ڈیجیٹل زمانے میں ذمہ دار صحافت کی اہمیت بڑھ گئی ، وزیراعظم

وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ آزادیِ صحافت پر اپنے ایک پیغام میں کہ کہ پاکستان اور دنیا بھر کے صحافی، کالم نویس، رپورٹرز، مدیران، براڈکاسٹنگ اور صحافت سے وابستہ تمام افراد کو انکی بے لوث خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحافت سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی ایک باخبر اور با شعور معاشرے کی ضمانت ہے۔ مستند اور تعصب سے پاک غیر جانبدارانہ خبروں کی بروقت اشاعت و نشریات ہی اصل صحافت کی اساس ہے۔
پروپیگنڈہ، فیک نیوز، غیر مستند اور غیر تصدیق شدہ خبروں کی ترسیل کو اپنی پیشہ ورانہ اقدار کے تحت روکنا ہر صحافی کا فرض ہے۔ صحافی نہ صرف پیشہ ورانہ بلکہ سماجی اقدار کے امین ہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ اس سال عالمی یومِ آزادیِ صحافت ’’پرامن مستقبل کی تشکیل‘‘ کے عنوان تحت منایا جارہا ہے۔ یہ موضوع دور حاضر کی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایک باوقار، باحفاظت اور سازگار ماحول کے حقدار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں امن و امان کا ماحول محض سفارت کاری سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ مستند معلومات، ذمہ دارانہ صحافت اور عوامی رائے اسکی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
شہباز شریف کے مطابق بین الاقوامی تعلقات، ممالک کے مابین سفارتی، معاشی، معاشرتی باہمی تعلق کو مثبت، بامعنی اور موثر بنانے میں میڈیا تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیشتر اوقات نقطہء نظر کی صحیح ترجمانی بہت سے پیچیدہ مسائل حل کر دیتی ہے۔ یہی ذمہ دارانہ صحافت کا طرہ امتیاز ہے۔
اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور اختلاف راۓ سے لے کر کشیدگی کے دیر پا حل تک مکالمے اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں سفارتی میدان میں پاکستان، کشیدگی میں کمی، مکالمے کے فروغ اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر میڈیا نے پاکستان کی تحسین کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارتی محاذ اور زمانہ امن کے علاوہ قومی میڈیا نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران بھی ایک اہم ذمہ داری ادا کی۔ مربوط قومی ردعمل اور خودمختاری کے دفاع میں قومی یکجہتی اور پاکستان کے مؤقف کو وضاحت اور تحمل کے ساتھ پیش کیا۔ میڈیا نے عوام کو آگاہ رکھا اور غلط معلومات کا تدارک کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ معرکہ حق کے لمحات مسلح افواج کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ مشترکہ قومی طاقت کا مظہر تھے جس میں ذمہ دار میڈیا بخوبی شامل تھا۔ اور تمام صحافی برادری کا کردار لائق تحسین تھا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *