ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے رکن جلال خان اور سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے درمیان انتخابی دھاندلی الزامات پر سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔جلال خان نے تیمور جھگڑا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ان کے خلاف لگائے گئے اس الزام کے ثبوت پیش کردیں، کہ انہوں نے دھاندلی کے ذریعے نشست جیتی ہے تو وہ اگلے ہی لمحے اپنی اسمبلی نشست سے استعفیٰ دے دیں گے۔جلال خان نے اپنے بیان میں کہا کہ تیمور جھگڑا کو کسی سازش یا دھاندلی نے نہیں بلکہ ان کے تکبر نے شکست دی ہے، حلقے کے عوام کی بددعاوں اور ناراضی نے انہیں ہرایا جبکہ بطور رکن صوبائی اسمبلی انہوں نے اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا تھا، عوام نے اسی کا حساب انتخابات میں چکا دیا۔جلال خان کا کہنا تھا کہ تیمور جھگڑا کی اپنی جماعت کے کارکن اور رہنما بھی ان سے شدید نالاں اور نفرت کرتے ہیں، تیمور جھگڑا جھوٹے الزامات کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم وہ جتنا جھوٹ بولیں گے، اتنا ہی ان کا سچ کے ذریعے پردہ چاک کیا جائے گا۔دوسری جانب سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے جلال خان کا چیلنج قبول کرتے ہوئے ثبوت پیش کرنے کی پیشکش کردی ہے۔ اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ وہ ثبوت فراہم کرنے کیلئے جگہ بھی بتانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ صوبائی اسمبلی میں بیٹھ جاتے ہیں سپیکر اس کی صدارت کریں، تمام میڈیا کو مدعو کیا جائے اور وہ وہاں اپنے تمام شواہد پیش کریں گے۔استعفیٰ کی ضرورت نہیں تیمور جھگڑا نے کہا کہ جلال خان کو استعفیٰ دینے کی بھی ضرورت نہیں وہ صرف ان کے پیش کردہ ثبوت سن لیں اور ان کا جواب دے دیں۔ واضح رہے کہ تیمور سلیم جھگڑا نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا، جس سے یہ تنازع شروع ہوا۔تیمور جھگڑا نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کے ایک ساتھی نے ان سے سوال کیا کہ ان کے مقابلے میں کامیاب ہونے والے ن لیگی امیدوار کی ڈیل کتنے میں ہوئی تھی، جھگڑا کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ ان کے علم کے مطابق یہ ڈیل 10 کروڑ روپے میں ہوئی تھی، تاہم مذکورہ ن لیگی رہنما نے انہیں بتایا کہ یہ 10 کروڑ نہیں بلکہ 16 کروڑ روپے میں ہوئی تھی۔ تیمور جھگڑا نے اسی گفتگو کو بنیاد بنا کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔یاد رہے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن جلال خان اور سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے درمیان انتخابی دھاندلی کے الزامات پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات کے بعد معاملہ کھلے سیاسی چیلنج اور جوابی چیلنج میں تبدیل ہو گیا ہے
دھاندلی الزامات میں شدت: تیمور جھگڑا نے جلال خان کا چیلنج قبول کرلیا
17
Jun