ایران نے دیمونا کے بعد اسرائیل کے ایک اور شہر عراد پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئی ہیںرپورٹس کے مطابق ایران نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے 72 ویں مرحلے میں اسرائیلی شہر عراد پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حملہ غیر معمولی شدت کا تھا، بیلسٹک میزائل نے متعدد عمارتوں کو تباہ کر دیا جس کے نتیجے میں جنوبی شہر عراد میں 70 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔اسرائیلی حکام نے حملے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے میں 71 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔برطانوی میڈیا نے حملے میں 5 افراد کی ہلاکت اور 70 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔اسرائیل نے ایرانی بیلسٹک میزائل کے حملے کا شکار بننے والے شہر دیمونا اور عراد میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور تمام اسکول بند کر دیئے ہیں۔اسرائیل کی فضائیہ نے جنوبی شہر عراد میں بیلسٹک میزائل کو روکنے میں ناکامی پر باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے واقعے نے ملکی دفاعی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل نے عراد میں براہِ راست ہدف کو نشانہ بنایا جبکہ اسے روکنے کی دو کوششیں بھی ناکام رہیں.

ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود بالواسطہ رابطے اب بھی جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات تو ختم ہو چکے ہیں، تاہم قطر، مصر اور برطانیہ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق امریکا ایران سے یورینیم افزودگی کے پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے۔ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے واپس کر دے تو ہرجانے کے مطالبے پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بالواسطہ سفارتکاری اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی نہ کسی سطح پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ایک قطری ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔وزارت کے مطابق یہ حادثہ اتوار کے روز معمول کی ڈیوٹی کے دوران پیش آیا، جب ہیلی کاپٹر ملک کی سمندری حدود میں پرواز کر رہا تھا۔ حادثے کے بعد عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے اور فی الحال کسی دشمنانہ کارروائی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران قطر کو سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
سعودی عرب نے اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی فوجی اتاشی اور اسسٹنٹ فوجی اتاشی سمیت سفارتخانے کے دیگر ارکان کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔سعودی عرب کا ایران کو سخت الٹی میٹم، حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہوبیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے اور مملکت ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔سعودی حکام نے ایران پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی اقدامات خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کے نتائج بھی نہایت سنگین ہوں گے۔حکم کے مطابق ایرانی ملٹری اتاشی، اسسٹنٹ ملٹری اتاشی اور سفارتخانے کے مزید تین اہلکاروں کو فوری طور پر سعودی عرب چھوڑنا ہوگا۔

پشاور سمیت خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں 4.4 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے، جس کے بعد وہ خوفزدہ ہوگئے۔زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ ریکڑ اسکیل پر زلزلے کی شدت 4۔4 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کا صوبہ بدخشاں کا پہاڑی سلسلہ ہندوکش تھا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی زیر زمین گہرائی 95 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب ریسکیو حکام نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکوں سے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم ٹیموں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے عید کی نماز کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام پیٹرول اور گیس کا استعمال فوری طور پر 50 فیصد تک کم کر دیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر قوم نے کفایت شعاری نہ اپنائی تو عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ پاکستان اس وقت کئی اہم اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت اس وقت درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر سرخرو ہو رہی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نہ تو جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی کسی ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہ دے۔ان کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے ہے۔ ہم نے ایک مرتبہ صفایا کر دیا ہے، تاہم اب مزید ایسے ٹھکانوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔ ہم نے ایران پر جارحیت کی واضح مذمت کی اور مسلم ممالک پر حملوں کے خلاف بھی بھرپور ردعمل ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ ہم سعودی عرب کے ساتھ معاہدوں کے پابند ہیں مگر کسی پر حملہ کرنا ضروری عمل نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا مرحلہ وار ایران کے اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا آغاز بڑے بجلی گھروں سے ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاملے میں کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ٹرمپ کے بیان پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔امریکی صدر نے ایک اور موقع پر میڈیا پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے پر غور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اپنی سکیورٹی خود یقینی بنانا چاہیے

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ نے امریکا کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کر سکے، خاص طور پر وہ اہداف جو آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس سے قبل برطانیہ امریکی افواج کو صرف اُن کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے چکا تھا جن کا مقصد ایران کو ایسے میزائل فائر کرنے سے روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔تاہم جمعہ کو ہونے والے وزارتی اجلاس میں اس اجازت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت اب امریکی افواج برطانوی اڈوں کو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کر سکیں گی۔ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا اور حکومت کے مطابق تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کے مطابق وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ برطانوی اڈے اب امریکی دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جن کا ہدف وہ صلاحیتیں ہوں گی جو آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

حیدرآباد کنگز کے کپتان مارنوس لبوشین کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل سیزن 11 میں حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے کیلئے بے تاب ہوں۔،اپنے ایک بیان میں مارنوس لبوشین نے حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل سیزن11 میں حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے کے لیے بےتاب ہوں۔مارنوس لبوشین نے مزید کہا کہ حیدرآباد ٹیم کو جوائن کرنے کا منتظر ہوں، حیدرآباد کے فینز آئیں اور ہمیں سپورٹ کریں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے تو ہوجائے ہوجمالو کا نعرہ بھی لگایا۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا یہ سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک کھیلا جائے گا اور پی ایس ایل کے نئے سیزن کا آفیشل اینتھم چاند رات پر ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔

آبنائے ہرمز میں جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات
امریکا نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت بحال کرنے کیلئے جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات کردیے,امریکا نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مرحلہ وار فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے جس کے تحت کم بلندی پر پرواز کرنے والے اے-10 وار تھوگ طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹرز تعینات کیے گئے ہیں۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکی طیارے ایران کے جنوبی ساحل کے قریب تیز رفتار کشتیوں اور ڈرونز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد ان بارودی سرنگوں، مسلح کشتیوں اور کروز میزائلوں کو ختم کرنا ہے جن کی وجہ سے مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز بند ہے۔امریکی حکام کے مطابق اگر یہ آپریشن کامیاب ہوتا ہے تو امریکی جنگی بحری جہاز خلیج میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر سکیں گے۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل برآمدات کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس کی بندش کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں جو بعد میں تقریباً 108 ڈالر پر آگئیں۔