میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکی فوج کے سینٹکام نے ایران کے خارگ جزیرے پر بڑے پیمانے پر بمباری کی۔ ٹرمپ کے مطابق حملوں میں جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین بمباری حملوں میں سے ایک تھا۔
خارگ جزیرہ ایران کے خلیج فارس میں واقع سب سے اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔ ایران کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ابھی تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو روکنے کی کوشش کی تو تیل کے تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
لنڈی کوتل میں پاک۔افغان شاہراہ خیبر شیخوال کے مقام پر خواتین نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سنٹر کی بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بند کر دی جس کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔
بعد ازاں لنڈی کوتل تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او ملک زینت آفریدی نے مقامی مشران کے ہمراہ مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے۔ مذاکرات کے نتیجے میں احتجاج ختم کر دیا گیا اور پاک۔افغان شاہراہ کو ٹریفک کے لئے دوبارہ کھول دیا گیا۔
پولیس حکام اور مشران نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ پیر کے روز متعلقہ سنٹر میں دوبارہ ڈیوائس نصب کی جائے گی اور خواتین کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سنٹر باقاعدہ طور پر فعال کر دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے امریکی کیریئر پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے چار بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اس خبر کی تردیدی کی ہے اور کہا ہے کہ جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ میزائل جہاز کے قریب بھی نہیں پہنچے اورکیریئر معمول کے مطابق اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
راولپنڈی اور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد کے قریب منڈلانے والے دو یو اے ویز (ڈرونز) کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔ سینئر پاکستانی حکام نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔اسلام آباد کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فضائی حدود اور ایئر پورٹ بندش کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا ہے۔










