نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی کرکٹر نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اظہارِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے،پرامن تنقید جمہوریت کا ستون ہے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے مزید کہا کہ پی سی بی کو اس معاملے میں مکمل طور پر نیوٹرل رہنا چاہیے۔نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی کارروائی ایک خطرناک حد سے تجاوز کی نمائندگی کرتی ہے جو جمہوریت کے ایک بنیادی ستون کو نقصان پہنچاتی ہے، پر امن تنقید پر کسی کو سزا دینا خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔جاری بیان کے مطابق پبلک آفس کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں، عوامی عہدہ رکھنے والے کسی فرد کو خواہ اس کا قد کچھ بھی ہو عوامی جانچ کا سامنا کرنے کی ذمہ داری سے بری نہیں ہونا چاہیے۔این ڈی سی نے مطالبہ کیا کہ کرکٹر نسیم شاہ کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے،کرکٹ بورڈ ایک قومی ادارہ ہے جو کروڑوں پاکستانیوں کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسے ایک غیر جانبدار ادارہ رہنا چاہیے۔این ڈی سے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سرکاری اداروں سے مزید مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کریں جو آزادی اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سینٹرل کانٹریکٹ اور میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کیا تھا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں، غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور دفاتر و کام کی جگہوں پر ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کے لیے مناسب مقدار موجود ہے اور حالیہ صورتحال میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔وزیراعظم کے مطابق تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 125 ارب روپے مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے فراہم کیے تاکہ عالمی کشیدگی کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں موٹر سائیکلوں اور رکشہ مالکان کو رجسٹریشن اپنے نام پر کروانے کے لیے سہولیات فراہم کریں۔ اس اقدام سے ملک بھر کے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کا ڈیٹا ڈیجیٹائز ہوگا اور مالکان مستقبل میں حکومتی ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد اور سپلائی چین کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے جبکہ اپریل کے لیے پیٹرول کی درآمد کا انتظام بھی مکمل ہے۔

گھروں میں روزمرہ کھانا پکانے کے لیے کوکنگ آئل کا استعمال معمول کی بات ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کی زیادتی صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ تیل کھانے کا ذائقہ اور خوشبو بہتر بناتا ہے اور پکانے کے عمل کو آسان کرتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہارٹ اٹیک اور دیگر قلبی مسائل میں اضافے نے بھی اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی مناسب مقدار ہر فرد کے وزن، عمر اور طرزِ زندگی پر منحصر ہوتی ہے، تاہم عمومی طور پر ایک صحت مند شخص کے لیے روزانہ تقریباً دو کھانے کے چمچ، یعنی 25 سے 30 ملی لیٹر تیل کافی سمجھا جاتا ہے۔ہفتہ وار بنیاد پر یہ مقدار 150 سے 170 ملی لیٹر کے درمیان ہونی چاہیے۔ یہ حد صرف کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے تیل کے لیے ہے، جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور پراسیسڈ فوڈ اس میں شامل نہیں ہوتے۔زیادہ تیل کے استعمال سے جسم میں خراب کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے، جو شریانوں کی بندش، دل کے دورے اور فالج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپا، پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اور ایک بار چربی جمع ہو جائے تو اسے کم کرنا آسان نہیں رہتا۔ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایک ہی قسم کے تیل پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف صحت بخش تیلوں کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے۔ زیتون، سرسوں، مونگ پھلی، سورج مکھی اور سویا بین کے تیل نسبتاً بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں دل کے لیے مفید چکنائیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ کولڈ پریسڈ آئل کے استعمال کو ترجیح دینے اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور تیل سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ صبا آزاد کی طبیعت اچانک خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے، جہاں وہ ایک انفیکشن کے باعث زیرِ علاج ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ کو Cyclospora cayetanensis نامی انفیکشن لاحق ہوا ہے، جس کے بعد ان کی حالت بگڑنے پر انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ صبا آزاد نے خود بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی صحت سے متعلق آگاہ کیا اور اسپتال سے اپنی تصویر شیئر کی۔اداکارہ نے بتایا کہ اس مشکل وقت میں اداکار ریتھک روشن ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بیماری کے باعث صرف دو ہفتوں میں ان کا تقریباً چار کلو وزن کم ہو چکا ہے۔ صبا آزاد کے مطابق وہ عام طور پر گھر کا کھانا کھاتی ہیں اور باہر کا پانی پینے سے گریز کرتی ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ اس انفیکشن کا شکار ہو گئیں، جس نے انہیں حیران کر دیا۔انہوں نے اپنے مداحوں کو مشورہ دیا کہ پھلوں اور سبزیوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں تاکہ اس طرح کے انفیکشن سے بچا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق اداکارہ کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے تاہم وہ تاحال طبی نگرانی میں ہیں

ایران کے شمال مغربی شہر تبریز میں ایک اہم پیٹروکیمیکل پلانٹ پر مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فوری طور پر ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے سمیت صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے باوجود کسی خطرناک یا زہریلے مادے کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی، جس سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقصان کا خدشہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔ تاہم علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے واقعے کی نوعیت اور اس کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ حملے کے ممکنہ اثرات اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

منہ کے کینسر میں پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا ،دیہی علاقوں کی خواتین بھی منہ کے کینسر میں مبتلا ،نوجوان مرض کا زیادہ شکارجاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے منہ کی صحت سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں، جن کے مطابق منہ کے جراثیم کو معمولی سمجھنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر مسوڑھوں کی بیماری سے جڑے بیکٹیریا بعض پیچیدہ امراض کی شدت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔تحقیق میں Multiple Sclerosis (ایم ایس) نامی دائمی اعصابی بیماری پر توجہ دی گئی، جس میں جسم کا مدافعتی نظام اعصابی خلیات کے حفاظتی غلاف کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے باعث دماغ اور جسم کے درمیان پیغامات کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، اور مریض کو پٹھوں کی کمزوری، چلنے میں دشواری، توازن کی خرابی اور بینائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ماہرین نے تحقیق کے دوران ایم ایس کے مریضوں کی زبان سے نمونے حاصل کر کے ان میں موجود جراثیم کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جن مریضوں کے منہ میں Fusobacterium nucleatum نامی جرثومہ زیادہ مقدار میں پایا گیا، ان میں بیماری کی علامات زیادہ شدید تھیں۔محققین کے مطابق ایسے مریضوں میں دیگر نقصان دہ بیکٹیریا بھی موجود تھے، تاہم یہ خاص تعلق صرف ایم ایس کے مریضوں میں واضح طور پر دیکھا گیا، جبکہ دیگر بیماریوں میں ایسا اثر نمایاں نہیں تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری ایک دیرپا انفیکشن ہے، جو دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف دانتوں کے مسائل کا باعث بنتی ہے بلکہ دل کے امراض، ذیابیطس اور جوڑوں کی بیماریوں کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منہ کی صفائی اور مسوڑھوں کی صحت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا اثر صرف دانتوں تک محدود نہیں بلکہ مجموعی صحت، خصوصاً اعصابی بیماریوں کی شدت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا دلچسپ اور منفرد واقعہ رونما ہوا ہے جس نے لوگوں کو حیران کر دیا، گانے گا کر اپنے فن کا لوہا منوانے والے ریپر گلوکار نے اپنا گانا وائرل ہونے کے بعد وزیر اعظم بننے کے عہدے کا حلف اٹھایا۔نیپال میں نوجوان ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندرا شاہ نے شاندار انتخابی کامیابی کے بعد بطور وزیر اعظم حلف اٹھا لیا۔ 35 سالہ رہنما جنہیں بیلن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ملک کے کم عمر ترین وزیراعظم بن گئے ہیں۔صدر رام چندرا پاؤڈل نے انہیں باضابطہ طور پر وزیراعظم مقرر کیا جب ان کی جماعت راشٹریہ سوتنتر پارٹی نے 275 رکنی پارلیمنٹ میں 182 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی۔یہ انتخابات ملک میں بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے بعد منعقد ہوئے جنہوں نے سابق حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔حلف برداری کی تقریب میں بیلن اپنے منفرد انداز میں سیاہ لباس، روایتی ٹوپی اور چشمے پہن کر شریک ہوئے جس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔تاہم اصل دھماکہ اس وقت ہوا جب انہوں نے حلف سے ایک روز قبل اپنا نیا ریپ سانگ جے مہاکالی جاری کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا۔گانے میں وہ عوام کو امید اور خوشحالی کا پیغام دیتے نظر آئے جبکہ ویڈیو میں انتخابی مہم کے مناظر اور عوام کا جوش بھی دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کو چند ہی گھنٹوں میں لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔نئے وزیراعظم کے انتخاب پر چین نے بھی مبارکباد دی ہے اور نیپال کی خودمختاری کے لیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی نوجوانوں کی طاقت اور روایتی سیاست کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔

تہران: ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنوبی فارس میں ایک امریکی جنگی طیارہ ایف سکسٹین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی بیان کے مطابق مذکورہ طیارہ سعودی عرب کے ایک ایئربیس تک پہنچنے سے قبل ہی کریش ہو گیا تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔پاسداران انقلاب کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ فلسطین سمیت خطے میں امریکی اور اسرائیلی صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔دوسری جانب ختم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی شہر حیفا میں ایک اسٹریٹجک الیکٹرانک وارفیئر سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ذخائر پر بھی حملہ کیا گیا۔ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی صنعتی تنصیبات پر مزید حملے کیے گئے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ بڑے تصادم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر نو کنگز کے عنوان سے احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئیں، جن میں میڈیا رپورٹس کے مطابق 70 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جبکہ منتظمین کے مطابق ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ریاست مینی سوٹا میں ہونے والی بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام سے ایران جنگ کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس جنگ کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں پر امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے مگر اس کے برعکس انہوں نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ایران جنگ غیر آئینی ہے کیونکہ اس کے لیے کانگریس سے اجازت نہیں لی گئی، جبکہ اس تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی شہری جاں بحق ہوئے اور سیکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔سینیٹر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر خطے میں جنگ کو ہوا دی۔ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے باعث لبنان، مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں بھی انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد نے اینڈ دا وار اور نو کنگز کے نعرے لگائے، جبکہ کچھ مقامات پر اسرائیلی حکومت کے خلاف بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بزرگ افراد نے شرکت کی اور ایران جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز بھی امریکا کی مختلف ریاستوں میں مزید 3200 احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں اور منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک ثابت ہو سکتے ہیں۔

میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق میامی میں منعقدہ سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کو ابتدا میں یہ اندازہ نہیں تھا کہ انہیں ان کی تعریف کرنی پڑے گی، اور وہ انہیں سابق امریکی صدور کی طرح کمزور قیادت سمجھتے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اب سعودی ولی عہد کو ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا۔ ان کے اس بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ٹرمپ کے ان ریمارکس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے