مردان کے علاقے بابو محلہ میں واقع تاریخی گوردوارہ کے اندر سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے بہیمانہ قتل کیس کو پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر ٹریس کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق واردات میں ملوث ملزم ایک پولیس اہلکار نکلا ہے، جس نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر اس افسوسناک واقعے کو انجام دیا۔ڈی پی او مردان مسعود احمد بنگش نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ گرفتار ملزم شیر شاہ پولیس فورس کا اہلکار ہے، جس کا تعلق تحصیل گڑھی کپورہ کے گاؤں گڑھی دولت زئی میخیل سے ہے جبکہ وہ حالیہ طور پر ایران آباد مردان میں رہائش پذیر تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ماضی میں بابو محلہ گوردوارہ میں تعینات رہ چکا تھا اور تقریباً تین سال قبل تبادلے کے باعث پیدا ہونے والی رنجش اس سنگین جرم کا بنیادی محرک بنی۔ڈی پی او کے مطابق وقوعہ کے فوراً بعد خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے جدید تفتیشی ذرائع، سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کرتے ہوئے مختصر وقت میں ملزم تک رسائی حاصل کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔پولیس حکام کے مطابق کیس کی تیز رفتار اور مؤثر تفتیش کے نتیجے میں نہ صرف ملزم کو گرفتار کیا گیا بلکہ واردات کے محرکات اور پس منظر کو بھی بے نقاب کر لیا گیا ہے۔ ملزم کے خلاف دہشت گردی، قتل اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے بابو محلہ گوردوارہ کے اندر گھس کر سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی پر فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر جاں بحق ہو گئے تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا جبکہ سکھ برادری اور مختلف سماجی حلقوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔پولیس کی جانب سے کیس کے فوری سراغ اور مرکزی ملزم کی گرفتاری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مقتولین کے لواحقین نے انصاف کی فراہمی کے لیے مکمل قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گوردوارہ دوہرے قتل کیس کا معمہ حل، پولیس اہلکارقاتل نکلا
19
Jun