وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے۔
شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تصدیق کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی دستخط کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی۔
امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا سرکاری متن بھی جاری کر دیا ہے۔ معاہدے کا عنوان “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” رکھا گیا ہے۔
سی این این ورلڈ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے 14 نکاتی دستاویز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران پر عائد بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل کے تکنیکی مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق توقعات کا تعین کیا گیا ہے۔
سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی، ایران کے جوہری مواد سے متعلق اقدامات اور پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔