اس سے پہلے ہم نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کے حوالے سے بتایا تھا کہ سعودی ایئر بیس پر حملے میں 10 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم اب امریکی میڈیا کے مطابق اس حملوں میں کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق کم از کم دو فوجی بہت شدید زخمی ہیں اور یہ حملہ اُس وقت ہوا جب وہ یہ فوجی سعودی ایئر بیس میں ایک عمارت کے اندر موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کو مسترد کرتے ہوئے قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔وزیراعظم نے قوم سے کیے گئے خطاب میں کہا کہ آج سے شروع ہونے والے ہفتے میں پیٹرول پر فی لیٹر 95 روپے، ڈیزل پر 203 روپے اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاہم عوامی مشکلات کے پیش نظر ان تجاویز کو مسترد کردیا اور یہ بوجھ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرنے کے بعد اس کا حجم 56 ارب روپے بنتا ہے اور حکومت یہ اضافی بوجھ خود اٹھائے گی۔’عالمی منڈی کے حساب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 544 روپے اور ڈیزل 790 روپے ہوتا‘وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول 544 روپے فی لیٹر ہونا چاہیے تھا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 30 مارچ کو ایک اہم سفارتی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے جبکہ اس اہم اجلاس میں علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں خطے کی موجودہ صورتحال اور درپیش مشترکہ چیلنجز سرفہرست ہوں گے جن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطح اجلاس سے خطے میں تعاون کے فروغ اور اہم معاملات پر مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان دو محاذوں پر اہم کردار ادا کررہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اپنا سفارتی اور ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، ہماری یہ کاوشیں اللہ کی رضا اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ہیں۔
اسرائیل پر ایران نے کلسٹر بموں کی برسات کر دی جبکہ ایران نے کویت میں 6 امریکی بحری جہاز تباہ کرنے اور دبئی میں کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے 6 ٹیکٹیکل بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 3 سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3 میں آگ بھڑک اٹھی۔
روسی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں کے باعث اسرائیلی دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے، لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق 4 آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اور ایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ایرانی حکام نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئربیس کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں ری فیولنگ اور ایئر ٹرانسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا۔
تھائی لینڈ کے معروف مقابلۂ حسن ’مس گرینڈ تھائی لینڈ‘ میں تقریر کے دوران امیدوار کے نقلی دانت اسٹیج پر گرگئے ایونٹ میں پیش آنے والے اس غیر متوقع واقعے نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ امیدوار نے نہایت مہارت اور اعتماد کے ساتھ صورتحال کو سنبھال لیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مقابلے میں شریک امیدوار کمولوان چاناگو (Kamolwan Chanago) ابتدائی مرحلے میں اپنا تعارف پیش کر رہی تھیں کہ اسی دوران ان کے ڈینٹل وینیئرز اچانک نکل گئے جس سے چند لمحوں کے لیے اسٹیج پر خلل پیدا ہوا۔یہ منظر ججز اور وہاں موجود ناظرین کے سامنے پیش آیا تاہم کمولوان چاناگو گھبراہٹ کا مظاہرہ کرنے کے بجائے پُرسکون رہیں اور چند لمحوں کے لیے مڑیں، اپنے ڈینٹل وینیئرز درست کیے اور دوبارہ اعتماد کے ساتھ اپنی پرفارمنس جاری رکھی۔امیدوار کے اس پُراعتماد اور پیشہ ورانہ رویے نے حاضرین کے دل جیت لیے اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔بعدازاں انہوں نے ایوننگ گاؤن میں پوز دیتے ہوئے کیمروں کے سامنے مسکراتے ہوئے اپنی پرفارمنس مکمل کی، گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔یہ واقعہ مقابلے کے ابتدائی مرحلے کے دوران پیش آیااورفاتح کا اعلان ہفتے کے روز کیا جائے گا۔جیتنے والی امیدوار مس گرینڈ انٹرنینشل 2026 میں تھائی لینڈ کی نمائندگی کریں گی جو بھارت میں منعقد ہوگا۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس میچ میں گیند کا رنگ تبدیل ہونے کا ایک دلچسپ اور غیر معمولی واقعہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث گیند کو تبدیل بھی کرنا پڑا۔
حیدرآباد کنگز مین کی ٹیم نے مرون رنگ کی کٹ پہن رکھی تھی، جس کا رنگ سفید کوکابورا گیند پر لگنے لگا اور وہ ہلکے گلابی رنگ کی ہو گئی، جس سے بلے بازوں کو گیند دیکھنے میں دشواری پیش آئی۔ حیدرآباد کنگزمین کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لاہور قلندرز کو فتح کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا ’مخالف کو اپنا پہلا پنک بال میچ جیتنے پر مبارکباد‘۔میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کنگز مین کے کپتان مارنس لبوشین نے بتایا کہ انہوں نے دوسرے ہی اوور میں امپائرز کو اس مسئلے سے آگاہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کبھی کبھار گیند پر پیڈز یا بیٹ کا رنگ لگ جاتا ہے لیکن انہوں نے اس سے پہلے ایسا منظر کم ہی دیکھا ہے۔
لبوشین نے امید ظاہر کی اگلے میچ سے پہلے اس مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔ دوسری جانب قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ کے بعد فاسٹ بولر حارث رؤف نے کہا کہ ممکن ہے گیند پر رنگ گراؤنڈ کی نشستوں سے بھی لگا ہو، تاہم اس کی تصدیق مشکل ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ارتھ آور (Earth Hour) کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک گھنٹے کے لیے روشنی بند کریں تاکہ توانائی کی بچت اور ماحول کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھایا جا سکے۔
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ ماحول کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں اور ایک گھنٹے کی علامتی بندش عملی ماحولیاتی اقدامات کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور اس لیے ہر شہری کا تعاون ضروری ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ حالیہ سیلاب، گرمی کی لہریں اور خشک سالی بڑے چیلنجز ہیں جو ملک کی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہروں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہا ہے، پانی کی دستیابی میں کمی اور سیلاب سے انفراسٹرکچر متاثر ہو رہا ہے۔
صدر مملکت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ توانائی کی بچت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور ماحولیاتی ذمہ داری میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ارتھ آور جیسی علامتی سرگرمیاں عملی اقدامات کی ترغیب دیتی ہیں اور مستقبل میں پائیدار ماحول کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق، ایسے اقدامات عوام میں شعور پیدا کرنے اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ حکومت اور شہریوں کے مشترکہ اقدامات سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔










