پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق زمان خان پشاور اور فیصل آباد کے میچ میں انجرڈ ہوئے، اُن کے کاندھے کا جوڑ اترا ہے۔
پی سی بی نے زمان خان کو لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے، پاکستاں کرکٹ بورڈ کا میڈیکل پینل زمان خان کی ریکوری اور ری ہیب پلان ترتیب دے گا۔
کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ زمان خان کی فٹنس کی بحالی میں 4 سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ فاسٹ بولر زمان خان پی ایس ایل میں راولپنڈی کے اسکواڈ میں شامل تھے۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور اس کا بڑا سبب تیل کی سپلائی کا متاثر ہونا ہے۔
دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے جسے فی الحال ایران نے بند کیا ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر خلیج کے ممالک سے تیل کی ترسیل متاثر رہی تو عالمی منڈی میں روزانہ کروڑوں بیرل سپلائی کم ہو سکتی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ابراہام لنکن کیریئراسٹرائیک گروپ اب بھی ایران کے خلاف فعال ہے،سینٹ کام نے بحری جہاز پر طیاروں کی آمد ورفت کی ویڈیو بھی جاری کردی۔
پاسداران انقلاب بحری بیڑے کو ناکارہ بنانے کادعویٰ کررہےہیں، اس سے پہلے بھی وہ اس جہاز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی مشیر نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کو کامیاب قرار دے کر جنگ ختم کرے اور وہاں سے نکل جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ٹیک اور اے آئی مشیر ڈیوڈ سیکس نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ امریکا کو فتح کا اعلان کر کے ایران سے نکل جانا چاہیے۔ڈیوڈ سیکس کا کہنا تھا کہ جنگ کو مزید بڑھانا تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے اور امریکا کو ایک لمبی جنگ میں پھنسا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ایران جنگ کو لے کر وائٹ ہاؤس میں اختلاف پایا جارہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے اندر اس جنگ کے بارے میں دو مختلف رائے موجود ہیں۔ کچھ حکام چاہتے ہیں کہ فوجی کارروائی جاری رکھی جائے تاکہ ایران کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو جائے۔جبکہ کچھ مشیر کہتے ہیں کہ امریکا اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، اس لیے اب جنگ ختم کر دینی چاہیے۔تاہم ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اس جنگ کا اختتام اسی وقت ہوگا جب انہیں مناسب لگے گا۔

سرکاری اور حکومتی سرپرستی میں خود مختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں سے 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی، ملازمین کی تنخواہوں سے بتدریج کٹوتی کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء عطاء اللّٰہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آئندہ 2 ماہ کے لیے وزراء، مشیران اور معاونِ خصوصی کی تنخواہوں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران، وزراء، وزرائے مملکت اور معاون خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی عائد رہے گی، کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عملدرآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے، سیکریٹریز روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کارپوریشنز اور دیگر اداروں میں حکومتی نمائندے بورڈ اجلاس میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے، اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائے گا۔اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا، ان اداروں کے ملازمین اپنے پرانے طریقۂ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے۔حکومتی اعلامیے کے مطابق وزیرِاعظم نے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کی ہے۔اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی ہوگی، سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کیے جانے کے فیصلے پر عملدرآمد کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا۔

چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نےکہا ہےکہ افغانستان اور پاکستان کےدرمیان موجود مسائل صرف مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں،طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
وانگ یی نےیہ بات افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی سےٹیلی فون پرگفتگو کے دوران کہی،یہ رابطہ افغان وزیرخارجہ کی درخواست پرکیا گیا،دونوں رہنماؤں نے ایران کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وانگ یی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں جو نہ صرف دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی نےافغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی سفارتی کوششوں کو سراہا،کہاافغان عوام طویل جنگوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور اب امن اور ترقی کے مواقع کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،افغانستان خطے میں بدامنی نہیں بلکہ امن کا ذریعہ بننا چاہتا ہے،

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت 12 اور 13 مارچ کی شب قندھار ایئر فیلڈ کی آئل سٹوریج سائٹس کو مؤثر حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔
اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اپنی مذموم کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔
پاک فوج مؤثر اور طاقتور کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔ فوج اپنی تمام تر استعداد کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔

کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی کے کئی مقامات پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں علاقے مکین گھروں سے باہر نکل آئے
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4 عشاریہ صفر ریکارڈ کیاگیا زلزلے کی گہرائی 10کلو میٹر تھی زلزلے کا مرکز ساوتھ کراچی سے 100 کلومیٹر دور تھا۔
زلزلے کےجھٹکوں کے باعث علاقہ مکین میں خوف و ہراس پھیل گیا شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے ،تاحال کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سن رائزرز لیڈز نے جمعرات 12 مارچ کو دی ہنڈرڈ لیگ کی نیلامی میں پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد کو 1 لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 7 کروڑ 12 لاکھ پاکستانی روپے) میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی فرنچائز کا ایکس اکاؤنٹ معطل ہو گیا۔ سن رائزرز لیڈز دراصل بھارتی میڈیا گروپ سن گروپ کی ملکیت ہے جو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کا بھی مالک ہے۔ اس گروپ کی سربراہ معروف بھارتی بزنس مین کلانِتھی مارن ہیں جبکہ فرنچائز کی سی ای او کاویا مارن نیلامی کے دوران لندن میں موجود تھیں۔نیلامی کے دوران کاویا مارن کے ساتھ ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری بھی موجود تھے، جہاں سن رائزرز لیڈز نے ٹرینٹ راکٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ابرار احمد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ ٹیم کی قیادت انگلینڈ کے ٹی ٹوئنٹی کپتان ہیری بروک کریں گے۔رپورٹس کے مطابق اس وقت اگر کوئی صارف سن رائزرز لیڈز کا ایکس اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کرے تو اسے پیغام ملتا ہے، جس کا مفہوم ہے، ”اکاؤنٹ سسپینڈڈ۔ ایکس اُن اکاؤنٹس کو سسپینڈ کرتا ہے جو ایکس کے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔“تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اکاؤنٹ کس وجہ سے معطل کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم فیفا ورلڈکپ میں شرکت کے لیے امریکا آئی تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قومی فٹبال ٹیم کو فیفا ورلڈکپ 2026 سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی اپنی جان اور سلامتی کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔فیفا ورلڈکپ رواں سال 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر کھیلا جائے گا۔ایران کی ٹیم نے ایشیائی کوالیفائنگ مرحلے میں گروپ اے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے مسلسل چوتھی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔تاہم حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے باعث ایران کی شرکت غیر یقینی بن گئی ہے۔ایرانی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ورلڈ کپ میں شرکت مشکل دکھائی دیتی ہے۔اسی طرح ایران کے وزیر کھیل نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ حالیہ حملوں اور کشیدگی کے بعد ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ میں حصہ لینا ممکن نہیں رہا۔دوسری جانب فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایرانی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں خوش آمدید کہا جائے گا، کیونکہ فٹبال دنیا کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔