Blog
غزہ میں اسرائیل جان بوجھ کر بچوں کو قتل کر رہا ہے؛ اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے تازہ رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہیں اور یہ عمل فلسطینی نسل کشی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہوا جبکہ نئی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔تازہ رپورٹ میں شواہد کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں فلسطینی بچوں کی غیر معمولی پیمانے پر اموات ہوئیں وہ شدید زخمی ہوئے اور ذہنی صدمے کا شکار ہوئے۔اقوام متحدہ کے آزاد کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود فلسطینی بچوں کی شہادتیں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات تاحال جاری رہے۔کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر نے کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف جنگ بندی کا احترام نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری بھی پوری نہیں کی۔کمیشن کا کہنا ہے کہ بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائیاں کر رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے جاری رکھے، انسانی اور طبی امداد کی فراہمی محدود رکھی اور ایسی پابندیاں عائد کیں جن سے فلسطینی بچوں کی زندگی، صحت اور جسمانی و ذہنی نشوونما کو شدید نقصان پہنچا۔میشن کے مطابق اسرائیلی افواج نے منظم انداز میں اسپتالوں، طبی مراکز اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق سہولیات کو بھی نشانہ بنایا، جس کے باعث ہزاروں بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی نے دو سالہ جنگ کا خاتمہ کیا، تاہم غزہ میں مکمل امن قائم نہ ہو سکا اور حملوں کی شدت میں صرف کمی آئی