خیبرپختونخوا” کا48ارب حسارے کے ساتھ 2170ارب کا بجٹ پیش کردیا گیا ہے،مالی سال 2026-27 کے لیے 2170 ارب روپے کا بجٹ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پیش کیا ،بجٹ میں 1645.708 ارب روپے جاری اخراجات اور 524.292 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کئے ہیں،مجموعی وصولیوں کا تخمینہ 2122 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاکہنا تھا کہ48 ارب روپے کا متوقع خسارہ صوبائی بچتوں سے پورا کیا جائے گا، نیا قرض نہیں لیا جائے گا، بجٹ دستاوہز کے مطابق صوبائی محصولات کا تخمینہ 182.41 ارب روپے مقرر، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 ارب روپے اضافی ہیں،مالی سال 2026-27 بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا،بجٹ کو نو موضوعاتی شعبوں کے گرد ترتیب دیا گیا، امن و امان اور عوامی تحفظ بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں، وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191.393 ارب روپے کر دیا گیا، پولیس بجٹ میں 185 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،پولیس پروکیورمنٹ پلان کے لیے 14.5 ارب روپے مختص، جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں، اے پی سیز، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز خریدے جائیں گے،پولیس کی ماہانہ آپریشنل سپورٹ کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،بجٹ میں 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے، کنونس الائونس میں 50فیصد اضافے اور سپیشل الاؤنس کو 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے تعلیم کے شعبے کیلئے 468 ارب 37 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے 419 ارب 73 کروڑ روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
صحت کے شعبے کا بجٹ بھی بڑھا کر 334 ارب 87 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے جو گزشتہ سال 275 ارب 79 کروڑ روپے تھا۔
بجٹ تقریر کے مطابق بجٹ میں پشاور میں مفت وائی فائی سہولت کی فراہمی کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کرنے اور صوبے میں سائبر سکیورٹی آپریشن سنٹر کے قیام کیلئے 90 کروڑ روپے کی سکیم تجویز کی گئی ہے۔مختلف اضلاع میں نئے سیف سٹی منصوبے شروع کیے جائیں گے، پشاور میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی جائے گی،ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے پولیسنگ کے لیے 1 ارب رہے مختص کر دیے ہیں،پبلک سیکٹر یونیورسٹییز کے لیے گرانٹ ان ایڈ بڑھا کر 11.8 ارب روپے کر دی گئی ہے،5 ارب روپے کی لاگت سے خیبر انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کا منصوبہ شامل ہے ،5 ارب روپے کی لاگت سے ٹرائیبل میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا،صوبے میں 14 نئے گورنمنٹ کالجز کی تعمیر کے لیے 363 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،نوجوانوں کے لیے 1.5 ارب روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے،یونیورسٹی طلبہ کے لیے بلا سود قرضوں کی مد میں 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، زرعی گریجویٹس کے لیے بلاسود قرضوں کا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے،گڈ گورننس اقدامات کے لیے 19.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، عوامی خدمات کی فراہمی، شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی، سہیل آفریدیکا کہنا تھاآی ڈی پیز کے لیے 17 ارب روپے مختص،وفاق کی جانب سے ٹی ڈی پیز فنڈز 2022 سے جاری نہ ہونا تشویشناک ہے۔
خیبرپختونخوا” کا48ارب حسارے کے ساتھ 2170ارب کا بجٹ پیش
19
Jun