اہم نہیں ہیں اور اس سوچ کے اثرات طویل عرصے تک رہیں گے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے لیے ایران کو ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھا جائے گا۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈّوں اور آئل تنصیبات کو متواتر نشانہ بنایا ہے۔
جسے متحدہ عرب امارات نے خودمختاری اور قومی سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا تھا اور تمام خلیجی ممالک نے بھی مشترکہ طور پر مذمت بھی کی تھی اور ایرانی اقدامات کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
تاہم ایران کا مؤقف تھا کہ پڑوسی برادر ممالک امریکا کو اپنی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ہمسائیہ ممالک میں صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔

یورپی یونین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا کا ایران کے ساتھ کوئی جامع معاہدہ طے پاجاتا ہے تو وہ ایران پر عائد پابندیاں بتدریج نرم کرنے پر غور کرسکتی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے یورپی رہنماؤں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی صورت میں پابندیوں میں نرمی ایک ایسا قدم ہو سکتا ہے جو مستقل جنگ بندی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی رہنما قبرص میں مصر، شام اور لبنان کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم سربراہی اجلاس میں شریک ہیں جہاں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ایران سے متعلق معاملات زیر غور ہیں۔
دوسری جانب یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی پابندی اور محصول کے دوبارہ کھولا جائے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
اجلاس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات 2015 کے جوہری معاہدے ایران جوہری معاہدہ 2015 جیسا مضبوط نتیجہ دینے میں ناکام رہے تو دنیا کو ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
انھوں نے یاد دلایا کہ اس معاہدے سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی مدت کے دوران دستبردار ہو گئے تھے۔

امریکا نے ایران کے تیل کی برآمدات روکنے کے لیے چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یہ قدم ان دھمکیوں پر اُٹھایا جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور کمپنیوں پر بھی ثانوی پابندیاں لگائی جائیں گی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ چینی کمپنیوں پر پابندی ایران کی سب سے بڑی آمدنی یعنی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کی مہم کا حصہ ہے تاکہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکا اس ماہ پہلے ہی آبنائے ہرمز پرعملی ناکہ بندی کرچکا ہے جو عالمی توانائی کی ترسیل کی نہایت اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
نئی پابندیاں اس لیے بھی حیران کن ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اور چین کے صدر شی جنپنگ کے درمیان بیجنگ میں ملاقات متوقع ہے۔
اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور جغرافیائی سیاسی معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے نہ صرف ایران بلکہ چین اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ پابندی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں پکڑے جانے والے ایرانی جہاز سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ اس میں سے چین کا بھیجا گیا ایک تحفہ ملا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ پکڑے گئے جہاز کے چین سے تعلق پر حیرت ہوئی کیونکہ میرے صدر شی جنپنگ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ ہم دونوں میں کئی باتوں پر اتفاق ہے۔

امریکی محکمہ جنگ پنٹاگون کی جانب سے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایسی کوئی کارروائی ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے تک شروع نہیں کی جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ اس تنازع کے معاشی اثرات رواں سال کے آخر یا اس کے بعد تک جاری رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرن نے مذاکرات کو امریکی ناکہ بندی سے مشروط کر دیا ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔
پاکستان میں ایرانی سفیررضا امیری سے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا ایران مذاکرات میں بھرپور شرکت کرے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ ایران مذاکرات یا جنگ بندی کے لیے وقت کی کوئی پابندی نہیں، صدر ٹرمپ ایران کو ایک متفقہ تجویز لانے کے لیے چند دن کا وقت دے رہے ہیں۔

خطے میں کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
ایرانی جہاز پر امریکی حملے اور ایران کے جوابی حملے کے خدشات کے سبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت7 فیصد اضافے کےبعد 96.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،امریکی خام تیل کی قیمت 6.4 فیصد اضافے کے بعد 87.88 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے مشروب ’کافی‘ کے حوالے سے ایک دلچسپ تحقیق سامنے آئی ہے جس نے اس کے شوقین افراد کو حیران کردیا ہے۔ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے کافی پینے والے افراد اُن لوگوں کے مقابلے میں اوسطاً پانچ سال زیادہ زندگی گزار سکتے ہیں جو کافی نہیں پیتے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ زیادہ سے زیادہ چار کپ کافی پینے سے جسم میں موجود ٹیلو میئرز کی لمبائی برقرار رکھنے یا بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ٹیلو میئرز دراصل کروموسومز کے سروں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی لمبائی کو حیاتیاتی عمر کا ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ کم ہوتے ہیں تو بڑھاپے اور مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، تاہم کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش کم کرنے والے عناصر اس عمل کو سست کرسکتے ہیں۔ماہرین نے واضح کیا کہ اگرچہ چار کپ روزانہ (تقریباً 400 ملی گرام کیفین) کو ایک مناسب حد سمجھا جاتا ہے، لیکن اس سے زیادہ مقدار فائدہ دینے کے بجائے الٹا نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں جہاں محبت کے قصے تیزی سے بنتے اور بگڑتے ہیں، وہیں ایک ایسا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو حیران کردیا۔بھارت میں ایک 35 سالہ شخص نے نہ صرف کئی لڑکیوں کو بلکہ سیکڑوں خواتین کو بیک وقت محبت کے جال میں پھنسایا اور آخرکار قانون کے شکنجے میں آ گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے آنند نامی ملزم کو گرفتار کیا، جس پر الزام ہے کہ وہ مختلف شناختیں اختیار کرکے خواتین کو دھوکا دیتا رہا۔ کبھی وہ خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا، تو کبھی فلم پروڈیوسر، وکیل یا کامیاب بزنس مین بن کر سامنے آتا۔اس نے جعلی سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ ایپس پر متعدد پروفائلز بنا رکھے تھے

روزمرہ زندگی میں شوق سے پینے والی سافٹ ڈرنکس اب صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ان میٹھے کاربونیٹڈ مشروبات کا مسلسل استعمال مردوں اور خواتین دونوں میں بانجھ پن کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔طبی جریدے Epidemiology میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری خوراک اور طرزِ زندگی نہ صرف عمومی صحت بلکہ والدین بننے کی صلاحیت پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔اس تحقیق میں بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں نے امریکا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 21 سے 45 سال کی عمر کے 3828 خواتین اور ان کے شریک حیات کو شامل کیا۔تحقیق کے دوران شرکاء کے طرزِ زندگی، خوراک اور طبی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خواتین سے ہر دو ماہ بعد سوالنامہ پُر کروایا گیا، جس میں ان کی صحت اور حمل سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔ایک سال کے تجزیے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ جو افراد زیادہ مقدار میں سافٹ ڈرنکس استعمال کرتے ہیں، ان میں ہر ماہ والدین بننے کے امکانات تقریباً 20 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔ماہرین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ گزشتہ پچاس برسوں میں خوراک میں شکر کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر میٹھے مشروبات کے بڑھتے استعمال نے اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا اور ذیابیطس جیسے امراض بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال تولیدی نظام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس سے حمل ٹھہرنے کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ صحت مند زندگی اور بہتر مستقبل کے لیے میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کیا جائے اور متوازن غذا کو ترجیح دی جائے۔