Latest

ثالثوں نےامریکا ایران سوئس مذاکرات ناکامی سے کیسے بچائے؟

مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنےوالے ایک سفارتی ذریعے نے جیو نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیان اچانک سامنے آنے پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا رویہ یکسر بدل گیا تھا/
ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہوئے مذاکرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیان نے تقریباً ثبوتاژ کردیا تھا تاہم ثالث پاکستان اور معاون قطر کی مدد سے 18 گھنٹے تک جاری بات چیت کا عمل بالاخر کسی طرح مفید انداز سے انجام کو پہنچا۔اس لمحے کہ جب برجنسٹاک میں مذاکرات جاری تھے، صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان جاری کرکے تہران کو خبردار کیا تھا کہ ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو لبنان میں مشکلات پیدا کرنے سے فوری روکے، اگر اس نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران پرسخت حملہ کریں گے جیسا کہ پچھلے ہفتے کیا تھا، اس بار اس سے بھی زیادہ سخت حملہ ہوگا۔مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنےوالے ایک سفارتی ذریعے نے جیو نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیان اچانک سامنے آنے پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا رویہ یکسر بدل گیا تھا۔اسداران انقلاب ایران کے سابق کمانڈر اور پارلیمنٹ کے موجود اسپیکر محمد باقر قالیباف جو امریکا کی نیت کو مسلسل ہدف تنقید بناتے رہے ہیں، انہیں صدر ٹرمپ کا بیان انتہائی ناگوار گزرا تھا اور بات چیت آگے بڑھنےکے امکانات کچھ دیر کیلئے مسدود ہوگئے تھے۔برجنسٹاک مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مفاہمت کی یادداشت پر 18جون کو دستخط کے بعد فریقوں کی یہ پہلی بلمشافہ ملاقات تھی۔تاہم ثالثوں پاکستان اورقطر کی سوئٹزرلینڈ میں مذاکراتی ٹیبل پر موجودگی کام کرگئی، اس سے پہلے 14 جون کو یعنی صدرٹرمپ کی سالگرہ کے روز مفاہمت کی یادداشت پردستخط کرنے سے بھی ایران نے انکار کردیا تھا مگرثالثوں ہی نے اس مسئلہ کا بھی حل نکال لیا تھا۔برجنسٹاک مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، وزیراعظم پاکستان کے دفتر کا عملہ، جی ایچ کیو کی ٹیم اور سیکریٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *